Site icon المرصاد

علماء کا قتل؛ پاکستان کی عسکری رجیم کا معمول بن چکا ہے!

علمائے کرام امتِ مسلمہ کے مسیحا اور انبیائے علیہم السلام کے جانشین ہیں۔ وہ امت کے لیے روح اور دل کی مانند ہیں۔ جس طرح ایک جسم روح کے بغیر مردہ ہوتا ہے، اسی طرح امت بھی علماء کے بغیر بے جان اور گمراہ ہو جاتی ہے۔ علمائے کرام کا مقام و مرتبہ نہایت بلند ہے؛ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا دین لوگوں تک پہنچاتے ہیں، امت کے نوجوانوں کو بیدار کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، اسلامی نظام قائم کرتے ہیں اور مومنوں کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی راہیں دکھاتے ہیں۔

علمائے کرام امت کے روحانی و معنوی رہنما ہیں، وہ انبیاء کے منصب پر فائز ہیں اور انہی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ہمیں ان کی اطاعت، عزت اور اکرام کا حکم دیا گیا ہے۔ علماء کے بارے میں گستاخی، ان پر زبان درازی یا ان کے مقدس مقام میں معمولی بے ادبی بھی ایک سنگین جرم سمجھا گیا ہے۔

اسی طرح عام مسلمانوں کا قتل بھی کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا(النساء: ۹۳)
ترجمہ: اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوا، اس پر لعنت کی، اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

جب ایک عام مسلمان کا قتل اتنا بڑا گناہ ہے، تو سوچئے! امت کے روحانی پیشواؤں، علماء و مشائخ کے قتل کا گناہ کتنا ہی سنگین اور ہولناک ہوگا!۔

امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ عالم دین کا قتل کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے، کیونکہ اس کے ذریعے دین کا نور بجھ جاتا ہے۔
انہوں نے لکھا: ’’قتلُ العالِمِ من أعظمِ الكبائرِ لأنَّه إطفاءٌ لنورِ الدِّين.‘‘ (شرح صحیح مسلم، ج ۱۶، ص ۴۵)
ترجمہ: عالم کا قتل کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ یہ عمل دین اسلام کے چراغ کو بجھانے کے مترادف ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا ہے جو عدل و انصاف کا حکم دینے والوں (یعنی علماء و صلحاء) کو قتل کرتے ہیں:
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ۔
(آلِ عمران: ۲۱)
ترجمہ: بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں، اور ان لوگوں کو قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں؛ تو (اے نبی!) آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیجیے۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عن أبي عبيدة بن الجراح رضي الله عنه قال: قلتُ يا رسولَ الله، أيُّ الناسِ أشدُّ عذابًا يومَ القيامة؟ قال: ’’رجلٌ قتل نبيًّا أو من أمر بالمعروف ونهى عن المنكر.‘‘
ترجمہ: حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کس شخص کو ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو، یا اس نے کسی ایسے شخص کو قتل کیا ہو جو نیکی کا حکم اور برائی سے روکتا ہو۔‘‘

لہٰذا علمائے کرام کا قتل نہایت سنگین گناہ ہے، جو اللہ کے غضب، لعنت، اور دردناک عذاب کا باعث بنتا ہے۔ علماء کا خون بہانا دراصل دین کی روشنی کو بجھانے اور امت کے روحانی ستونوں کو گرانے کے مترادف ہے۔

عالمِ دین کا قتل صرف ایک شخص کا قتل نہیں بلکہ یہ عمل گویا کہ پوری امت سے نبوت کے وارثوں کا سلسلہ ختم کرنا ہے۔
پچھلی امتوں میں جب بنی اسرائیل نے انبیاء اور علماء کو قتل کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ذلت، فقر، محتاجی اور بدبختی مسلط کر دی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ۔(البقرة: ۶۱)
ترجمہ: ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں مبتلا ہوئے۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ وہ نافرمان اور حد سے بڑھنے والے تھے۔

آج علماء اسلام کا قتل پاکستان کے طاغوتی فوجی رجیم کا ایک معمول بن چکا ہے۔ علماء کو ناحق شہید کرنا، قید و بند میں ڈالنا، ان کی توہین کرنا، انہیں حق بات کہنے سے روکنا، مدارس کو منہدم کرنا، علمی مراکز پر چھاپے مارنا؛ یہ سب وہ شرمناک اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والے جرائم ہیں جن کی وجہ سے یہ نظام، قرآن کے بیان کے مطابق، ذلت، فقر اور رسوائی میں مبتلا ہے۔

پاکستان کے فوجی رجیم نے اپنی پیدائش ۱۹۴۷ء ہی سے علماء سے محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کی،
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا عطاءاللہ شاہ بخاریؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، مولانا عبدالحامد بدایونیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اور علمائے دیوبند کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی تھی۔

ان علماء نے دین کے احکام کے نفاذ اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی، تو فوجی رجیم نے ان کا ناطقہ بند کیا؛ بعض کو قید کیا، بعض کو نظر بند رکھا، اور بعض کو سزائے موت سنائی۔
۱۹۷۱ء میں جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، تو اس خونی کھیل میں سینکڑوں علماء، مفکرین اور اہلِ قلم کو شہید کر دیا گیا۔

بعد کے ادوار میں بھی بے شمار علماء کو خفیہ طور پر منصوبہ بندی کرکے شہید کیا گیا؛
مثلاً: مفتی نظام الدین شامزئیؒ، غازی عبدالرشیدؒ، شیخ حسن جان شہیدؒ، شیخ عبدالغنیؒ، شیخ نصیب خانؒ اور بہت سے دیگر جید علماء ان کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

۲۰۰۷ء میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر ہونے والا حملہ پورے عالمِ اسلام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جہاں سینکڑوں علماء، طلبہ، حفاظ اور حافظات کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

آج بھی پاکستان کا فوجی رجیم افغانستان کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، جس پر عالمی اور پاکستانی علماء مسلسل ردعمل دے رہے ہیں۔ بہت سے علماء، ان کے ظلم و جبر کے خلاف آوازِ حق بلند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بعض نے ان کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ علماء کا قتل ایک عظیم جرم، اور بدترین ظلم ہے۔ یہ دجالی نظام ہمیشہ سے اس بھیانک گناہ میں ملوث رہا ہے اور یہی جرم اس کی ذلت، بربادی کا بنیادی سبب ہے۔

Exit mobile version