Site icon المرصاد

زخموں سے چور اُمت اور داعشی خوارج کا زہریلا مرہم!

حق اور باطل کے درمیان تصادم کے سلسلے میں اسلام ہمیشہ ایسی سازشوں اور خفیہ منصوبوں کا شکار رہا ہے جن کے نتیجے میں امت کے نیم مندمل زخم پھر سے ہرے ہوگئے۔ باطل کے پیروکار ہمیشہ ایسی راہیں اختیار کرتے ہیں کہ امت کی کمر ٹوٹ جائے یا کمزور پڑ جائے۔

جب حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اجتہادی اختلافات کا حل نکل آیا اور وہ اتفاق کی طرف بڑھ گئے، اور ابو موسی الاشعری اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو حکمران مقرر کیا گیا، تب باطل نے دوبارہ سر اٹھایا۔ اس نے سمجھ لیا کہ امت پھر استحکام کی طرف جارہی ہے، لہٰذا اس استحکام کو مٹانے کے لیے سرگرم ہوگیا۔ اس نے دین اسلام کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا، اس کا غلط مفہوم پیش کیا اور عوام کے سامنے یہ نعرہ بلند کیا: ’’لا حکم الا للہ‘‘۔

شاید وہ اپنے منحرف تصور کے مطابق اسے امت کے لیے خیر سمجھتے، مسئلے کا حل خیال کرتے، اور امت کے زخموں کے لیے مرہم سمجھتے ہوں، مگر یہ مرہم زہریلا ثابت ہوا اور زخم مزید تازہ ہوگئے۔

انہوں نے اسی نازک موقع پر، جب امت مصالحت اور اتفاق کی راہ پر گامزن تھی، بغاوت کی اور جماعت سے جدا ہوگئے۔ بعض علماء اس واقعے کو سراسر بغاوت و خروج کی بنیاد قرار دیتے ہیں؛ اس کے انفرادی مظاہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات بابرکات میں بھی موجود تھے، مگر اُس زمانے میں وہ اجتماعی طور پر حرکت نہیں کر پائے کیونکہ دورانِ وحی وہ عوام کی آنکھوں میں دھول نہیں ڈال سکتے تھے اور دینِ اسلام سے ایسا غلط تاثر قائم نہیں کر سکتے تھے کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کی تائید حاصل کر لیں۔

اس خروج کا سب سے بڑا اور خطرناک منفی اثر یہ ہوا کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ اور کئی جلیل القدر صحابۂ کرام کو کافر قرار دیا، ان کا خون بہانا حلال سمجھا؛ حالانکہ علی رضی اللہ عنہ اُن دس خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی تھی۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليٌّ في الجنة»
ترجمہ: علی جنت میں ہوں گے۔

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی فرمایا: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي.»
ترجمہ: میرے ساتھ تمہاری حیثیت وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
خوارج کا یہ گمراہ گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اُن کے راستے سے منحرف ہو چکا تھا، تو آپﷺ کے وصال کے بعد اُن کے انحراف کا واقع ہونا کچھ بعید نہیں تھا۔

آج کے داعشی خوارج دراصل انہی قدیم خوارج کی نئی شکل ہیں۔ جس طرح اُنہوں نے امامِ برحق کے خلاف خروج کیا اور جماعتِ مسلمین سے الگ ہو گئے تھے، اسی طرح موجودہ داعشی بھی برحق امارتِ اسلامیہ کا انکار کرتے ہیں اور تمام علماء و مجاہدین پر مشتمل اس کی قیادت کو نعوذباللہ مرتد قرار دیتے ہیں۔

جس طرح اُس وقت وہ تحکیم (فیصلہ سازی) کو تسلیم کرنے والوں کو کافر کہتے تھے، آج کی خارجی باقیات بھی امارت کے ہر پیروکار کو مرتد کہتے ہیں۔ اُس وقت بھی جب امت نازک مرحلے سے گزر رہی تھی، اُنہوں نے اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کی کوشش کی تھی اور آج بھی جب امت مشکلات کے باوجود استقامت کی راہ پر گامزن ہے اور امارتِ اسلامیہ کی قیادت کے زیرِ سایہ استحکام کی امید جاگ اٹھی ہے، یہ خوارجِ عصر پھر اپنی فطری خصلت کے سبب اُمت کی پیٹھ پر وار کرنا چاہتے ہیں تاکہ اسے ہمیشہ کے لیے زمین بوس کر دیں۔

اسلام کی تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جب بھی یہ دین عروج کو چھونے لگتا ہے اور امت استحکام و یکجہتی کی سمت بڑھتی ہے، خوارج کسی اغیار کے اشارے پر یا اپنے گمراہ فہمِ دین کے تحت اس عروج کی راہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنی اس شدت پسندی کے ذریعے وہ ربِ متعال کی رضا حاصل کر رہے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ ایک عظیم گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں؛ ابلیس نے اُن کے سامنے یہ راہِ کج انہیں خوشنما بنا کر پیش کی ہوئی ہے۔

Exit mobile version