ایک ایسے دور میں جب ہر روز سینکڑوں فلسطینی بچے اسرائیل کی صہیونی رژیم کی بمباری تلے خون میں نہا رہے ہیں، "عالمی عدالت انصاف” نامی ایک عدالت انسانیت کے خلاف یہ تمام جرائم اور مظالم کو نظر انداز کر تی ہے، اور امارت اسلامیہ افغانستان کے ان رہنماؤں کو جو برسوں کے جہاد اور جدوجہد کے بعد بہادری اور دلیری سے اپنے ملک میں آزادی، سکیورٹی اور امن قائم کر چکے ہیں، قید اور مقدمہ چلانے کی دھمکی دیتی ہے۔
یہی وہ انصاف ہے جس پر مغرب فخر کرتا ہے؛ وہ انصاف جو غزہ کے بچوں کے قتل پر آنکھیں بند کر لیتا ہے، لیکن افغانستان میں ان لوگوں کے مقدمے کی تلاش میں ہے جنہوں نے اس سرزمین پر امن قائم کیا۔
امارت اسلامیہ افغانستان اپنی دانشمند اور مدبر قیادت کی سربراہی میں برسوں کی بدامنی اور جنگ کے بعد لوگوں کے لیے امن اور استحکام لائی ہے۔ اس حکومت کے قوانین اسلامی شریعت سے اخذ کیے گئے ہیں؛ وہ شریعت جو صدیوں سے انسانیت کے لیے انصاف لایا ہے، لیکن آج مغرب کی عدالتوں میں انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر سزا پاتا ہے! کیا یہی وہ انصاف ہے جس پر دنیا فخر کرتی ہے؟
عالمی عدالت، اس بے اختیار ادارے نے بارہا ثابت کیا ہے کہ یہ صرف بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک آلہ ہے۔ یہ عدالت جو اسرائیل کے قتل عام کے سامنے خاموش ہے، آج اس قیادت کے خلاف حکم جاری کرتی ہے جس نے افغانستان کو قابضین کے پنجوں سے آزاد کرایا ہے۔
کیا یہ کھلا تعصب خود ایک بڑا جرم نہیں ہے؟ کیا غزہ کے مرد، عورتیں اور بچے انسان نہیں ہیں؟ آپ کے خود بنائے ہوئے قوانین انہیں کیوں شامل نہیں کرتے؟ آپ اسرائیل کی صہیونی رژیم کا مقدمہ کیوں نہیں چلاتے؟
امارت اسلامیہ کا سربراہ، ایک ایسا شخص ہے جس نے تدبیر اور دانائی سے افغانستان کو جنگ کے گڑھے سے امن کے ساحل تک پہنچایا ہے۔ وہ جو ہمیشہ اسلامی انصاف پر زور دیتا ہے، آج ایک ایسی تنظیم کی طرف سے موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جو خود مغربی سیاستدانوں کے سائے تلے کام کرتی ہے۔ یہی وہ عدالت ہے جس نے غزہ کے بچوں کے قصاب یعنی نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا ایک حکم بھی نافذ نہیں کیا۔
آج دنیا انصاف کی ایک تمسخر آمیز نمائش کی گواہ ہے؛ وہ انصاف جو صرف کمزوروں کے لیے نافذ ہوتا ہے۔ لیکن افغانستان کے لوگ اپنے پختہ ایمان کے ساتھ جانتے ہیں کہ صرف الہیٰ انصاف ہی ہے جو دنیا پر غالب آئے گا۔ مغرب کی بنائی ہوئی عدالتیں کبھی بھی ہمارے رہنماؤں کی مشروعیت کو سوالوں کے گھیرے میں نہیں لا سکتیں۔
حقیقی انصاف وہ ہے جو قرآن کریم کی حیات بخش آیات سے اخذ کیا جائے، نہ کہ بے اختیار عدالتوں کے سفارشی احکامات میں۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ سیاسی عدالتیں جو طاقت کے مالکوں کی نگرانی میں حقیقت کی جڑوں پر کلہاڑی چلاتی ہیں، ہماری نظر میں کوئی اختیار یا جواز نہیں رکھتیں اور ان کے احکامات کالعدم ہیں۔

