Site icon المرصاد

طوفان الاقصیٰ آپریشنز کے اسٹریٹجک پہلو

ستمبر ۲۰۲۳ء کو نتنیاہو نے متکبرانہ انداز سے کھڑے ہوکر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ۷۸ویں اجلاس میں ’’گریٹر مڈل ایسٹ‘‘ کا نقشہ پیش کیا۔

ابھی زیادہ وقت بھی نہ گزرا تھا کہ شہید عزالدین القسام بریگیڈ کے سپہ سالارِ اعلیٰ، شہید محمد الضیف نے ’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ کے نام سے ایک عظیم آپریشن کا اعلان کیا؛ ایک ایسا اسلامی مزاحمتی اقدام، جس نے صہیونی غاصب ریاست کے غرور کو چکناچور کر دیا، طاقت کا توازن بگاڑ دیا، اور عربوں و صہیونیوں کے درمیان جنگ کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ یہ ایک ایسے مرحلے کی بنیاد بنی جو علم، سکیورٹی، سیاست، علاقائی اور عالمی تعلقات کے میدان میں ایک نئی اسٹریٹجک سمت متعین کرنے والا تھا۔

۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کی صبح، مشرقِ وسطیٰ ایک بے مثال عسکری زلزلے سے لرز اٹھا۔ اُس وقت غزہ میں شہید عزالدین القسام بریگیڈ نے ’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ کے نام سے ایک وسیع اور ہمہ گیر عسکری کارروائی شروع کی۔ اس آپریشن کا آغاز راکٹوں اور میزائل حملوں سے ہوا، جس نے اسرائیل کے اندر اور غزہ کے اردگرد قابض یہودی بستیوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

اس کے بعد زمینی حملوں کی لہر اٹھی، جو القسام، سرایا القدس اور دیگر مزاحمتی جماعتوں کے مجاہدین نے انجام دی۔ سیکڑوں مجاہدین نے غزہ کی سرحد عبور کر کے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بیس سے زائد فوجی اڈے اور بستیاں فتح کیں۔ انہوں نے صہیونی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا، درجنوں فوجی گاڑیاں تباہ کیں، اور سینکڑوں فوجی اہلکاروں اور انٹیلی جنس کے ایجنٹوں کو قید کر لیا۔

طوفانِ اقصیٰ وقت، نوعیت اور خفیہ رسائی؛ تینوں پہلوؤں سے ایک غیر معمولی اور حیران کن کارروائی تھی۔ اس لیے کہ اگرچہ اسرائیل کے انٹیلی جنس ذرائع دنیا کے ترقی یافتہ ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن وہ اس آنے والے خطرے کو محسوس کرنے اور پیشگی اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کسی بھی سنجیدہ علامت یا اشارے تک نہ پہنچ سکے جو اس عظیم سکیورٹی اور عسکری زلزلے کی پیشین گوئی کر سکتا۔

یوں ’’اسرائیلی انٹیلی جنس‘‘ اور ’’موساد‘‘ کا وہ افسانوی غرور زمین بوس ہوگیا، جس پر صہیونی ریاست برسوں سے دنیا کے سامنے فخر جتاتی آئی تھی۔ یہ واقعہ اس امر کی صریح دلیل بن گیا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور جاسوسی کے تمام تر وسائل بھی اُس عزم اور ایثار کے سامنے ناکام ہیں، جو ایمان، بصیرت اور حکمتِ عمل سے مزین مزاحمت کے دلوں میں موجزن ہوتا ہے۔
طوفانِ اقصیٰ کا یہ آپریشن محض مقبوضہ علاقوں؛ الاقصیٰ اور غزہ میں قابضین کے جرائم کے ردِعمل تک محدود نہیں تھے؛ بلکہ یہ ایک گہرا اور پہلے سے منصوبہ بند اسٹریٹجک اقدام تھا جس کی بنیاد حماس کی مزاحمتی بصیرت پر رکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد دشمن کے ساتھ جنگ کے اصولوں اور حکمتِ عملیوں کو نئے سرے سے متعین کرنا تھا۔ یوں جنگ کی صورتِ حال دفاعی مزاج سے نکل کر جارحانہ اور ابتکاری مرحلے میں داخل ہوئی۔

یہ آپریشن علاقائی اور عالمی محاذوں پر بھی متعدد سیاسی اور پیغام رساں پہلو رکھتا تھا۔ سلامتی کے نقطۂ نظر سے اس نے واضح کر دیا کہ اسرائیلی سکیورٹی نظام اپنے تمام دعوؤں کے باوجود بہت کمزور اور ناتواں ہے۔ عسکری اعتبار سے ثابت ہوا کہ غیر منظم گروہ بھی حکمتِ عملی اور اچانک حملوں کے ذریعے ان کے دفاعی سسٹم کو تباہ کرسکتا ہے۔

سیاسی طور پر، ان کارروائیوں نے صہیونی قبضہ کی اُس جھوٹی تصویر کو تہہ و بالا کر دیا جو اسے ایک ناقابلِ شکست قوت دکھاتی تھی، اور اُن عرب ملکوں کے حساب کتاب بگاڑ دیے جنہوں نے ’’اسرائیل سے صلح‘‘ کے خواب دیکھ رکھے تھے۔ میڈیا اور نفسیاتی محاذ پر ’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ نے امتِ مسلمہ کی خوداعتمادی بحال کی، اور اس خوف کی دیوار کو گرا دیا جو دہائیوں تک اسرائیلی پروپیگنڈے کے ذریعے ان کے ذہنوں میں کھڑی رہی تھی۔

