Site icon المرصاد

رمضان؛ اور پاکستانی فوجی رجیم کی ناقابلِ تلافی وحشت!

پاکستانی فوجی رجیم نے اپنی سیاہ ترین تاریخ کے طویل عرصے میں نہ صرف پاکستانی قوم کی خواہشات اور ضروریات کبھی پوری نہیں کیں، بلکہ ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ تشدد، درندگی اور تمام انسانی اصولوں کے برخلاف اقدامات کے ذریعے خود کو طاقتور ثابت کرے اور اپنے بیرونی آقاؤں سے داد و تحسین اور مراعات حاصل کرے۔

تاریخ اس حقیقت کی بھی گواہ ہے کہ اس فوجی نظام نے آج تک نہ اپنی سرزمین کو کوئی حقیقی قومی وقار بخشا اور نہ ہی اپنے عوام کو کوئی قابلِ فخر کامیابی نصیب کی۔ اس کے برعکس، اس نے ہمیشہ امریکہ، برطانیہ اور دیگر طاقتور ممالک کی خوشنودی اور مالی مفادات کے حصول کے لیے اپنے ہی شہریوں اور قومی اقدار کا سودا کیا۔ نتیجتاً، ملک کے اندر بے چینی اور عدم اطمینان کی سطح انتہا کو پہنچ گئی، جو تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بلوچ علیحدگی پسندوں) اور دیگر گروہوں کے ابھرنے کی صورت میں نمایاں طور پر ظاہر ہوئی۔

پاکستانی فوجی رجیم نہ صرف اس ملک کی داخلی سیاست کا، بلکہ اس کی خارجی پالیسی کا بھی سب سے بڑا دشمن ثابت ہوا ہے۔ اس نے عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کو ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو سوداگری، کرائے کے قتل اور پراکسی دہشت گردی سے منسوب ہو چکا ہے۔ اس کی حالیہ شرمناک مثال مظلوم غزہ اور وہاں کے بے بس عوام کے بجائے قابض اسرائیل کی حمایت کا اظہار ہے؛ ایک ایسا اقدام جسے کوئی بھی صاحبِ شعور اور سلیم الفکر انسان ہرگز درست قرار نہیں دے سکتا۔

یہ طرزِ عمل درحقیقت حیران کن نہیں، کیونکہ فوجی رجیم اور اسرائیل کی فطرت میں کوئی بنیادی فرق نہیں پایا جاتا۔ دونوں ایسے عسکری ڈھانچے ہیں جو کرائے کے جنگجوؤں اور خونریز عناصر پر مشتمل ہیں، جن کے پسِ پردہ مفاد پرست قوتیں، سرمایہ دار طبقات اور مخصوص عالمی لابیاں کارفرما ہیں، جن کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کے اتحاد اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

یہ عناصر نہ اصولوں کے پابند ہیں، نہ قوانین کے، اور نہ ہی کسی بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں۔ ان کا اصل ہدف صرف دولت کا حصول، ناجائز اقتدار کا استحکام اور عسکری توسیع پسندی ہے، جس کے لیے وہ ہر حد پار کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

فوجی رجیم نے اپنی تازہ ترین بربریت میں رمضان کے مقدس لمحات میں ننگرہار اور پکتیکا میں اندھے اور بے رحم آپریشن کیے، اور پوری دنیا نے دیکھا کہ یہ ایک جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ تھا۔ نہ کوئی غیر ملکی مسلح جنگجو ہلاک ہوا، نہ کوئی سرکاری یا ریاستی ادارہ تباہ ہوا، بلکہ دسیوں افغان شہری شہید کیے گئے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے۔

ننگرہار کے بہسود ضلع میں ایک عام شہری کے گھر پر کیے گئے حملے کی ویرانی اور اس کے آنسو ہر انسان دوست اور حساس دل کو دہلا دیتے ہیں۔ انسانی وجدان شاید شام کی تاریکی اور رمضان کے روزے میں اس درد اور فریاد کو برداشت نہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ فوجی رجیم کا یہ دعویٰ بھی ساتھ چلا کہ انہوں نے اپنے دشمن اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ افغانستان اب دہشت گردوں کا گھر نہیں، بلکہ فوجی رجیم کے اصلی دشمن افغان عوام ہیں۔ ایک طرف وہاں کے مجبور اور غریب پناہ گزین جبراً بے دخل کیے جاتے ہیں، ان کے گھر منہدم کیے جاتے ہیں، اور دوسری طرف ان کی سرزمین پر ایسے وحشیانہ حملے کیے جاتے ہیں جن کی کوئی بین الاقوامی قانون یا ضابطہ جواز نہیں دے سکتا۔

