منگل کے روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک طویل پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں انہوں نے ذرائع ابلاغ کے متعدد نمائندوں کو مدعو کیا تھا اور انہیں بریفنگ دی گئی۔ عموماً ایسی پریس کانفرنسز میں فوج کا ترجمان ملک میں امن و امان اور اس سے جڑے مسائل کے بارے میں ملک و ملت کو آگاہی فراہم کرتا ہے اور قوم کے سوالات کے جوابات دیتا ہے۔ میڈیا نمائندے قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے کچھ باتیں سامنے رکھتے ہیں، پھر ان کے جوابات حاصل کر کے اطمینان سے عوام کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ ایسی نیوز کانفرنسز میں فوجی ترجمان سیاسی قیادت اور ملک کی برسر اقتدار انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرتا ہے اور اس کے تحت چلنے والے سیٹ اپ پر اتفاق کا اظہار کرتا ہے اور یوں ظاہر کرتا ہے گویا وہ اسی انتظامیہ کے تحت ہی چل رہا ہے۔۔
لیکن اس بار پریس کانفرنس کے دوران فوجی ترجمان نے جو لب و لہجہ اپنایا، اور جس انداز سے گفتگو کی، اس سے ایک لمحے کے لیے بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی معتبر ادارے کا ترجمان ہے۔ اس کے ایک ایک لفظ اور انداز سے یہ تاثر ملتا تھا کہ جیسے وہ کسی گلی کا لوفر اور لفنگا ہی ہو، جسے اگر شریعت کے بارے میں کچھ کہہ دیا جائے تو وہ فوراً چڑھ دوڑے، اصل شرعی حکم میں اسے اپنا ذاتی گھاٹا نظر آتا ہے، اسی لیے وہ اپنی شیطانی صلاحیت کی بنا پر فوراً خود ساختہ باتوں کو شرعی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے اور انہیں ایسے انداز میں پیش کرتا ہے کہ اس کی غنڈہ گردی تو دور سے نظر آتی ہے لیکن ڈھنگ اس میں کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی اس کی غلط حرکتوں کی نشاندہی کرے تو وہ بلا تاخیر اسے منافقین مدینہ کی طرح ٹوک دے گا کہ جی ہمیں غلط کہہ رہے ہو؟ ہمارے کاموں پر تمہیں اعتراض ہے؟ ہم تو یہ سب کچھ دوسروں کی اصلاح کے لیے کر رہے ہیں۔
اگر کوئی پورے ادب اور احترام کے ساتھ یہ سمجھانے کی کوشش کرے کہ تم پر فلاں فلاں ذمہ داریاں ہیں جو تم ادا نہیں کر رہے، تو اس کا غصہ دیکھنے کے لائق ہوتا ہے کہ جو درست بات بھی بگاڑ دیتا ہے۔
اب اسی تناظر میں کل کی پریس کانفرنس کو ہی دیکھ لیجیے۔ فوجی ترجمان ایک طرف خود کہتا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں، لیکن اسی مجلس میں چار کروڑ آبادی والے صوبے کی ایک سیاسی جماعت اور اس کی قیادت پر کس طرح سے جرح کر رہا ہے؟ایسا لگتا ہے جیسے وہ سیاسی جماعت فوج کی سیاسی حریف ہو اور انتخابات کا مرحلہ درپیش ہو؛ اور یہ فوجی ترجمان نہیں بلکہ کسی مخالف سیاسی جماعت کا شعلہ بیان لیڈر ہو، جو عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے دوسرے سیاسی لیڈروں کی باتیں ایک ایک کر کے اسکرین پر دکھاتا ہے اور پھر گلی کوچوں کے لفنگوں کی طرح لعن طعن کرتا ہے۔ جب کوئی صحافی ایسا سوال کرتا ہے جو حقائق پر مبنی اور زمینی صورتحال کی درست عکاسی کرتا ہو، تو جواب دینے کے بجائے ترجمان صاحب کا پارہ چڑھ جاتا ہے اور جو اول شول منہ میں آتا ہے بول دیتا ہے۔ دہشت گردی کے بارے میں اگر کوئی کچھ کہنے کی جسارت کر لے اور ترجمان صاحب کو یاد دلائے کہ اس حوالے سے آپ نے اپنا فریضہ کس حد تک سرانجام دیا ہے، تو ترجمان رعب ۔جھاڑتے ہوئے بے تُکی باتیں شروع کر دیتا ہے اور اپنی ذمہ داری میں غفلت کا سارا ملبہ یا تو دوسرے ممالک پر ڈال دیتا ہے یا پھر اپنے ہی ملک کے سب سے پاپولر لیڈر کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا لیتا ہے۔
ترجمان کہتا ہے کہ قوم کے بچے بچے کو پتہ ہے کہ دہشت گردی کہاں سے آتی ہے، لیکن اسی وقت لائیو پروگرام میں قوم کے بچے جو کمنٹ کرتے ہیں اور ترجمان صاحب کو یاد دہانی کراتے ہیں، دہشت گردوں کے ٹھکانے بتاتے ہیں، ان پر ترجمان مکمل ڈھیٹ بنا رہتا ہے اور گلی محلے کے نسلی غنڈوں کی طرح بات کو لاپروائی سے ٹال دیتا ہے۔
۔