طوفانِ اقصیٰ کے بعد علاقائی تبدیلیاں
’’طوفانِ اقصیٰ‘‘ آپریشن نے عرب دنیا کے علاقائی نظام کی ساخت میں ایک گہرا زلزلہ برپا کیا۔ اس نے یہ حقیقت آشکار کردی کہ وہ اتحاد، جو صہیونی ریاست کے ساتھ ’’معمول کے تعلقات‘‘ کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے، دراصل نہایت کمزور ہیں۔ جن حکومتوں نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لائے تھے، وہ اپنے ہی غصے سے بپھری عوام کے سامنے شرمناک پوزیشن میں آ گئیں۔
ان کارروائیوں نے فلسطین کے مسئلے کو ایک بار پھر عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر بحث و توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا؛ ایک ایسا مسئلہ جو برسوں سے ’’معمول کے تعلقات‘‘ کے دباؤ اور داخلی بحرانوں کے باعث پسِ منظر میں جا چکا تھا۔

عالمی سطح پر، ان آپریشنز نے اسرائیل کے اُس مصنوعی تصور کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے مطابق وہ ایک قابلِ اعتماد اتحادی سمجھا جاتا تھا۔ طوفانِ اقصیٰ نے ظاہر کردیا کہ اسرائیل غزہ کی ایک چھوٹے، محصور علاقے میں موجود مزاحمتی گروہ کے مقابلے میں بھی اپنی دفاعی صلاحیت سے محروم ہے۔
یہ کارروائیاں بڑی طاقتوں کو اس بات پر مجبور کر گئیں کہ وہ عرب صہیونی تنازعے سے متعلق اپنے معاملات اور پالیسیوں پر ازسرِنو غور کریں۔ بالخصوص امریکا خود کو ایک ایسے اسٹریٹجک بند گلی میں پھنسا ہوا پایا، جس میں نہ وہ اس دھماکہ خیز صورتحال کو روک سکا، اور نہ ہی اس کے علاقائی اثرات پر قابو پا سکا۔

طوفان الاقصی کے روحانی و تہذیبی پہلو
طوفان الاقصی صرف ایک عسکری یا سیاسی واقعہ نہیں تھا؛ یہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک ثقافتی اور ایمانی پیغام بھی تھا۔ ان آپریشنز نے دلوں میں جہاد و مقاومت کی روح کو دوبارہ جگایا اور ثابت کیا کہ امت جارحیت کے خلاف ثابت قدمی دکھا سکتی ہے، چاہے دشمن کتنا ہی قوت و طاقت کا مالک ہو۔

اسی طرح ان آپریشنز نے ایمان کے حامل انسان کے کردار کو عیاں کیا اور دکھایا کہ مزاحمت کار انسان کی شخصیت سازی تمام ہتھیاروں اور مشینوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ ہر مادی کامیابی، اگر وہ مضبوط عزم اور ناقابلِ شکست ارادے کے ساتھ نہ ہو، تو بے معنی رہ جاتی ہے۔

ان آپریشنز نے قوت، نصرت، رفتار اور دفاع کے مفاہیم پر دنیا کو ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کیا اور یہ واضح کردیا کہ حقیقی کامیابی خودی اور ارادے سے شروع ہوتی ہے، اس سے پہلے کہ زمینی حقیقت میں جلوہ گر ہو۔ لہٰذا الاقصی طوفان کو جہاد، صبر، استقامت اور ایمان کے اقدار سکھانے والا ایک جامع مدرسہ سمجھا جا سکتا ہے۔

نتیجہ:
طوفان الاقصی کے دو سال گزر جانے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ یہ آپریشنز معاصر تاریخ میں ایک اہم اسٹریٹجک اور ثقافتی موڑ تھا، جس کا اثر محض میدانِ جنگ تک محدود نہ رہا؛ بلکہ اس نے سیاسی، سفارتی، صحافتی، نفسیاتی اور ایمانی دائرہ کار میں بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس نے آپریشن انجام دینے والوں کی بے مثال مقاومت دکھائی اور یہ باور کرایا کہ ارادہ، عقیدہ اور شعور ہر قسم کے ہتھیار اور مشینری سے بالاتر ہیں۔

ساتھ ہی، ان آپریشنز نے صیہونی رجیم اور دیگر بڑی طاقتوں کو اپنی موقف اور علاقائی و عالمی حساب کتاب ازسرِ نو جانچنے پر مجبور کیا۔ اس نے اسٹریٹجک منصوبہ بندی، جنگی نظم و نسق اور مقاوم انسان کے مؤثر استعمال کے حوالہ سے قیمتی دروس دیے۔ مختصراً، طوفان الاقصی ہر لحاظ سے عسکری، سیکورٹی، سیاسی، صحافتی، نفسیاتی اور ایمانی اعتبار سے ایک مکمل مدرسہ اور تربیتی کیمپ ثابت ہوا۔

Exit mobile version