Site icon المرصاد

راہِ نجات؛ داعش کے فکری قیدیوں کو آزادی دلانے کے طریقے!

انتہاپسندی اور داعش جیسی تکفیری تنظیمیں آج کی دنیا کے سب سے پیچیدہ اور نازک مسائل میں سے ایک ہیں۔ مختلف وجوہات کی بنا پر بہت سے افراد ان گروہوں کی طرف مائل ہوتے ہیں، اور ایک بار شامل ہونے کے بعد ان کے لیے واپسی کا راستہ نہایت دشوار محسوس ہوتا ہے۔
یہ افراد دراصل سب سے پہلے فکری صفائی (Brainwashing) اور فکری تلقین کے شکار بنتے ہیں۔ لہٰذا ان کی بحالی اور عام زندگی کی طرف واپسی کے لیے مؤثر، عملی اور مدبرانہ حکمتِ عملیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کامیاب تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ منظم منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کے ذریعے ان افراد کی نجات ممکن ہے۔

ذیل میں داعش کے فکری قیدیوں کو آزاد کرنے کے چند اہم طریقے بیان کیے جا رہے ہیں:
۱۔ اسلامی افکار اور نظریات کی اصلاح:
داعش کے فکری قیدیوں کی اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ تعلیمی اور آگاہی پروگرام ہیں، جن کے ذریعے اسلامی تعلیمات کا درست فہم فراہم کیا جا سکتا ہے۔
ان میں سے بیشتر افراد دینی متون کی تحریف شدہ اور غلط تعبیرات سے گمراہ کیے گئے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ معتدل، بااعتماد اور مستند علماء کی مدد سے قرآن و سنت کی صحیح، منطقی اور متوازن تشریحات پیش کی جائیں۔

اسی طرح سوال و جواب کی علمی مجالس اور مکالماتی نشستوں کے انعقاد سے ان کے ذہنی ابہامات رفتہ رفتہ دور کیے جا سکتے ہیں اور ان کے عقائد و نظریات کو درست رخ پر لایا جا سکتا ہے۔

۲۔ تعمیری مکالمہ اور مؤثر رابطہ:
انتہاپسندی سے نجات کے لیے ایک بنیادی طریقہ یہ ہے کہ ان افراد کے ساتھ تعمیری مکالمہ اور ہمدردانہ رابطہ قائم کیا جائے۔
گفتگو میں منطق، صبر اور احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سخت یا تحقیر آمیز رویے صرف انتہاپسندانہ رجحانات کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ان کے فکری شبہات کو تحمل اور حکمت کے ساتھ دور کیا جائے، اور ٹھوس دلائل و مستند حوالوں کے ذریعے ان کی فکری غلطیوں کو واضح کیا جائے، تاکہ جب وہ حقیقت کو سمجھ جائیں تو اپنے گمراہ کن عقائد سے دستبردار ہو جائیں۔

۳۔ نعم البدل متعارف کروانا:
معتدل اور کامیاب مسلمان حضرات کی عملی مثالیں پیش کرنا انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ جب یہ افراد دیکھتے ہیں کہ معتدل راستے اختیار کرکے بھی وہ بابرکت اور بامعنی زندگی گزار سکتے ہیں؛ یعنی بغیر انتہاپسندی اور تشدد کے مؤثر سماجی و روحانی کردار ادا کر سکتے ہیں، تو انہیں اپنے انتہا پسندانہ عقائد ترک کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ تاریخی و معاصر شخصیات کی کہانیاں، جنہوں نے ایمان کے ساتھ ساتھ میانہ روی اپنائی، نہ صرف رہنمائی فراہم کرتی ہیں بلکہ تعمیری امید اور عملی متبادل بھی دکھاتی ہیں۔ ایسے نمونے ان افراد کے لیے قابلِ تقلید راہیں کھولتے ہیں اور ان کی واپسی کے عمل کو ہموار کرتے ہیں۔

۴۔ ماہرینِ نفسیات کے ذریعے خصوصی نفسیاتی معالجہ:
ایک اور کلیدی طریقہ کار اسپیشل نفسیاتی مشاورت اور علاج کی فراہمی ہے۔ بہت سے افراد ذاتی نفسیاتی مسائل؛ جیسے دُکھ، خود اعتمادی کی کمی، یا شناختی بحران کی وجہ سے یا زندگی کے بحرانوں میں مبتلا ہو کر انتہا پسند گروہوں کا دائرہ اختیار کرتے ہیں۔ ماہر نفسیات جب ان نفسیاتی جڑوں کی نشاندہی کر لیتے ہیں تو مخصوص مشاورت کے ذریعے ان مسائل کا علاج ممکن بناتے ہیں، جو بدلے میں انتہا پسندی سے چھٹکارے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ عراق و شام میں علمی و نفسیاتی طریقۂ کار کے استعمال سے داعش کے سابق ارکان کی بامعنی معاشرتی بحالی میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

۵۔ حمایتی نیٹ ورکس کا قیام:
ان افراد کے لیے ایسے حمایتی گروپس قائم کرنا جو پہلے انتہاپسندی میں مبتلا رہے ہوں اور اب عام زندگی کی طرف واپس آ چکے ہوں، بے حد مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ مشترکہ تجربات کی بنا پر یہ لوگ نئے شامل شدہ افراد پر بہتر اثر ڈال سکتے ہیں اور انہیں انتہاپسندی اور سخت نظریات چھوڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اسی طرح، روزگار اور فنی تربیت کے پروگرام بھی ان افراد کی عمومی زندگی میں واپسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بہت سے افراد غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے داعش میں شامل ہوئے تھے۔ مختلف ہنر سکھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے ان کے لیے روشن مستقبل کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا ہر ایک طریقہ کار دنیا کے مختلف گوشوں میں انتہاپسند گروہوں کے فکری قیدیوں پر آزمایا گیا ہے اور مثبت نتایج سامنے آئے ہیں۔

اگرچہ داعش میں ملوث افراد کی بحالی ایک مشکل عمل ہے، مگر منظم علمی منصوبہ بندی اور پختہ ارادے سے یہ ممکن ہے۔ تعلیمی، نفسیاتی، معاشی اور سماجی طریقوں کے امتزاج سے لاکھوں متاثرہ انسانوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے اور انہیں دوبارہ معاشرے کی آغوش میں لایا جا سکتا ہے۔

Exit mobile version