وقت کی تاریک راتوں میں ایک پاکیزہ و پرنور چراغ، بہادری کی زبان میں لکھی ہوئی شاعری، اور نبوی اخلاق کا حامل ایک پر وقار انسان، ضمیر کی پاکیزگی کی تفسیر، اور شہادت کی راہ کا وہ سکون بخش سایہ جس پر قوم فخر کے پھول نچھاور کرتی ہے۔ شہید سعید حافظ محمد ظاہر "وارث” ولد فضل ربی، صوبہ میدان وردگ، ضلع نرخ کے گاؤں قلعہ عبدالوہاب کے رہنے والے تھے۔ انہوں نے ۱۴ جون ۱۹۹۵ء کو ایک متدین اور جہادی گھرانے میں آنکھ کھولی۔
شہید وارث رحمہ اللہ نے بچپن میں ہی اپنے گاؤں کے امام مسجد سے ابتدائی دینی اور عقیدے کی تعلیم حاصل کی، پھر ڈاکٹر عبدالوکیل ہائی اسکول میں داخل ہوئے۔ اس تعلیم کے بعد انہوں نے توکر گاؤں میں مدرسہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں قرآن کریم حفظ کیا۔
ان کے بھائی محمد ہارون کے بقول ولایت میدان وردگ میں قابضین اور ان کے مقامی غلاموں کے مظالم حد سے بڑھ گئے تھے۔ یہاں تک کہ ہماری فیملی بھی اس ظلم کا شکار ہوئی۔ مقامی ملیشیا ہمیں بار بار دھمکیاں دیتی تھی کہ گاؤں چھوڑ دو۔
ہمارا بھائی قرآن عظیم الشان کا حافظ اور دین و عقیدے کا پیرو تھا۔ اسی وجہ سے ہماری فیملی پر مصیبتوں کے بادل چھا گئے، یہاں تک کہ ہمارے بوڑھے والد کو بھی گالیاں اور توہینآمیز باتیں سننی پڑیں۔ جمہوری حکومت کے درندوں کا متدین اور دیندار لوگوں کی فیملیوں سے بہت برا سلوک تھا۔
بھائی کو علم کی راہ میں روز بروز رکاوٹیں ڈالی جا رہی تھیں، آخر کار انہوں نے تعلیم چھوڑ دی اور ۲۰۱۳ء میں جہاد کے میدان میں قدم رکھا، اپنے ایمان اور غیرت کا جھنڈا بلند کیا اور باقی زندگی جہاد کے گرم مورچوں میں گزار دی اور اللہ کے دین کی سربلندی اور وطن کی آزادی کے لیے ان تھک جدوجہد کی۔
کئی معرکوں میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا۔ وہ جنگی مہارت کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں کے ماہر استاد اور سرخ دستے (سپیشل کمانڈوز) کے نائب کمانڈر بھی رہے۔ اپنے ضلع میں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہاں تک کہ اپنے علاقے کے ہر حملے اور گھات میں موجود رہتے تھے۔
زمانے کے خوارج کے خلاف بھی انہوں نے پوری بہادری اور دلیری سے جہاد کیا۔ کئی بار اپنے ساتھیوں کے ساتھ ننگرہار ولایت تشکیل پر گئے۔ وہ ایک واقعہ سناتے تھے کہ:
”لڑائی کے دوران ہم نے ایک داعشی خارجی کو زندہ پکڑا، لیکن وہ قرآن کا حافظ تھا۔ چونکہ میں خود بھی حافظ تھا، اس لیے اسے قتل کرنے پر دل نہیں مانا۔ جب ہم نے اپنے امراء سے رابطہ کیا کہ یہ حافظ ہے، کیا کریں؟ تو دوسری طرف سے قتل کا حکم آیا۔ مگر دو دن بعد جب ہم اس کی لاش کے پاس گئے تو اس کی لاش سڑ چکی تھی اور اس سے بہت شدید بدبو آ رہی تھی، جبکہ ہمارے شہید ساتھی مہینوں مہینوں میدانِ جنگ میں دھوپ میں پڑے رہتے تھے مگر نہ ان کی لاش خراب ہوتی تھی اور نہ بدبو آتی تھی۔ اس واقعے نے ہمارا ایمان اور مضبوط کر دیا۔ اس دن کے بعد میں نے کبھی داعشیوں پر رحم نہیں کیا۔“
جب وہ واپس اپنی ولایت آئے تو ۱۷ جون ۲۰۱۷ء کو رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں، میدان شہر کے مرکز میں مقامی ملیشیا کے خلاف منصوبہ بند آپریشن کیا، جس میں کئی دین کے دشمن ہلاک ہوئے اور خود انہوں نے بھی شہادت کا جام نوش فرمایا۔
نحسبه كذالك والله حسيبه۔
شہید وارث رحمہ اللہ کے بھائی محمد جاوید نے اس دردناک لمحے کا بیان یوں کیا:
”جب ہم شہید وارث کا جنازہ گھر لائے تو گھر پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ فیملی اور دیگر لوگوں کا غم بے انتہا تھا۔ عورتوں اور بچوں کی چیخیں دل کو چیر رہی تھیں۔ مگر سب سے تکلیف دہ منظر وہ تھا جب تدفین کی تیاری ہو رہی تھی تو ایک مولوی صاحب نے کہا: اس کی جیبیں چیک کرو! کیونکہ شہادت کے وقت اس نے کچھ کہا نہیں تھا۔ میں نے روتے ہوئے اپنے شہید بھائی کی جیبیں ٹٹولیں۔ بہت سے لوگ موجود تھے۔ جیب میں صرف ۵۰ افغانی تھے، اور ایک کاغذ پر ۱۵۰ افغانی کا قرض اور مختلف دکانداروں کے نام لکھے تھے۔ یہ منظر اور غربت کی یہ تصویر آج بھی ہمارے گھر والوں کو شدید تکلیف دیتی ہے۔ اس کا جدائی کا غم بہت بڑا تھا، مگر وہ خالی جیبیں اور قرض کا کاغذ قیامت تک نہیں بھلایا جا سکتا۔“
ان کی بہادری، ایمان اور قربانی کا ذکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا، مگر اس کاغذ اور چند سکوں میں غربت اور بے کسی کا ایک کڑوا قصہ چھپا ہے۔ وہ قرآن کے حافظ تھے، اپنی تمام تکلیفوں اور ضروریات کے باوجود خوش رہتے تھے، اور زندگی کے آخری لمحات میں بھی دکانداروں کے قرض کو کاغذ پر نوٹ کر گئے تھے۔

