خطے میں پاکستانی فوجی رجیم نے اپنے منافقانہ طرزِ عمل کے باعث گویا سیاہ بازار کی سیاست میں پہلا مقام حاصل کر لیا ہے۔ طویل عرصے سے وہ مشکل حالات میں بار بار امن کے وعدے دہراتا رہا ہے، مگر معمول کے حالات میں جنگ کے تسلسل کے لیے راستہ ہموار کرتا رہا ہے۔ چونکہ داعش جیسی وحشی تنظیم کو پاکستان میں وسیع اثر و رسوخ، مراکز اور محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، اس لیے جب بھی عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر سیاسی دباؤ بڑھتا ہے تو امن اور مفاہمت کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں؛ لیکن جیسے ہی حالات معمول پر آتے ہیں تو دوبارہ ڈیورنڈ کی فرضی لکیر کے ساتھ رہنے والے عام شہریوں پر ظلم اور اندھا دھند بمباریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس طرح کی بار بار دہرائی جانے والی دوہری پالیسی نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے عام لوگوں کے دلوں میں امن کے حوالے سے اعتماد کو کمزور کرتی ہے بلکہ ان کے ذہنوں میں یہ احساس بھی پیدا کرتی ہے کہ محض سیاسی نعرے عملی اقدامات کا متبادل نہیں ہو سکتے۔
اسی طرح پاکستانی فوجی رجیم کے اس منافقانہ کردار کو دیکھتے ہوئے بہت سے بااثر اور سیاسی رہنما بھی اس صورتحال سے حیرت اور الجھن کا شکار ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے حکمران حلقوں کی جانب سے بار بار امن کی بات کی جاتی ہے، مگر دوسری طرف جیسے ہی سیاسی دباؤ کم ہوتا ہے، ان دعوؤں کا انجام اکثر بے گناہ اور مظلوم افغانوں کی شہادت اور مظالم میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
پاکستانی حکومت کے بارے میں خطے کے باخبر ذرائع کی رپورٹس بھی یہی بتاتی ہیں کہ پاکستان ماضی سے ہی مسلح دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کی تاریخ رکھتا ہے؛ تاہم حالیہ عرصے میں اس نے مسلح گروہوں، بالخصوص داعش کی تربیت، مالی معاونت اور حمایت پر زیادہ توجہ دی ہے۔ جب پاکستان کی حکومت اپنی پراکسی جماعتوں کے ذریعے خطے اور دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالتی ہے تو ایسے حالات میں امن کی باتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ اسی لیے صرف سیاسی بیانات کافی نہیں بلکہ اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اس کے برعکس، امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ہمیشہ خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے نہ صرف اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ عالمی امن ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، اور اسی بنا پر امارتِ اسلامیہ نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خلوص اور دیانت پر مبنی تعلقات کے قیام کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان ہمارا واحد ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ہمارے پانچ دیگر ہمسایہ ممالک بھی ہیں، اور ان سب کے ساتھ مثبت تعامل کی بنیاد پر ہمارے خوشگوار تعلقات قائم ہیں۔ یہ تمام پانچوں ہمسایہ ممالک ہم سے مطمئن اور خوش ہیں، کیونکہ ہم کسی کے ساتھ دشمنی کے خواہاں نہیں۔ جس طرح ہمارے عزیز وطن میں امن قائم ہے، اسی طرح ہم پورے خطے میں بھی امن اور استحکام کے خواہاں ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے فوجی رجیم کا پروپیگنڈا صرف سیاسی الزامات کی زبان استعمال کرتا ہے۔ امارتِ اسلامیہ افغانستان کو بدنام کرنے کے لیے ایسے سطحی معاملات کو اچھالا جاتا ہے جن کا یا تو امارتِ اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یا وہ محض جھوٹے الزامات اور بے بنیاد افواہوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ اس معاملے میں امارتِ اسلامیہ کے بارے میں بیرونی پروپیگنڈا پر مبنی رپورٹوں کو نظرانداز کرے اور امارتِ اسلامیہ کے سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات کو سنجیدگی سے لے، کیونکہ وہی خطے اور دنیا کے امن و استحکام کی ضامن ہیں۔

