امارت اسلامیہ افغانستان کے انٹیلی جنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، الحاج تاج میر جواد صاحب حفظه اللہ کی نئی تقریر سنی۔ یہ تقریر انہوں نے گزشتہ روز پکتیا کے ضلع سید کرم میں شہداء کی یاد میں منعقدہ ایک عظیم الشان جہادی اور عوامی اجتماع میں کی۔
تقریر تقریباً 20 منٹ کی ہے، جو موجودہ وقت کے تناظر میں بہت اہمیت اور قدر کی حامل ہے، کیونکہ یہ تمام پہلوؤں کا واضح جواب ہے۔
میں اس کے بارے میں زیادہ نہیں لکھتا، کیونکہ یہ تقریر ہمارے تجزیے اور رائے سے بالاتر ہے۔ یہ ایک ایسی تقریر ہے جو امارت اسلامیہ کے ایک رہنما کی امارت کے نظریاتی، دینی، تاریخی، عسکری اور نفسیاتی پہلوؤں کے گہرے ادراک اور پختہ تعبیر پر مبنی تقریر ہے، جس کے لیے اسی طرح کے تجزیہ کار کی ضرورت ہے۔
بہرحال! موجودہ وقت کی اہمیت کے پیش نظر مجھے مجبوراً اپنے سطحی خیالات اور سادہ اندازِ تحریر کے ذریعے کوشش کرنی پڑ رہی ہے کہ اس تقریر کے اہم حصوں کو الگ الگ پیراگرافس میں تقسیم کروں اور پھر ہر پیراگراف کو دینی، تاریخی، عسکری اور نفسیاتی جنگ کے فریم ورک میں رکھ کر اس میں موجود پیغامات کو واضح کروں۔
پہلا پیراگراف
"اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج ہم اور آپ ایک باعزت اجتماع میں اور جہاد و جدوجہد کے ایک مستحکم مورچے میں شریک ہیں اور یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔”
تقریر کا یہ حصہ اللہ جل جلالہ کے شکر پر مشتمل ہے، جو کہ ایک اسلامی اصول ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر چیز اللہ کی عطا ہے۔ پھر "جہاد، جدوجہد اور مورچہ” کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ انتہائی بلند دینی اقدار ہیں اور مسلمانوں کے دفاع اور دین کی سربلندی کے لیے جہاد سب سے اہم اور بہترین عمل ہے۔
یہ اصطلاحات ماضی کی ان جدوجہدوں کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو ہمارا دینی اور تاریخی ورثہ ہیں اور مجاہدین کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ آپ ایک "مقدس” مشن میں ہیں اور اس پر رہنا چاہیے۔ یہ ایک مجاہد کے لیے فکری استقامت کو مضبوط کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اجتماع کو "مورچہ” سے تشبیہ دی گئی ہے، جو ایک مضبوط علامت ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ صرف ایک سادہ اجلاس نہیں بلکہ ایک اہم جدوجہد ہے، یہ کوئی معمولی فکری یا سماجی سرگرمی نہیں بلکہ اسے عسکری حیثیت حاصل ہے، جسے عسکری محاذ کی طرح اہمیت دی جانی چاہیے۔
دوسرا پیراگراف
"ہمارے اور آپ کے باپ دادا نے سوویت، انگریزوں اور دیگر جارح اور جابر سلطنتوں کے ساتھ لڑائیاں کیں اور اس طرح انہوں نے ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے افغانستان کی بقا کو یقینی بنایا۔”
تقریر کا یہ حصہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری لڑائیاں اور جدوجہد قومی نہیں بلکہ دینی تھیں، جن کا بنیادی اور مقدس مقصد اسلام کے مقدس دین اور مسلمان قوم کے پاکیزہ تشخص کی بقا تھا۔
انگریزوں اور سوویت یونین کے قبضے کے خلاف جدوجہد کا ذکر افغان جدوجہد کے عظیم الشان تاریخ کی طرف اشارہ ہے، جو نسلوں کے درمیان تسلسل کے احساس کو مضبوط کرتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ آج کی جدوجہد اور جہاد ہماری ماضی کی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی دوبارہ غلطی دہرائے گا تو یہ تسلسل جاری رہے گا، کیونکہ جہاد اور جدوجہد ہمارا دینی اور قومی تشخص ہے۔
تیسرا پیراگراف
"شہادت کے ذریعے ایک مسلمان یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے لیے اسلام ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے…”
تقریر کا یہ حصہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس جذبے (شہادت) کی قدر کے گرد گھومتا ہے اور کئی نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اسلام کے لیے اپنی جان قربان کرنا سب سے بلند قدر ہے، جس سے مجاہد کو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ جہاد اور شہادت کے درمیان تعلق کو واضح کرتا ہے۔ اسی طرح ان مجاہدین کی قربانیوں کی قدر و اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور تاریخ کے صفحات میں اسلامی اقدار کی پائیداری کی علامت بن گئے۔
اسی طرح یہ تمام دشمنوں کو جو ناپاک عزائم رکھتے ہیں، ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ آپ کا مقابلہ ایسے لوگوں سے ہے جو دنیا پر نہیں بلکہ موت کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔
