شہید نصرت اللہ سنگین ایمان، اخلاص اور مضبوط عزم کے حامل، مظلوم عوام کے مدافع، خاموش مگر فعال، اور میدانِ جہاد میں بہادر اور باصلاحیت شخصیت تھے۔ وہ دینی غیرت، پختہ ارادے اور قربانی کی زندہ مثال تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ظلم کے خلاف اور حق کے قیام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
شہید نصرت اللہ سنگین ولد حبیب اللہ صوبہ میدان وردگ کی ضلع نرخ کے گاؤں اعتبار خیل کے رہائشی تھے، جہاں انہوں نے 1994ء میں ایک متدین اور مجاہد گھرانے میں اس فانی دنیا میں آنکھ کھولی۔
تعلیم اور دینی تربیت:
وہ مدرسے کے طالب علم تھے اور قرآنِ کریم کے حافظ بنے۔ انہیں دینی علوم سے گہرا شغف تھا اور ابتدا ہی سے اسلام کی اقدار سے قلبی وابستگی اختیار کر لی تھی۔ شہادت کی تمنا ہمیشہ ان کے دل میں زندہ رہی اور انہوں نے خود کو اللہ جل جلالہ کی راہ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
جہاد کا آغاز:
ضلع نرخ میں اربکیوں کی درندگی، بے گناہ عوام پر ظلم و جبر نے شہید سنگین کو خاموش نہ رہنے دیا۔ انہی حالات نے انہیں 2011ء میں امارت اسلامیہ کی صفوں میں شامل ہونے اور جہاد کے گرم محاذ میں اترنے پر آمادہ کیا۔ شامل ہوتے ہی انہوں نے دشمن پر کاری ضربیں لگانا شروع کر دیں۔
ان کے عظیم کارناموں میں سے ایک یہ تھا کہ انہوں نے ضلع نرخ کے بم غَرہ کے عقب میں اربکیوں کے ایک بڑے مرکز پر تاریخی کارروائی انجام دی۔ انہوں نے ایک گھر سے سرنگ کھودنے کا کام شروع کیا، جس کی لمبائی ۱۲۰ میٹر سے زیادہ تھی۔ اسی سرنگ کے ذریعے انہوں نے اربکی مرکز کے نیچے بارودی سرنگیں نصب کیں اور اس مرکز کو مکمل طور پر خاک میں ملا دیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں عوام طویل عرصے کے تنازع اور ظلم سے نجات پا گئے، اور اربکیوں اور فوج کو ضلع کے نصف سے زیادہ علاقوں سے پسپا ہونا پڑا۔
ذمہ داریاں اور تشکیلات میں کردار:
شہید نصرت اللہ سنگین نے اپنی صلاحیت، وابستگی اور اخلاص کی بنا پر مسلسل اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ ابتدا میں انہیں صوبہ پکتیا کا کسٹم سربراہ مقرر کیا گیا، بعد ازاں انہوں نے سرخ قطعہ (ریڈ یونٹ) کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اگرچہ انہوں نے بیرونِ ملک سفر نہیں کیے، مگر ملک کے اندر مختلف صوبوں میں جهادی ذمہ داریوں کے سلسلے میں سفر کرتے رہے۔
جہادی کارنامے:
شہید سنگین بارودی سرنگوں کی تیاری اور تکنیکی امور میں ایک نادر مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے زیادہ تر وقت خوارج (داعشیوں) کے خلاف جنگوں میں گزارا اور ان کے مقابلے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح ان کی قیادت میں صوبہ ننگرہار کے ایک گھر میں، جہاں بڑی تعداد میں داعشی موجود تھے، خصوصی کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی میں کئی خوارج مارے گئے، مگر خود شہید سنگین اسی آپریشن کے دوران داعشی خوارج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ نحسبه کذلک والله حسیبه۔
اس تھکے ماندے اور زخم خوردہ مجاہد کی وہ عظیم تمنا، جو ہمیشہ اس کے دل میں تھی، پوری ہو گئی۔ انہوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے حق کی راہ کا چراغ روشن کیا۔ اللهم تقبله في الشهداء، وجعل مثواه الجنة۔
تاریخِ شہادت: 4 دسمبر 2021ء
ذاتی زندگی:
شہید نصرت اللہ سنگین کی دو شادیاں تھیں، مگر اللہ جل جلالہ نے انہیں اولاد سے نوازا نہیں۔ زندگی کی تلخ یادوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی دوسری شادی کی رات ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، تاہم وہ اللہ جل جلالہ کے فضل سے گرفتاری سے محفوظ رہے۔

