علم کا ایک اور چراغ، نڈر اور جری مجاہد، شیخ الحدیث والقرآن مولوی محمد عالم حقانی تقبلہ اللہ، صوبہ ننگرہار کی ضلع شیرزاد کے مرکیخیل گاؤں کے رہائشی تھے۔ سن ۱۳۵۰ ہجری شمسی میں انہوں نے فانی دنیا میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی دینی تعلیم انہوں نے ضلع شیرزاد کے مختلف جید علمائے کرام سے حاصل کی۔ بعد ازاں وہ پشاور تشریف لے گئے اور خیبر پختونخواہ کے متعدد دینی مدارس میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ انہوں نے درجہ سابعہ شیخ سلطان محمد ثاقب، شیخ صالح محمد اور شیخ محمد ادریس سے پڑھا۔
پھر جب دورۂ حدیث کا مرحلہ آیا تو رفقاء کے مشورے سے دارالعلوم حقانیہ کا رخ کیا۔ سرزمینِ ہجرت پر انہوں نے بے شمار مشکلات اور کٹھن حالات کے باوجود اپنے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اور نہایت مختصر مدت میں دورۂ حدیث مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بالآخر سن ۱۳۷۸ ہجری شمسی میں امام العزیمت، شہید شیخ رحیم اللہ حقانی تقبلہ اللہ کے ہمراہ، شیخ شیر علی شاہ مدنی رحمہ اللہ کی سرپرستی میں دورۂ حدیث مکمل کیا اور علم، وقار اور عزت کا تاج اپنے سر پر سجایا۔
فراغت کے بعد انہوں نے دیارِ ہجرت کو خیر باد کہا اور اپنے وطن واپس آگئے۔ اللہ رب العالمین نے حقانی تقبلہ اللہ کو بیدار ضمیر اور مضبوط ایمان سے نوازا تھا، اس لیے وہ ہر معاملے کو امت کے ایک سچے خادم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کا علاقہ دینی علوم کی محرومی، بدعات، غلط رسم و رواج اور فکری بگاڑ کا شکار ہے تو فوراً عملی میدان میں اُتر آئے اور ضلع شیرزاد کے مرکیخیل گاؤں میں ایک دینی مدرسے کی بنیاد رکھی۔
امارتِ اسلامی کے پہلے دورِ حکومت میں یہ مدرسہ امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے حکم سے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا۔ بڑی تعداد میں طلبہ نے اس ادارے کی طرف رجوع کیا اور یہ مدرسہ نہایت قلیل عرصے میں ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔ لیکن اچانک وطن عزیز پر امریکہ اور اتحادیوں کی یلغار کا سیاہ پردہ چھا گیا، امارتِ اسلامی سقوط کا شکار ہوئی اور امتِ مسلمہ کی اُبھرتی ہوئی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ غاصبوں کے خلاف جہاد اور مزاحمت کی دعوت بھی شروع کی، بے شمار مجاہدین کو عملی جدوجہد کے لیے تیار کیا، حتیٰ کہ مدرسے کے اساتذہ اور طلبہ کو بھی جنگی میدانوں پر روانہ کیا۔ ان کی زیر نگرانی دس سے زائد اساتذہ اور سو سے زائد طلبہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔
جب ۲۰۱۴ء میں خوارج ننگرہار میں اُبھرے تو اس صوبے کے اکثر اضلاع ان کے قبضے میں آگئے۔ شینوار کے تمام اضلاع، پچیراگام، خوگیانی، چپرہار حتیٰ کہ شیرزاد تک ان کی یلغار پہنچی۔ خوارج کا مقابلہ کرنے کے لیے شیرزاد میں دو گروپ میدان میں اُترے؛ ایک شیخ محمد عالم حقانیؒ کی قیادت میں اور دوسرا ملک جیفور کی سربراہی میں۔
شیخ محمد عالم حقانیؒ نے داعشیوں کے خلاف مسلح جہاد شروع کیا۔ شیرزاد میں داعشیوں کے ساتھ براہِ راست جنگ میں سب سے پہلے شہید ہونے والے بھی انہی کے ساتھی تھے۔ مجاہدین کی بے مثال قربانی، حکمتِ عملی اور ایمانی قوت کے باعث داعشیوں کو خوگیانی، پچیراگام، چپرہار، ہسکہ مینہ، بٹیکوٹ، اچین، سپین غر، رودات اور مومند تنگی تک سے پسپا کر دیا گیا۔ کبھی کبھار جب خوارج زور پکڑتے تو کچھ علاقے اور پہاڑی درے ان کے ہاتھ آ جاتے، جیسے توره بوره، وزیر تنگی وغیرہ۔ لیکن شہید شیخ محمد عالمؒ کے ساتھیوں نے وہاں بھی ان کا پیچھا کیا اور اکثر وہیں جامِ شہادت نوش کرگئے۔
وزیر تنگی میں ان کے ایک معروف ساتھی مولوی شمس الرحمنؒ خوارج کے ساتھ براہِ راست لڑائی میں شہید ہوئے۔ ان کا مبارک جسم وہیں خوارج کے نرغے میں رہ گیا، بعد میں قبائلی عمائدین کی کوششوں سے بیس دن بعد لایا گیا اور تدفین کی گئی۔
آخرکار ۲۰۱۸ء میں شہید سعید شیخ محمد عالم حقانیؒ اپنے دس ساتھیوں کے ہمراہ، جن میں ایک بھائی بھی شامل تھا، ڈرون حملے میں شہید ہو گئے۔ نحسبه کذالک والله حسیبه۔
ان کی شہادت کے بعد خوارج مزید آگے بڑھے اور مرکیخېلو درے پر قابض ہو گئے، لیکن بعد میں امارتِ اسلامی کے مختلف صوبوں سے لشکر آئے اور خوارج کا صفایا کر دیا۔
نوٹ: شیخ محمد عالم حقانیؒ، شیخ رحیم اللہ حقانیؒ کے نہایت قریبی ساتھی تھے۔ دونوں ایک ہی سال جامعہ حقانیہ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔

