Site icon المرصاد

ظلمتوں کا سایہ! پہلی قسط

داعش کی بنیادوں اور سرگرمیوں پر ایک تحقیق
اسلام، جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے، امن، شفقت اور رحمت کا دین ہے۔ پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور قرآنِ عظیم الشان انسانیت کے لیے روشنی اور ہدایت کی کتاب ہے۔ یہ آسمانی دین محبت اور شفقت کا ایک وسیع میدان ہے جو تمام انسانوں کو عدل و حکمت کے سائے تلے جمع کرتا ہے۔

مگر موجودہ دور میں ایک فتنہ انگیز اور خود ساختہ گروہ ’’داعش‘‘ کے نام سے ظاہر ہوا۔ اس نے اسلام کے مقدس دفاع کا دعویٰ کر کے اس دینِ رحمت کے روشن چہرے کو تاریکی اور تشدد سے آلودہ کیا۔

داعش نے خود کو اسلام کا حقیقی نمائندہ ظاہر کرنے کے لیے ’’خلافت کے احیاء‘‘ اور ’’جہاد‘‘ جیسے نعروں کا سہارا لیا، مگر ان کے اعمال کا اسلام کی اصل تعلیمات سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسلام نے کبھی بےگناہ انسانوں کا قتل، مساجد اور مقدس مقامات کی تباہی، لوگوں کے سر قلم کرنا اور بچوں کو غلام بنانا جائز قرار نہیں دیا۔ یہ تمام افعال نہ قرآنِ عظیم الشان کی تعلیمات میں پائے جاتے ہیں اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ کی سنت میں۔

داعش نے نادان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے دینی مفاہیم کا غلط استعمال کیا۔ قرآن کے آیات کو تاریخی و معنوی سیاق سے کاٹ کر پیش کیا، احادیث کو اپنی خواہش کے مطابق مسخ کیا تاکہ اپنے تشدد کو ’’شرعی‘‘ جواز پیش کر سکے۔ یہ رویہ اسلام کا جھوٹا چہرہ تھا؛ دینداری کے نقاب تلے شیطانی حقیقت۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ یہ تاریکی ہی روشنی ہے اور یہ تشدد ہی رحمت ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف ایک سیاہ سایہ تھے، رحمتِ الٰہی کے وسیع میدان پر؛ ایک ایسا سایہ جو حقیقت کے سورج طلوع ہوتے ہی لازماً ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے داعش کی بنیادوں اور اعمال پر تحقیق صرف ایک سیاسی فریضہ نہیں، بلکہ ایک دینی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اس گمراہ کن سائے کو پہچاننا ہوگا تاکہ اسلام کا حقیقی چہرہ؛ رحمت، امن، رواداری اور عقل و حکمت کا چہرہ دوبارہ دنیا پر روشن ہو۔

یہ تحریر ایک طویل تحقیقی سلسلے کی ابتدا ہے، جو داعش کے فکری اسباب سے لے کر عملی حکمتِ عملیوں اور میڈیا پروپیگنڈہ تک کا جائزہ لینے کی کوشش کرے گی، تاکہ تاریکی کو دور کر کے حقیقت کی روشنی کو نمایاں کیا جا سکے۔

Exit mobile version