ایک صحافی اٹھ کر سوال کرتا ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ راستے بند کرنے کے باعث ملک اور قوم کو جو نقصان ہوا ہے وہ نہ صرف ناقابلِ تلافی ہے بلکہ ایک قومی بحران کو جنم دے رہا ہے، اور جب یہ بحران شدت اختیار کرے گا تو اس کا روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس پر ترجمان صاحب انتہائی لوفر انداز میں کہتا ہے کہ نہیں جی، دروازے بند رکھنے سے تو فائدہ ہو رہا ہے۔ اب ایک طرف پورا ملک، کسان اور تاجر برادری یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ نقصان ہو رہا ہے اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ترجمان کہتا ہے کہ نہیں جی یہ تو فائدہ ہے۔ اب ظاہر ہے فائدہ تو ترجمان صاحب ہی کو ہے، کیونکہ گلی کے لچے لفنگے کو تو شرارت سے ہی روزی روٹی ملتی ہے۔۔
ترجمان صاحب کو پڑوسی حکومت کی بھی بڑی فکر لگی ہوئی تھی۔ اس نے پڑوسی حکومت کے ڈھانچے سے لے کر اس کی ہر ہر پالیسی کی بھی تشریح کی اور اس پر قدغن لگانے کی بھی ہر ممکن کوشش کی۔ لب و لہجے اور باڈی لینگوئج سے لگ رہا تھا جیسے پاگل ہو رہا ہے ہوں۔ اس پر جب کوئی سوال کرتا ہے کہ اسی پڑوسی حکومت کے اقتدار میں آنے پر تو آپ نے جشن منایا تھا تو اب یہ شور شرابہ چہ معنی دارد؟ اس سوال پر تو ترجمان صاحب واقعی پاگل ہو گئے اور ایسی مغلظات بکیں کہ کسی معتبر ادارے کا ترجمان تو کیا، سڑک کنارے کھڑا ایک مراثی بھی ایسا کرنے سے شرمائے۔ تاہم ماہرینِ فن کا کہنا ہے کہ ترجمان صاحب نے یہ سب اس لیے کیا تاکہ کسی بھی قیمت پر پڑوسی حکومت کو بدنام کیا جائے، خواہ اس کے لیے انہیں خود کس حد تک ہی کیوں نہ گرنا پڑے وہ اس کے لیے تیار اور آمادہ ہیں۔
لیکن سوال پھر بھی اپنی جگہ باقی ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ وہ کیوں زبردستی اپنی مسلمان عوام کو ایک پڑوسی مسلمان ملک کے خلاف بھڑکا رہا ہے؟ یہ زبردستی کی دشمنی پیدا کرنے کی آخر کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جس ادارے سے یہ ترجمان وابستہ ہے، اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک اس نے کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ کارنامہ تو دور کی بات، اس نے ہمیشہ اپنی ہی قوم کا خون چوسا ہے، قدم قدم پر قتل و غارت، گرفتاری و پکڑ دھکڑ اور طرح طرح کے تشدد میں ملوث رہا ہے۔
اسی وجہ سے ملک اور قوم میں اس ادارے کے خلاف اجتماعی نفرت پائی جاتی ہے۔ فوج کا نام آتے ہی سب سے پہلے ذہن میں ظلم و وحشت کی داستانیں آتی ہیں۔ اس نفرت کا نتیجہ کبھی کبھی یہ نکلتا ہے کہ عوام غصے میں آ کر فوج کا ایسا کڑا احتساب کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں کہ اس کا سب کچا چٹھا کھل جائے۔ اس سے بچنے اور خود کو بہادر ظاہر کرنے کے لیے فوج کبھی ایک ڈرامہ رچاتی ہے اور کبھی دوسرا۔ ایک طرف وہ اپنے شور شرابے سے عوام کو ڈراتی ہے اور دوسری طرف لچے لفنگوں کا لب و لہجہ اختیار کر کے دوسوں کو اپنی اصلیت سے آگاہ کرتی ہے۔
لیکن یہ ساری غنڈہ گردی صرف اپنوں کو دبانے کے لیے ہے۔ اس گروہ میں اسرائیل کی وہ بیماری بھی در آئی ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کی تذلیل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی عوام بھی ہمیشہ ذلیل رہے، تاکہ ان کی توجہ اس ٹولے کی جانب نہ ہو بلکہ اپنی ہی مشکلات میں الجھے رہیں۔ اس طرح یہ لوگ عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہیں۔ پڑوسی ممالک، خصوصاً افغانستان میں اگر ہر وقت ہلچل مچی رہے تو انہیں یہی پسند ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک طرف وہ دنیا سے مختلف ناموں پر پیسے بٹورتے ہیں اور دوسری طرف اپنی عوام کے سامنے ہمدردی کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ مگر اب دنیا بھی سمجھ چکی ہے، عوام بھی باخبر ہیں اور خود اس ٹولے پر بھی حقیقت عیاں ہو چکی ہے؛ اسی لیے اب انہوں نے غنڈہ گردی، شور شرابے اور پاگل پن کا سہارا لے رہا ہے۔

