سیاسی مقاصد کے لیے دینی مفاہیم میں تحریف:
داعش کے نئے اور معاصر اصولوں کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس گروہ نے منصوبہ بندی اور سوچے سمجھے طریقوں کے ذریعے اسلام کے بنیادی تصورات کو ایک منظم اور سسٹمیٹک انداز میں اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے مسخ کر دیا۔ ایک مکمل علیحدہ اور خود ساختہ فکری نظام قائم کرنے کے بعد اس منحوس گروہ نے دینی مفاہیم کی تشریح اور تفسیر کے مسلمہ معیارات کو ترک کیا اور ایسے نئے مفہوم متعارف کرائے جو صرف ان کے مخصوص نظریاتی دائرے میں ہی معنی رکھتے تھے۔
یہ متبادل اور خودساختہ فکری نظام داعش کو یہ موقع فراہم کرتا تھا کہ وہ علماء اسلام کے مستند اور متفقہ تفسیروں کی پروا کیے بغیر اپنے اقدامات کو درست ثابت کرے۔ داعش کے ان نئے اصولوں سے مراد یہی ہے کہ خلافت اور جہاد جیسے بنیادی اسلامی تصورات کو تحریف کر کے پیش کیا جائے۔
خلافت کے تصور کے بارے میں داعش کا دعویٰ تھا کہ وہ اس تاریخی اسلامی ادارے کو دوبارہ زندہ کرے گی، لیکن عملی طور پر یہ دعویٰ اسلامی معیارات سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اس گروہ نے مہارت کے ساتھ خلافت کو، جو دراصل شوری اور انتخاب پر مبنی ایک دینی بنیاد تھی، اپنی حکمرانی اور اثر و رسوخ بڑھانے کے آلے میں بدل دیا۔ وہ فرضی دشمن تراش کر اور مخصوص روایات گھڑ کر اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
دوسرے لفظوں میں، داعش نے خلافت کے اصل اور مسلمہ اسلامی اصولوں سے تعلق توڑ کر اس کے لیے ایک نیا بیانیہ تراش لیا۔ ابوبکر البغدادی کے ذریعے خلافت کے احیاء کا دعویٰ شرعی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ اس سیاسی اور نظریاتی تعبیر پر مبنی تھا جو داعش نے خود گھڑ لی تھی۔ اس نئے تصور میں خلافت، خلفائے راشدین کے معیاروں سے بالکل ہٹ کر، صرف سیاسی اور جغرافیائی توسیع کا ذریعہ بن گئی۔ حقیقت میں داعش نے اپنی ظالمانہ گرفت مضبوط کرنے کے لیے اس مقدس تصور کو آلے کے طور پر استعمال کیا۔
جہاد کے تصور کو بھی داعش نے مکمل طور پر مسخ کر دیا۔ اسلام میں جہاد کے لیے ایک اخلاقی و شرعی دائرہ موجود ہے، لیکن اس گروہ نے ان تمام حدود کو نظرانداز کر کے جہاد کو لا محدود اور منظم تشدد میں بدل دیا۔ انہوں نے جہاد کی مسخ شدہ تعبیر کو استعمال کر کے اپنی اسلام مخالف اور غیر انسانی کارروائیوں کو جائز گردانا۔
اس نئے بیانئے میں داعش نے اپنے مظالم اور جرائم، حتیٰ کہ مسلمانوں کے خلاف بھی، دینی جواز کا دعویٰ کیا۔ یہ کینسر کی مانند گروہ مجلات، فلموں اور بیانات کے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا مواد تیار کرتا تھا تاکہ اپنی خونریز کارروائیوں کو اسلامی جہاد کے نام سے پیش کر سکے۔
داعش نے اپنے افکار کو پھیلانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ابلاغی ذرائع کا بھرپور استعمال کیا۔ وہ پیشہ ورانہ انداز میں ڈیجیٹل مواد تیار کرتے اور بڑی مہارت سے سوشل میڈیا کے ذریعے اسے پھیلاتے، تاکہ دنیا کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔
داعشی خوارج کا ایک اہم طریقہ کار یہ تھا کہ وہ ایک بند فکری نظام قائم کرتے تھے۔ اس نظام میں صرف وہی تعبیرات اور بیانیے قبول کیے جاتے تھے جو گروہ نے خود وضع کیے ہوتے، اور ہر مخالف سوچ یا تعبیر کو سختی سے رد اور کفر قرار دیا جاتا۔ اس رویے نے پیروکاروں کو ایک مکمل کنٹرول شدہ معلوماتی ماحول میں قید کر دیا تھا جہاں انہیں صرف کہانی کا ایک رخ دکھایا جاتا۔
داعش لوگوں پر کنٹرول قائم کرنے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے خوف اور دہشت کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ وہ سفاکانہ تشدد کی نمائش کر کے مخالفین کو مرعوب اور اپنے پیروکاروں کو اندھی اطاعت و عقیدت کی طرف مائل کرتے۔ اس گروہ نے مذہبی جذبات اور دینی احساسات کو بھڑکا کر اپنے پرتشدد اقدامات کو مقدس اور الٰہی رنگ دینے کی کوشش کی۔
داعش نے منظم طریقے سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی مشکلات سے فائدہ اٹھایا۔ وہ انصاف اور مساوات قائم کرنے کے وعدے کرتے اور ان لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے جو موجودہ حالات سے ناخوش تھے۔ اسلامی معاشرے کی ایک مثالی شکل پیش کر کے وہ لوگوں کو دھوکہ دیتے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔
اگرچہ یہ نئے اصول ظاہری طور پر روایتی اسلامی اصولوں سے مختلف تھے، مگر ان کے اندر ایک مسخ شدہ تعلق موجود تھا۔ آخر میں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ داعش نے اسلامی تصورات کو بنیادی طور سے مسخ کر کے اور نفسیاتی و پروپیگنڈا کی پیچیدہ حکمتِ عملیوں کے ذریعے اپنی ظالمانہ اور غیر انسانی کارروائیوں کو جواز دینے کی کوشش کی۔ یہ گروہ نہ صرف اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتا بلکہ پوری دنیا میں اسلاموفوبیا کو ہوا دینے کا سب سے بڑا سبب بھی یہی گمراہ اور تکفیری گروہ ہے۔

