Site icon المرصاد

شہید ملا عبد الحمید حنفی رحمہ اللہ (تقبله الله) کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

علم کا ایک چراغ، محاذوں کا دلیر سپاہی، بہادر اور شجاع نوجوان، شہید سعید ملا عبد الحمید حنفی بن محمد اسحاق، سن ۱۳۸۰ ہجری شمسی کو ولایت غور کے ضلع مرغاب کے ویشتان گاؤں میں ایک دینی و مجاہد گھرانے میں پیدا ہوئے۔

ان کا گھرانہ ایمان، صداقت اور خالص عقیدے سے معمور تھا۔ ان کا بچپن قناعت، دیانت اور پاکیزہ زندگی کے ماحول میں گزرا۔ خاندانی دینی فضا کے اثر سے ان کی شخصیت میں ابتدا ہی سے عبادت، علم دوستی اور نرم مزاجی کی جھلک نمایاں تھی۔

سن ۱۳۹۱ ہجری شمسی میں اپنے خاندان کے ساتھ ولایت ہرات کے پشتون زرغون ضلع کی طرف ہجرت کی، اور سن ۱۳۹۴ میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ وہ علم کی ایسی راہ پر گامزن ہوئے کہ نہ تھکن کو جانتے تھے اور نہ مشقت کی پروا کرتے تھے۔ علم کی لامحدود محبت نے انہیں ہرات سے نیمروز، وہاں سے کوئٹہ (پاکستان)، پھر قندہار اور کابل تک پہنچایا۔ جس مدرسے میں بھی داخلہ لیتے، وہاں اخلاق، محنت اور اخلاص کی مثال بن جاتے۔

لیکن شہید حنفی کے نزدیک تعلیم ہی واحد مقصد نہ تھا؛ وہ علم کو بیداری اور خدمت کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ سن ۱۳۹۸ ہجری شمسی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایامِ تعطیل میں محاذِ جہاد پر بھی جاتے اور ہرات و نیمروز میں مجاہدین کے شانہ بشانہ دشمنانِ اسلام کے خلاف لڑائی میں شریک ہوتے۔ یہ بیدار دل نوجوان علم اور عمل کو یکجا کر چکے تھے؛ دن کو طلبہ کی صف میں رہتے اور رات کو مجاہدین کے مورچوں میں۔

سن ۱۴۰۲ ہجری شمسی میں کابل کے امام ترمذی مدرسہ سے فراغت کے بعد انہوں نے ایک اور فیصلہ کیا، ایسا فیصلہ جو ان کے اخلاص اور صداقت کی علامت تھا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ایک دینی عالم کا مقصد صرف مدرسے کی چار دیواری تک محدود نہیں ہوتا؛ بلکہ عوام کی خدمت سے لے کر جہاد کے میدان تک ہر محاذ پر اس کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اسی عزم کے ساتھ انہوں نے پنجشیر ولایت میں خدمت کی ذمہ داری اپنے ذمے لی۔

پنجشیر اُن کے لیے صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہ تھی؛ بلکہ یہ ایثار اور امتحان کا میدان تھا۔ خالص نیت اور پاکیزہ روح کے ساتھ انہوں نے وہاں قدم رکھا، تاکہ علم و ایمان کے ہتھیار سے ایک طرف اسلامی اقدار کے مدافع بنیں اور دوسری جانب مظلوم عوام کے مددگار۔
سن ۱۴۰۳ ہجری شمسی میں، اپنے گھر والوں سے ایک مختصر ملاقات کے بعد دوبارہ پنجشیر کی طرف روانہ ہوئے؛ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کا دل محاذ اور حقیقی خدمت کے بغیر قرار نہیں پاتا۔ مگر راستے میں ہی تقدیر کے فیصلے سے دوچار ہوئے؛ داعشی خوارج کے ایک حملے کا نشانہ بنے جس میں یہ مؤمن مجاہد، ملا عبد الحمید حنفی تقبله الله شہادت کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہوئے، نحسبه کذلک والله حسیبه۔
شہادت ان کی سب سے بڑی آرزو تھی؛ وہ الٰہی انعام جو برسوں کی تعلیم، ہجرت، جہاد اور خدمت کے صلے میں انہیں نصیب ہوا۔ آج ان کی یاد دوستوں اور رفقاء کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ اُس نسل کی ایک روشن مثال تھے، جو آگ وخون کے بیچ علم سے عمل تک پہنچے؛ مدرسے سے جہادی محاذ تک کا سفر کیا اور آخرکار اپنے خون کی مہر سے ایمان اور عزت کی راہ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔

Exit mobile version