Site icon المرصاد

شہادتِ ہنیہ کی پہلی برستیؓ شہداء کے ساتھ تجدیدِ عہد!  

امت مسلمہ کے مجاہد، باہمت اور بہادر رہنما، اسماعیل ہنیہ رحمہ اللہ کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر، ان کی یاد دلوں کی گہرائیوں میں ایک چمکتے دیے کی طرح، ہر لمحہ روشن اور تابندہ ہے۔

ایک سال قبل اسی دن، فلسطینی مزاحمت کے یہ علمبردار، اگرچہ اجنبیت اور مظلومیت کی حالت میں تھے، لیکن پختہ عقیدے اور بلند عزم کے ساتھ شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے اور اسلامی تاریخ کے عظیم شہداء کے ساتھ جا ملے۔

اسماعیل ہنیہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ حقیقی مجاہدانہ زندگی کی زندہ مثال تھے۔ وہ جوانی سے ہی حماس کی مزاحمتی صفوں میں شامل رہے، صہیونی زندانوں کی سختیاں، طویل جلا وطنیاں اور اپنے خاندان کے درجنوں افراد کی شہادت برداشت کی، لیکن کبھی بھی مسجد اقصیٰ کی آزادی کے راستے سے پیچھے نہ ہٹے۔

ان کی زندگی نے یہ حقیقت ثابت کی کہ آزادی کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور یہ قیمت ان پاک روحوں کی قربانی سے ادا کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جانیں نذر کرتے ہیں۔ ہنیہ کی شہادت نے امت مسلمہ کے دلوں کو گھائل کیا، لیکن ساتھ ہی اس نے امت کے مجاہدین کو نئی روح اور تازگی عطا کی۔ ان کا خون، اسلامی تاریخ کے دیگر شہداء کے خون کی طرح، فلسطین کی تحریک کو مزید قوت اور استحکام بخشتا ہے۔

آج، اس ظالمانہ جرم کے ایک سال بعد، فلسطین کی قوم اور دنیا کے آزاد انسانوں نے جہاد اور آزادی کے علم کو نئے عزم کے ساتھ بلند کیا ہے۔ اگرچہ صہیونی رژیم یہ سمجھتی تھی کہ ہنیہ کی شہادت سے فلسطینی مزاحمت کی صفیں کمزور ہو جائیں گی، لیکن ان کے خون نے الہی سنت کے مطابق دلوں کو مزید متحد کیا اور ایمان کے شعلوں کو اور روشن کر دیا۔

اسماعیل ہنیہ نے اپنی آخری تقاریر میں اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ تحریک جس کے رہنما امت کی عزت کی راہ میں شہید ہو جائیں، کبھی شکست نہیں کھائے گی۔

ہاں! تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے، جیسے ابتدائے اسلام کے شہداء کے خون نے اسلام کو مضبوط کیا اور افغانستان کے مجاہد رہنماؤں کی شہادت اسلامی نظام کے قیام کا باعث بنی، اسی طرح ہنیہ کا پاکیزہ خون بیت المقدس کی فتح اور فلسطین کی آزادی کی نوید لاتا ہے۔

یہ برسی صرف ایک سانحے کی یاد دہانی نہیں، بلکہ شہداء کے ساتھ تجدیدِ عہد ہے۔ امت مسلمہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عزت اور آزادی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ جیسے بہادر ہنیہ نے غربت، دکھ اور محرومی کے باوجود ثابت قدمی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کبھی سر نہ جھکایا، آج ہمیں بھی مظلوم فلسطین، بالخصوص غزہ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اس عَلم کو گرنے نہ دینا چاہیے جو شہداء نے بلند کیا۔

اے پروردگار! شہید اسماعیل ہنیہ اور اس راہ کے تمام شہداء کا خون امت مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور استحکام کی مشعل بنا دیں اور وہ دن قریب کر دیں جب مسجد اقصیٰ اور پورا فلسطین صہیونی قبضے سے آزاد ہو جائے۔

یقیناً، اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ شہداء کا خون کامیابی کا راز ہے، اور ایک روشن مستقبل امت مسلمہ کا منتظر ہے، وہ مستقبل جب علمِ توحید بیت المقدس کے مینار پر لہرائے گا، ان شاء اللہ۔

Exit mobile version