افغانستان کا پہاڑی محل وقوع دنیا کے بنے سنورے نقشے میں ایک ایسی خصوصیت رکھتا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے اور ایک افتخار عطا کرتی ہے۔ دشمنانِ اسلام نے بارہا کوشش کی کہ اس قوم کو جھکا دیں، توڑ دیں اور اپنے مقاصد اس پر مسلط کر دیں، مگر ایک بار بھی کامیاب نہ ہو سکے۔ اپنے ناپاک مقاصد کو وہ خود اپنے شکست خوردہ کندھوں پر اٹھا کر واپس لے گئے۔
چھیالیس سال قبل اس سرزمین پر کمیونزم کا عفریت ٹوٹ پڑا، اس سرزمین کے زمینی قبضے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمیونسٹ نظریات کو پھیلناے اور افغان عوام کو فکری طور پر غلام بنانے کی بھی کوشش کی، مگر انہیں ایسی عبرتناک ناکامی ہوئی کہ آج تک اس عفریت کی پیشانی پر سیاہ داغ ثبت ہے اور یہ اس کی تاریخ کا ایک شرمناک باب بن چکا ہے۔
انہوں نے ان لوگوں کے پہاڑ جیسے مضبوط عقائد کو نہیں پہچانا، نہ ان کی ایمانی پختگی کا اندازہ کیا۔ یہاں جیسے طرح سوویت یلغار زمینی طور پر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے شکست سے دوچار ہوئی، ویسے ہی فکری یلغار کے سامنے بھی علماء نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور اس فتنے کو پھیلنے نہ دیا۔
یہاں تک کہ سوویت قبضے سے قبل ہی یہ قوم علماء کی طرف سے کمیونسٹ حکومت کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار کر دی گئی تھی۔ ۱۶ مارچ ۱۹۷۹ء کو، ہرات کے عوام اور اسی صوبے کی ۱۷ویں ڈویژن کے مسلمان افسروں اور سپاہیوں کی طرف سے کمیونسٹوں اور ان کے روسی مشیروں کے خلاف قومی بغاوت کی گئی۔ یہ بغاوت اس قدر جوش و غضب سے شروع ہوئی کہ مختصر وقت میں ہرات شہر کے بیشتر علاقے قبضے میں لے لیے گئے اور قریب تھا کہ پورا صوبہ سقوط کر جاتا۔
یہ بغاوت تین دن تک جاری رہی اور اس عرصے میں بے شمار روسی مشیر اور ان کے کٹھ پتلی کمیونسٹ فوجی اور رہنما مارے گئے۔ مگر تین دن بعد وقت کے کمیونسٹ حکمرانوں اور ان کے روسی آقاؤں نے بغاوت کرنے والوں پر بڑی مکاری سے اپنی بندوقیں اور توپوں کا رخ موڑ دیا اور ہزاروں مسلمان مجاہدین کو شہید کر دیا۔
اسی طرح علماء نے منبروں، مدارس اور عوامی مقامات سے اس فتنے کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا، لوگوں کو اس عظیم فتنے کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا، انہیں کمیونزم کے خطرات سے خبردار کیا اور لوگوں کے ذہنوں کو اس فتنے کے خلاف متحد اور متحرک کر دیا۔
اس دوران افغانستان کی فضا میں دھوئیں اور گرد کے بادل چھائے ہوئے تھے، سوویت یونین کی پوری طاقت مصروف تھی، افغانوں کے مٹی کے گھروں کو تباہ کیا جا رہا تھا، مگر علماء نے ان نہایت کٹھن حالات میں بھی مدارس زندہ رکھے، اس فتنے کے خلاف فکری رہنما تیار کیے تاکہ وہ عوام کے درمیان سرگرم رہیں اور ان کے ذہنوں کو کمیونزم کی باطل نظریے سے محفوظ رکھیں۔ یہ چند مثالیں ہیں کہ کس طرح اس فکری یلغار کے مقابل افغان علماء اور دانشوروں نے وسائل کی کمی کے باوجود قوی جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں الحمد للہ یہ فتنہ ناکام رہا۔
مگر عام عوام بھی خاموش نہیں بیٹھے تھے۔ جس طرح ان کے آبا و اجداد کی تاریخ ہے، اسی طرح ان کی اولاد نے بھی کمر کس لی، گھروں سے نکلے اور سرخ لشكروں کے مقابل مورچے سنبھال لیے۔ مشرقی صوبوں اور کابل سے یہ مزاحمت شروع ہوئی اور پھر پورے افغانستان میں پھیل گئی۔ سوویت یونین چاہتا تھا کہ افغانستان میں کمیونزم مضبوط ہو جائے، ایک لاکھ تیس ہزار فوجی قبضے کے ارادے سے آئے تھے، مگر اس قوم نے انہیں اجازت نہ دی۔ پندرہ لاکھ شہداء پیش کیے، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے، مگر اس سیلاب کو روک لیا، اس کے آگے بند باندھ دیا۔
لوگ خود جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، یا تو مجاہدین کو کھانا فراہم کرتے، اسلحے کی ترسیل میں مدد کرتے۔ سفید ریش بزرگ اور بزرگ خواتین اپنے بچوں کو جہاد پر ابھارتیں، ان کی کمر کستیں، انہیں غیرت و حمیت کے مفاہیم سکھاتیں، نیک بزرگوں اور باپ داداؤں کی داستانیں سناتیں۔ یہی نوجوان تھے جو سوویت کے زنجیر دار ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے اور نہتے ان مضبوط جنگی آلات سے ٹکرا گئے، اور آخر کار ربِ متعال نے انہیں فتح عطا فرمائی۔
سوویت استعمار تو یہاں جمادات اور نباتات کی طرف سے بھی ذلیل ہوا، ہر جھاڑی اور چٹان مجاہد کو پناہ دیتی تھی، جو اچانک کسی چٹان یا جھاڑی کے عقب سے ابھرتا اور کئی روسی فوجیوں کی جان لے لیتا۔ اس دس سالہ جہاد کی کامیابی اگر ایک طرف افغان قوم کے فولادی عزم کا نتیجہ تھی، تو دوسری طرف ایک مسلسل کرامت بھی تھی جس کا تصور دنیا نے پہلے کبھی نہ کیا تھا۔ مگر دنیا کہاں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہر چیز پر غالب ہے۔

