Site icon المرصاد

شہید اسماعیل ہنیہ: جہاد اور مزاحمت کی علامت!

آج فلسطین اور دنیا بھر کے آزادی پسند فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے عظیم رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی پہلی برسی منا رہے ہیں۔ اس بہادر اور پر اثر شخصیت کی شہادت کو ایک سال گزر چکا ہے، لیکن ان کی یادیں اب بھی لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ و پائندہ ہیں۔

 

اسماعیل ہنیہ 1963 میں غزہ کے الشاطی کیمپ میں پیدا ہوئے۔ مہاجر کیمپوں میں سخت زندگی نے انہیں بچپن سے ہی فلسطین کے درد اور مصائب سے آشنا کیا۔ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے عربی ادب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، وہ مزاحمتی تحریک میں شامل ہوئے اور آہستہ آہستہ اس تحریک کے ایک کلیدی کردار بن گئے۔

 

ہنیہ کی قیادت کا دور غزہ کی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک تھا۔ 2006 میں فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں حماس کی فتح کے بعد، وہ فلسطینی حکومت کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ تاہم، یہ فتح سخت عالمی پابندیوں اور غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے ساتھ آئی۔ ایسی صورتحال میں ہنیہ نے ثابت کیا کہ وہ مزاحمت اور جدوجہد کے ایک سچے فرزند ہیں۔

 

ہنیہ کی سب سے بڑی خصوصیت عوام سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ انہوں نے کبھی خود کو عوام سے الگ نہیں کیا۔ محاصرے کے سخت حالات میں بھی وہ عوام کے ساتھ رہے اور تمام دباؤ کے باوجود انہوں نے مزاحمت کا جذبہ کبھی نہیں چھوڑا۔ ان کی پرجوش تقاریر، جو غزہ ٹیلی ویژن سے نشر ہوتی تھیں، محصور عوام کے لیے امید اور حوصلہ کا ذریعہ تھیں۔ شہید ہنیہ کے خاندان کے کئی افراد، بشمول ان کے 10 بچوں اور پوتوں پوتیوں کے، صہیونی اسرائیلی رژیم کے حملوں میں شہید ہوئے۔

 

فلسطینی نوجوان نسل کے لیے ہنیہ کی زندگی سے حاصل ہونے والے اہم اسباق میں سے ایک اتحاد کی اہمیت ہے۔ وہ ہمیشہ فلسطینی گروہوں کے اتحاد پر زور دیتے تھے اور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ صرف اتحاد کے ذریعے صہیونی دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ پیغام آج پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور فلسطین کی اسلامی مزاحمت کی کامیابی کا واحد راز ہے۔

 

ہنیہ نے عالمی سطح پر فلسطینی عوام کی مظلومیت کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مختلف غیر ملکی میڈیا کے ساتھ انٹرویوز میں غزہ کے محاصرے کے حقائق اور اسرائیلی صہیونی رژیم کے جرائم کو بے نقاب کیا۔ ان کوششوں سے عالمی رائے عامہ مسئلہ فلسطین سے زیادہ آگاہ ہوئی۔

 

مزاحمت کے میدان میں ہنیہ کا طریقہ مسلح جدوجہد اور مؤثر سفارت کاری کا امتزاج تھا۔ وہ ایک طرف مزاحمت کاروں کو حوصلہ دیتے تھے اور دوسری طرف عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوششیں کرتے تھے۔ یہ پر بصیرت حکمت عملی اور مدبرانہ سیاست مزاحمتی اہداف کے فروغ میں نمایاں طور پر مؤثر رہی۔

 

آج جب اس عظیم رہنما اور سچے مجاہد کی شہادت کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے خواب پہلے سے زیادہ زندہ ہیں۔ فلسطین کے نوجوان غزہ کی پٹی اور مہاجر کیمپوں میں ان کے راستے پر چل رہے ہیں۔ فلسطینی مزاحمت آج تمام دباؤ کے باوجود پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم ہو کر اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی پہلی برسی ان اصولوں پر دوبارہ زور دینے کا ایک موقع ہے جن کے لیے انہوں نے جدوجہد کی: قبضے کے خلاف مزاحمت، قومی اتحاد کا تحفظ، فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع، اور صہیونی دشمن کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرنا۔ یہ اصول فلسطین کی آنے والی نسلوں کے لیے ہنیہ کی دائمی میراث ہیں جنہیں ذہن میں رکھنا اور عمل میں لانا ضروری ہے۔

 

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہنیہ کی شہادت راستے کا اختتام نہیں بلکہ مزاحمت کے ایک نئے باب کا آغاز تھی۔ آج جب ہم گزشتہ ایک سال کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ فلسطین اب بھی ثابت قدم ہے اور اس کے لوگ بھرپور قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ اس شخص کے لیے سب سے بڑا خراج تحسین ہے جس نے اپنی پوری زندگی فلسطین کے لیے قربان کی۔ ان کی روح ہمیشہ شاد رہے۔

Exit mobile version