یہ جدوجہد کرنے والوں کے لیے سب سے مضبوط اخلاقی سہارا ہے، کیونکہ وہ عسکری قوت جو موت سے نہیں ڈرتی، اسے شکست دینا مشکل ہے۔
چوتھا پیراگراف
"یہ شہادتوں کی سرزمین ہے… یہ سروں کے نذرانوں کی سرزمین ہے۔”
تقریر کا یہ حصہ اس وطن کی عظیم الشان تاریخ کا ذکر کرتا ہے اور جدوجہد کی تقدیس کو بیان کرتا ہے، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ سرزمین اللہ کی راہ میں سروں کی قربانی کا اعزاز رکھتی ہے اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم اپنی اقدار اور ان کے دفاع کے لیے قربانیوں سے دریغ کریں گے۔
اسی طرح تقریر کا یہ حصہ ایک تاریخی فریم ورک پیش کرتا ہے کہ اس سرزمین کا تحفظ ہمیشہ قربانیوں سے کیا گیا ہے اور افغان افتخار، آزادی، اور نہ جھکنے کا پیغام دیتا ہے، اور اپنی فوج کو پیغام دیتا ہے کہ آپ ان قربانیوں کے وارث ہیں اور ہر ظالم و جابر کے سامنے اسی راستے پر آپ کو چلنا ہے۔
پانچواں پیراگراف
"ہمارے اور آپ کے دشمنوں نے جب سخت شکست کھائی تو انہوں نے فکری اور نفسیاتی جنگ کی طرف رخ کیا۔”
اس حصے میں دشمنوں کے ساتھ جدوجہد کا ایک اور اہم باب بیان کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر ہمارے دشمن عسکری جنگ میں ناکام ہوئے تو وہ اب نفسیاتی جنگ میں مصروف ہیں۔ یہ ایک طرح کا ٹیکٹیکل اشارہ بھی ہے کہ ہر طاقت عسکری شکست کے بعد لازماً فکری حملہ کرتی ہے، لہٰذا پروپیگنڈے کے اثر سے بچنا چاہیے اور فکری جدوجہد پر پوری توجہ دینی چاہیے۔
چھٹا پیراگراف
"واللہ العظیم، مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس شرعی نظام کے تحفظ کی راہ میں ذرہ ذرہ ہو جاؤں…”
تقریر کا یہ حصہ بہت دلچسپ ہے۔ یہ قسم اور عہد کی تجدید صرف قسم نہیں بلکہ عوام اور ساتھیوں سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری، شہادت کی خواہش، نظام کی بقا، استحکام، دوام اور اسلامی احکام کے نفاذ کے بارے میں ان کے پختہ موقف کی عکاسی ہے۔ یہ دینی شدت ایک مضبوط ایمان کی بڑی نشانی سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح یہ عہد اور قسم ان کے رہنما کے اصل تشخص کو ظاہر کرتی ہے کہ اگر اپنے آپ کو ذرہ ذرہ کرنا پڑے تب بھی وہ اپنے راستے سے نہیں ہٹیں گے اور دشمن کو پیغام دیتے ہیں کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے رہنما بھی اپنی قربانی دینے کو تیار ہے اور ساتھیوں کو کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ قربانی کی پہلی صف میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔
ساتواں پیراگراف
"ہم ہر اس چیز کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہوں گے جو ہمارے نظام کی بقا اور استحکام کو چیلنج کرتی ہے…”
تقریر کا یہ حصہ ایک بہت اہم بات واضح کرتا ہے کہ امارت اسلامیہ ایک مکمل اسلامی نظام ہے، وضعی نظاموں اور ان کے نظریات کے مقابلے میں سخت موقف رکھتا ہے اور اس نظام کے خلاف ہر قسم کی کوشش کو دشمنی، حملہ اور بقا کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا۔ یہ سب کو پیغام دیتا ہے کہ اس نظام کے دفاع، استحکام اور نفاذ کے سلسلے میں کسی داخلی یا خارجی دباؤ کے سامنے جھکیں گے نہیں اور ہر خطرے کا مضبوط اور طاقتور جواب دیں گے۔
آٹھواں پیراگراف
"یہ کہ آپ کے جوانوں، آپ کے بیٹوں اور آپ کے دل کے ٹکڑوں کو اللہ تعالیٰ نے شہادت کے لیے منتخب کیا تھا…”
تقریر کے اس حصے سے تمام چلے جانے والے ساتھیوں اور ان کے وارثوں کے لیے دردِ دل اور غم واضح ہوتا ہے، لیکن پھر بھی تسلی کے لیے شہادت کو انتخاب کی تعبیر میں سمیٹا گیا ہے اور اسے اللہ کی رضا اور اس کے انتخاب سے جوڑا گیا ہے، جو ایک مضبوط دینی بنیاد کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح یہ شہداء کے وارثوں کو نفسیاتی تسلی دیتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور ان کے تعاون کی اہمیت کو بیان کرتا ہے، کیونکہ یہ مسلسل عسکری حمایت کی ضمانت دیتا ہے۔
نواں اور آخری پیراگراف
"آئیں کہ ہم امارت اسلامیہ اور عالی القدر امیر المؤمنین حفظه اللہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں…”
تقریر کا یہ حصہ "امیر المؤمنین” کی اطاعت کے لیے واضح الفاظ میں عوام کو بلانے پر مشتمل ہے، جو دینی طور پر لازم سمجھا گیا ہے اور امارت اسلامیہ کے استحکام کی علامتی شکل ہے۔
اسی طرح یہ سب کو امارت اسلامیہ کے اتحاد اور اطاعت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہر قسم کے بیرونی پروپیگنڈوں اور نظریات کے اثرات کے خلاف عوام کے "ذہنوں” کی حفاظت اور وحدت کی پالیسی کو بیان کرتا ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ اطاعت ہر عسکری ڈھانچے کی بقا کے لیے لازم ہے۔

