Site icon المرصاد

راولپنڈی کے جرنیلوں کی تلوار داعش خوارج کے ہاتھ میں!

گزشتہ روز پشاور کے قریب ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں نامور عالمِ دین، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب کے بے رحمانہ قتل نے ایک بار پھر وہ پرانے زخم تازہ کر دیے جو امت کے اہل علم و فضل اور علمائے حق کے خون سے رنگین ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک مجرمانہ کارروائی نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی منصوبہ بندی کا تسلسل ہے جس کی جڑیں راولپنڈی سے سیراب ہوتی ہیں اور جس کا پھل خظے میں جنازوں کی شکل میں نکلتا ہے۔
۔
جب ہم داعش اور پاکستانی فوجی رجیم کے تعلق کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ داعش دراصل پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسیوں کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک انٹیلی جنس پراکسی ملیشیا ہے جسے ضرورت کے وقت ایسے اہداف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جنہیں فوج براہِ راست حاصل کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ راولپنڈی کے جرنیل چاہتے ہیں کہ اپنی تلوار داعشی خوارج کے ہاتھ میں تھما دیں اور ان کے ذریعے ان علماء کو ختم کریں جو عوامی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور حق کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم اس نوعیت کے جرائم کے لیے داعش کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے اور نہایت آسانی کے ساتھ اسے اپنے مذموم منصوبوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اس طرح کے اشتعال انگیز واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ داعشی گروہ راولپنڈی کے جرنیلوں کی براہِ راست نگرانی میں محفوظ طریقے سے نقل و حرکت کرتا ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے علاقوں میں جہاں سخت سکیورٹی نگرانی موجود ہو، داعش کے مسلح افراد آئیں، ایک بڑے عالم کو نشانہ بنائیں اور پھر بڑی آسانی سے غائب ہو جائیں؟

اگر داعش کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ گروہ دیگر باطل گروہوں کے مقابلے میں علماء کے قتل میں سب سے آگے رہا ہے۔ ان کے "سیاہ منہج” میں علم و آگہی کے مراکز سب سے پہلا ہدف ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک عالم تنہا ہزاروں نوجوانوں کو فکری گمراہی سے بچا سکتا ہے، اسی لیے وہ ان کے جسمانی خاتمے کو ترجیح دیتے ہیں۔

تاریخِ اسلام میں حتیٰ کہ تاتاریوں اور صلیبیوں کے ادوار میں بھی علماء کا ایسا منظم قتل نہیں دیکھا گیا جیسا کہ داعش کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ داعش کی یہ مجرمانہ کارروائیاں اور بے رحمانہ قتل اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گروہ اسلامی بنیادوں سے نہیں بلکہ بیرونی اور خفیہ ایجنسیوں کی ہدایات سے چلتا ہے۔ ان کے سیاہ منہج کی بنیاد یہ ہے کہ جو کوئی ان کے انتہا پسند اور خفیہ ایجنڈے سے اتفاق نہ کرے، اسے موت کی سزا دی جائے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب کے قتل نے اس حقیقت کو مزید مضبوط کر دیا ہے کہ پاکستان میں موجود داعشی عناصر اور اس ملک کی فوجی رجیم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ فوج چاہتی ہے کہ مذہبی رہنماؤں اور بااثر شخصیات کو منظر سے ہٹا دیا جائے تاکہ اس کے ظلم و جور کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کی جرأت نہ کر سکے، مگر فوج یہ مقصد جدید خوارج کے ذریعے حاصل کرتی ہے تاکہ اپنا دامن صاف رکھ سکے۔

خطے میں علماء کو نشانہ بنانا ایک منظم "انٹیلی جنس پراجیکٹ” ہے۔ جب تک داعش اور فوجی رجیم کے درمیان یہ ناجائز تعلق ختم نہیں ہوتا، خطے کے علماء اور اہل علم و فضل اسی طرح کے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب کی شہادت نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ خوارج کے ہاتھ میں تلوار کس کی ہے؟ اس فتنے کے خاتمے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم کے منصوبوں سے آگاہی حاصل کی جائے اور ان انٹیلی جنس پراجیکٹس کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہوا جائے۔

Exit mobile version