داعش کا حکومتی نظام
معاصر دنیا میں، ایک جائز حکومتی نظام کی تشکیل کے لیے ان اصولوں اور ڈھانچوں کی پابندی ضروری ہے جو عوام اور معاشرے کی طرف سے تسلیم شدہ ہوں۔ حتیٰ کہ انسانی حکومتیں، جو اسلامی نقطہ نظر سے نامکمل سمجھی جاتی ہیں، ملک کے امور کے انتظام کے لیے ایک منظم اورانتطامی ڈھانچہ رکھتی ہیں۔ یہ حکومتیں تسلیم شدہ قوانین، نگرانی کرنے والی اداروں اور احتساب کے نظاموں پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، اسلامی نظام، جو الٰہی اصل رکھتا ہے، حکومت داری کا سب سے مکمل ماڈل پیش کرتا ہے۔
اسلام میں حکومت کا بنیادی نمونہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر مبنی ہے، جنہوں نے تئیس سالوں میں ایک بے مثال تہذیب قائم کی۔ اس قسم کا نظام خلفائے راشدین کے دور میں جاری رہا اور خوشحالی کی انتہا کو پہنچا۔ اس نظام کی اہم خصوصیات میں وسیع پیمانے پر انصاف، مشورہ اور شورائی نظام، حکمرانوں کا احتساب، رعایا کے حقوق کا احترام اور عوامی فلاح و بہبود کی فراہمی شامل تھیں۔ یہ وہ خصوصیات تھیں جنہوں نے دوست اور دشمن دونوں کو حیران کر دیا۔
مگر داعش، اسلامی خلافت کی بحالی کی اپنی جھوٹی دعویداری کے ساتھ، درحقیقت حکومت داری کا ایک تاریک سایہ پیش کر رہی ہے اور کرتی رہی ہے۔ مذہبی تصورات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اور اسلامی تاریخ کی تحریف کر کے، اس گروہ نے اسلامی ریاست کے نام پر ایک ایسا ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کی جو جائز حکومتی نظام کی کم سے کم خصوصیات تک نہیں رکھتا۔
داعش کا جعلی حکومتی نظام، جسے اس نے خلافت پر مبنی اسلامی ریاست کے طور پر پیش کیا، درحقیقت تین خطرناک ستونوں پر کھڑا تھا: جبر اور منظم تشدد، مذہبی تصورات کی جان بوجھ کر تحریف اور بظاہر مشروعیت۔
داعش نے اسلامی عدالتوں اور پولیس جیسے سرکاری اداروں کی تشکیل کر کے خود کو جائز حکومت دکھانے کی کوشش کی۔ مگر عملی طور پر، یہ ادارے مخالفین کو کچلنے، اسلام کی تحریف کرنے اور جرائم کو جواز فراہم کرنے کے آلے کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر، داعش کی نام نہاد اسلامی عدالتوں نے موت کی سزائیں جاری کیں اور مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا بغیر اس کے کہ سب سے بنیادی اسلامی عدالتی معیاروں کی بھی پاسداری کی جائے۔
وہ حکومت جس کا داعش نے دعویٰ کیا، نہ صرف حکومت داری کے عالمی معیاروں سے ٹکراتی تھی، بلکہ خلفائے راشدین کے نظام سے اس کی کوئی مماثلت بھی نہیں تھی۔ جبکہ خلفائے راشدین کا نظام انصاف، مشورے، اور عوام کی رضا مندی اور قبولیت پر مبنی تھا اور احتساب کا پابند تھا، داعش کے رہنما زور اور جبر کے ذریعے اقتدار میں آئے اور صرف اپنے اور اپنے آقاؤں کے مفادات کا ہی سوچتے تھے۔
خلافت کی بحالی کے دعوے کے ساتھ، یہ تکفیری گروہ درحقیقت اسلامی نظام کے پرنور تصور کو خراب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ داعش کے حکومتی نظام میں کوئی مذہبی مشروعیت، عوامی قبولیت اور عملی کارکردگی نہیں تھی۔ یہ ڈھانچہ ایک حقیقی حکومت نہیں تھا، بلکہ ایک خطرناک خواب تھا جس کا واحد مقصد نوجوانوں کو دھوکہ دینا اور ناجائز مقاصد کو آگے بڑھانا تھا۔
اس نظام کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح مذہبی تصورات کو ظالمانہ ڈھانچے کی تشکیل کے لیے تحریف کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا ڈھانچہ جو نہ صرف اسلام کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ علاقے اور دنیا کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ مضمون آئندہ مضامین میں اس انسانیت دشمن نظام کی مزید تحقیق کے لیے ایک عمومی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ یہ غیر قانونی اور بے بنیاد ڈھانچہ آخر کار اب ناکامی سے دوچار ہے۔