اگرچہ افغان وزارت دفاع نے واضح کیا کہ فوجی رجیم کی یہ کارروائیاں بلا جواب نہیں رہیں گی اور مناسب وقت پر ان کا جواب دیا جائے گا، یہ خبر افغان مجاہد عوام کے عزم اور یقین کی عکاسی کرتی ہے، لیکن پاکستانی عوام کو بھی سمجھنا چاہیے کہ امارتِ اسلامیہ اور افغان مظلوم قوم ہمیشہ حق کے داعی رہی ہے۔ کبھی بھی انہوں نے پاکستان کے خلاف غیر قانونی اقدام نہیں کیا، بلکہ یہ فوجی رجیم ہی ہے جس نے نہ اپنے عوام پر رحم کیا اور نہ ہی بیرونِ ملک پاکستان کے لیے کوئی اچھا نام چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ناپسندیدہ ہے اور کوئی بھی ملک اس کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتا۔

آج کا افغانستان وہ پرانا ملک نہیں رہا جس کا مقدر امریکہ اور نیٹو طے کریں یا جس کی حکومتی مشینری پوشیدہ یا ظاہری مفادات کے سبب ایسے اقدامات کے سامنے خاموش رہ جائے۔ موجودہ افغانستان آج گزشتہ ہر وقت سے زیادہ مضبوط ہے، اپنی دفاعی صلاحیت رکھتا ہے، مستقل موقف اور واضح نظریہ رکھتا ہے، اور یقیناً اپنا انتقام لے گا اور دفاع کی صلاحیت کو ہر حال میں محفوظ رکھے گا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ فوجی رجیم ابھی بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا، اپنی کمزوریاں اور غلط اقدامات کے نتائج دوسروں پر ڈال دیتا ہے، اور یہی وہ سیاست ہے جس سے پاکستان کی ماضی کی سیاہ تاریخ کبھی صاف نہیں ہو سکتی۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس فوجی رجیم نے اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بدعنوانی اور ناجائز سوداگری کی، اسلام کے نام کو بدنام کرنے کے لیے کسی بھی معاملے سے دریغ نہیں کیا۔ اس کے برعکس، افغان مسلمان قوم نے ہمیشہ اسلام کو اعلیٰ مقام دیا، اس پر کبھی سودا نہیں کیا، بلکہ قربانیوں اور شہادتوں کی طویل تاریخ رقم کرکے آزاد منش رہے۔

ہمیں یقین ہے کہ رمضان کی مبارک گھڑیوں خصوصا رات کے وقت شہید ہونے والے افغان بچوں اور خواتین کی چیخیں، فریادیں اور آنسو یقیناً رنگ لائیں گے، اور شہیدوں کی وارث امارتِ اسلامیہ ہر حال میں اپنے عوام کا دفاع کرے گی۔ ایک پشتو کہاوت ہے کہ ’’جب چیونٹی کی موت آتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں‘‘۔
اب ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی فوجی رجیم کے زوال کے دن قریب ہیں، اور الہی انصاف پاکستان کے عوام اور ان کرائے کے قاتلوں کے مابین حساب لے گا۔
پاکستانی عوامی حکومت، جو بظاہر اس ملک کی طاقت اور حکمرانی کی نمائندگی کرتی ہے، ذمہ دار ہے کہ وہ عوام کی آنکھوں میں مزید دھول نہ جھونکے۔ اسے واضح طور پر اعتراف کرنا چاہیے کہ یہ جنرل منیر اور امریکی خفیہ اداروں کے زیرِ اثر اور دباؤ میں زندگی گزار رہی ہے۔ یہ کٹھ پتلی حکومت اتنی کمزور ہے کہ اپنے ملک کے اندر عوام کی رہنمائی اور تحفظ کی صلاحیت نہیں رکھتی، مسائل اور حادثات کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالتی ہے اور اپنے لیے مصنوعی وقار تراشتے رہتی ہے۔

Exit mobile version