یہ ۲۰۱۴ء کی بات ہے جب ابوبکر البغدادی، عصرِ حاضر کا خود ساختہ خلیفہ اور خوارج کا سرغنہ، موصل کی جامع مسجد النوری کے منبر پر چڑھا اور خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ وہ خلافت جو نہ صرف امت کے اتحاد کا باعث نہ بن سکی بلکہ اس زخمی امت کو مزید سنگین مصیبتوں میں دھکیل دیا۔
اُس وقت داعشی خوارج اپنی طاقت کے عروج پر تھے اور اسی طاقت کی وجہ سے وہ جھوٹے گھمنٹ میں مبتلا تھے۔ وہی غرور جس کے نتیجے میں خلافت کا اعلان، مخالف گروہوں کی تکفیر اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ کا آغاز ہوا۔ مگر ان کی توقعات کے برعکس، اس کھوکھلی خلافت کا اعلان ان کا نقطۂ عروج نہ تھا بلکہ اس فتنے کے زوال اور خاتمے کا آغاز تھا۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ان کے زیرِ قبضہ علاقے ایک کے بعد ایک ہاتھ سے نکلتے چلے گئے اور ان کی سرگرمیوں کا دائرہ روز بروز سکڑتا چلا گیا۔
اب، جب داعش کی طرف سے خلافت کے اعلان کو پورے دس سال بیت چکے ہیں، تو اس منحوس گروہ کی صرف ایک تلخ یاد باقی رہ گئی ہے۔ چند علاقوں کے علاوہ، جیسے افریقی ممالک میں، ان کے لیے کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں بچا۔ جی ہاں! وہی خوارج جو ہر وقت "الدولة الإسلامية باقیة” کا نعرہ لگاتے تھے، آج ان کے ارکان مکمل طور پر در بدر ہو چکے ہیں۔ نہ تو ان کے پاس کوئی مؤثر عملی قوت باقی ہے، اور نہ ہی ان کے "خلیفہ” کا نام و کنیت کے علاوہ کوئی واضح سراغ ملتا ہے۔
اس لیے اس تحریر کی اگلی اقساط میں ہم اس ناپاک گروہ کے آخری بچ جانے والے فعال اڈوں، پسِ پردہ سیاسی تعاون اور اس کی موجودہ صلاحیت کا جائزہ لیں گے۔ اگرچہ داعش اپنی ناپاک خلافت کے سقوط کے بعد مختلف شاخوں اور "ولایتوں” میں بٹ گئی، مگر اس گروہ کی موجودہ سرگرمیوں کا نقشہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے پرانے مرکز یعنی عراق اور شام سے مکمل طور پر بے دخل ہو چکا ہے۔
آج داعشی خوارج کی عملی اور میڈیا سرگرمیوں کا بڑا حصہ افریقہ میں جاری ہے۔ مغربی افریقہ اور خود ساختہ "ولایت الساحل” اس کی موجودہ طاقت کے بنیادی محور ہیں اور نائیجیریا، نائجر اور مالی کے کچھ حصوں میں ان کا وجود ہے۔
یہ شاخیں، داعش کے اصل مرکز کے برعکس، اب منظم حملوں کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور مشرق وسطیٰ کے میڈیا مرکز سے دوری کی وجہ سے عالمی توجہ بھی ان پر کم ہے۔ مگر مشرق وسطیٰ کے قلب میں، جہاں داعش کبھی اپنی طاقت کے عروج پر کھڑی تھی، آج وہاں اس کے محض مدھم سائے اور تلخ یادیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔
عراق اور شام میں تقریباً تمام وہ علاقے جو کبھی اس منفور گروہ کے زیرِ قبضہ تھے، واپس لے لیے گئے ہیں اور داعش کے باقی ماندہ ارکان اب صرف بیابان، پہاڑوں اور دور دراز علاقوں میں کبھی کبھار سائے کی طرح نمودار ہوتے ہیں۔
جنوب اور وسطی ایشیا میں یہ کہانی کچھ مختلف ہے۔ "ولایت خراسان” جسے داعش نے افغانستان اور پاکستان کے لیے مقرر کیا تھا، امارت اسلامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد بری طرح کچلی گئی اور اس کی عملی صلاحیت ختم ہو گئی۔ مگر پاکستان میں، فوجی رجیم کے براہِ راست تعاون سے، وہ دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور علاقے اور پڑوسی ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔
داعش کی سیاسی پشت پناہی کے بارے میں بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ داعش خراسان کو پاکستان کی سرزمین پر تربیت دی جاتی ہے اور آئی ایس آئی سے وابستہ حلقے اس کی خفیہ سرپرستی کرتے ہیں۔
ان سب کے باوجود، داعش کی موجودہ طاقت کا جائزہ بتاتا ہے کہ یہ گروہ مکمل تباہی اور زوال کے دہانے پر کھڑا ہے۔ نہ اس کے پاس پرانی مرکزیت ہے، نہ پرانے کمانڈر زندہ ہیں، نہ علاقے فتح کرنے کی صلاحیت، اور نہ ہی دس سال پہلے والا تنظیمی ڈھانچہ اس کے پاس باقی بچا ہے۔

