فوجی رجیم، جو اپنی حکمتِ عملی اور افغانستان کے داخلی حالات کو خراب کرنے کے مقصد سے فرضی سرحد کے ساتھ آباد عوام پر اندھی بمباری کرتی ہے۔ ان اندھی بمباریوں میں سینکڑوں بے گناہ شہری شہید ہو چکے ہیں اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوئے ہیں، یہ سب وہ لوگ تھے جن کا سیاست، جنگ اور فوج سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جیسے: خواتین، بچے، بوڑھے، اور نشے کے عادی افراد، جو پاکستان کے فوجی رجیم کے میزائلوں اور توپوں کا نشانہ بنے۔
اسی طرح، گزشتہ چند دنوں سے صوبۂ کنڑ کے مختلف علاقوں میں وحشی فوجی رجیم کی جانب سے اندھی فائرنگ اور میزائل داغے گئے، جن کا نتیجہ بے گناہ عام لوگوں کی شہادت کی صورت میں نکلا۔ یہ رجیم جو بظاہر اپنے آپ کو مسلمانوں کی حامی ظاہر کرتی ہے، لیکن عملاً اس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اسلامی احکام کے مطابق، جنگ میں حتیٰ کہ دشمن کفار کی خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنا بھی حرام ہے۔ لیکن یہاں بے گناہ افغان عوام کافر دشمن کی طرف سے نہیں، بلکہ اس رجیم کی گولہ باری کا شکار ہو رہے ہیں جو خود کو مسلمان کہتہ ہے۔
فوجی رجیم جو بے گناہ افغان شہریوں کو شہید کر رہی ہے، نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اسلامی قوانین کے مطابق بھی مجرم ہے۔ اسلام تمام انسانوں کی جان کے تحفظ کا حکم دیتا ہے اور کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ بے گناہ لوگوں کی جان لے۔ شریعت میں بے گناہ لوگوں کو شہید کرنا واضح طور پر بڑا جرم شمار کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ بے گناہ لوگوں کا قتل کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔
قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں
قرآن میں بے گناہ انسان کا قتل ایک بڑے گناہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:
وَمَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا
[سورة المائدة: 32]
ترجمہ: “اور جو کوئی کسی کق قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے وے، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔۔”
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
ترجمہ: “اور جو کوئی کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے، اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔”
[سورة النساء: 93]
مذکورہ آیات واضح کرتی ہیں کہ بے گناہ انسان کا قتل نہ صرف فرد کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بڑا گناہ ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بے گناہ پر حملہ کرتا ہے تو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے اس نے پوری دنیا کو نقصان پہنچایا ہو۔ اس طرح اگر فوجی رجیم عام افغانوں کے خلاف وحشیانہ حملے کرتی ہے تو یہ حملے قرآنی احکامات کے مطابق ایک بڑا گناہ شمار ہوتے ہیں۔
احادیث کی روشنی میں
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایک مسلمان جو کلمۂ شہادت پڑھتا ہے، اس کا قتل جائز نہیں مگر تین صورتوں میں:
1. جب وہ کسی کو قتل کرے۔
2. جب وہ شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔
3. جب وہ اپنے دین سے مرتد ہو جائے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے۔ (بخاری و مسلم)
4.
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے۔ (رواہ مسلم)
مذکورہ احادیث کی روشنی میں افغان عوام ان میں سے کسی جرم کے بھی مرتکب نہیں تھے اور نہ ہیں۔
لہٰذا فوجی رجیم کے حملے، جو تمام اسلامی اور انسانی قوانین کے خلاف ہیں، صہیونی رجیم کے قوانین کے ساتھ مکمل مماثلت اور ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ جس طرح صہیونی رجیم مشرقِ وسطیٰ میں اپنے استعماری منصوبوں کے تحت فلسطین کے مسلمانوں کو شہید کرنے اور اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کے لیے ہر وسیلہ استعمال کرتی ہے، اسی طرح پاکستانی فوجی رجیم وسطی ایشیا میں اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور ہمسایہ ممالک کے معاملات کو خراب کرنے کے لیے یہی طریقے استعمال کر رہی ہے۔
اسی طرح صہیونی رجیم نے غزہ میں الشفا اور دیگر ہسپتالوں پر بمباری کی، اور پاکستان کی فوج نے کابل میں “امید” کے نام سے منسوب نشہ کے عادی افراد کے ہسپتال پر اسی نوعیت کا جرم کیا۔ غزہ میں صہیونی رجیم نے اجتماعی طور پر سینکڑوں خاندانوں کو شہید کیا، اور پاکستان کی فوج نے بھی افغانستان میں کنڑ، نورستان، خوست، ننگرہار اور پکتیکا کے صوبوں میں خاندانوں پر اجتماعی حملے کیے۔ یہ حملے، جو ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں، چاہتے ہیں کہ اندھی گولہ باری کے ذریعے فرضی سرحد کے ساتھ آباد لوگوں کو بے گھر کیا جائے۔
اسی طرح فرضی سرحد کے ساتھ فوجی رجیم کے جرائم صرف ایک فوجی یا سیاسی مسئلہ نہیں ہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر بحران ہیں جو قانون، معاشرہ، معیشت، ثقافت اور عالمی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ عام عوام اس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا عنصر ہیں۔ اگر پاکستانی فوجی رجیم یہ سمجھتی ہے کہ وہ شہریوں کو شہید کر کے افغان عوام کے عزم کو کمزور کر سکتی ہے تو یہ اس کی بڑی غلط فہمی ہے۔ جتنے زیادہ لوگ شہید ہوتے ہیں، اتنا ہی مزاحمت کا جذبہ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔
افغانستان کے لوگ شہادتوں سے کمزور نہیں ہوتے، بلکہ دشمن کی بے شرمی اور بزدلی کے مقابلے میں ان کا اتحاد مزید مضبوط ہوتا ہے۔ فوجی رجیم کو سمجھ لینا چاہیے کہ شہریوں کا قتل بہادری کی علامت نہیں بلکہ بے شرمی اور بزدلی کی انتہا ہے۔ آخر میں، فوجی رجیم جو ہمیشہ شہری مقامات پر حملے کرتی ہے اور ہر بار شہری ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، لیکن عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرتی ہیں یا بہت کمزور موقف اپناتی ہیں۔
بین الاقوامی اداروں کی یہ خاموشی اور کمزور مؤقف غیر جانبداری نہیں بلکہ جرائم کے تسلسل میں شراکت ہے۔ جب عالمی برادری شہریوں کے قتل، طبی مراکز کی بمباری اور ایک خودمختار ملک کی حاکمیت کی خلاف ورزی کے سامنے خاموش بیٹھی ہو، تو وہ اصول جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز میں درج ہیں، صرف کاغذی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ لیکن تمام وہ افراد، ادارے اور تنظیمیں جن کے پاس طاقت، اثر و رسوخ، میڈیا، قلم اور آواز ہے، انہیں چاہیے کہ وہ فوجی رجیم کے جاری جنگی جرائم کے بارے میں اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کریں۔

