یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ دینی و ممتاز علماء ہر معاشرے میں عوام کے فکری رہنما، اخلاقی مربی اور ملت کے دینی تشخص کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ امت کی فکری بیداری اور معاشرتی شعور کا بنیادی محور ہوتے ہیں۔ معاشرے کے عام لوگ اپنی فکری سمت، طرزِ زندگی، بلکہ اپنے سیاسی مؤقف تک علماء کی گفتگو، کردار اور رہنمائی سے اخذ کرتے ہیں۔
بالخصوص ایسے وقت میں جب کئی صدیوں سے جہادی فکر کمزور پڑ چکی تھی، اُس دور کے علماء، بالخصوص مکتبِ حنفی کے نمائندہ علماء نے اپنی مالی، جانی اور فکری قربانیوں کے ذریعے اسے دوبارہ زندہ کیا۔ یہی علماء تھے جنہوں نے امت کے اندر مزاحمت، عزت اور آزادی کی روح کو تازہ رکھا۔ افغان علماء نے اس تسلسل کو مزید مضبوطی کے ساتھ زندہ رکھا اور آج بھی اسی فکر کے مضبوط حامی ہیں۔
جب عالمی قوتوں نے اس حقیقت کو محسوس کیا کہ ایشیا کی سطح پر علمائے دین کی فکری اور عملی جدوجہد ان کے نفوذ اور مفادات کے لیے سنگین رکاوٹ بن رہی ہے، تو اس فکر کو کمزور، تنہا اور ختم کرنے کے لیے ایک خفیہ سیاسی کھیل شروع کیا گیا۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے بعض مسلم ممالک کو بطورِ آلہ استعمال کیا گیا، اور اسی سلسلے میں پاکستان کے وہ مخصوص حلقے بھی شامل ہیں جنہیں اس پالیسی کے نفاذ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
پاکستان کے متدین علماء سے!
آخر کب تک آپ غفلت کی نیند سوتے رہیں گے؟ روز بروز آپ کے سرکردہ علماء قتل کیے جارہے ہیں، شہید ہورہے ہیں اور اسی خفیہ سیاسی کھیل کا شکار بن رہے ہیں۔ آخر کب تک ’’اعتدال‘‘ کے نام پر خاموشی اختیار کیے رکھیں گے؟ کئی دہائیاں گزر گئیں، آپ قربان ہوتے رہے، مگر اب تک حالات کا گہرا تجزیہ نہیں کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب بھی اس ظالم اور غلام ذہنیت رکھنے والے مخصوص طبقے کے مفادات کے مقابلے میں کوئی کھڑا ہوتا ہے، تو اس کے ردِعمل میں انہی علماء کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو فکری طور پر مخالف سمت سے وابستگی رکھتے ہوں۔
ہندوستان کے ساتھ کشمکش کے دوران اُن علماء کو شہید کیا گیا جو فکری اعتبار سے دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔
اور اب جبکہ افغانستان میں اسلامی نظام کے خلاف دشمنی کو تازہ کیا گیا ہے، تو پاکستان میں اُن علماء کو اس سیاسی کھیل کا نشانہ بنایا جارہا ہے جن کے افغان علماء کے ساتھ گہرے دینی روابط ہیں۔ اس سلسلے کی ایک واضح مثال ایشیا کے عظیم محدث، شہید شیخ ادریس تقبلہ اللہ ہیں۔ یہ ایسا واقعہ ہے جسے آپ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
آخر کب تک ہم خفیہ سیاسی کھیلوں کا ایندھن بنتے رہیں گے؟ کبھی ہماری شہادتوں کا الزام ہندوستان پر لگا دیا جاتا ہے، کبھی ٹی ٹی پی پر، اور کبھی داعش پر۔ مخلص شاگرد اور عوام چند روز آنسو بہاتے ہیں، پھر ہر چیز فراموش کردی جاتی ہے۔ اگر آپ نے اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور نہ کیا، تو یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور یہ قافلہ مزید طویل ہوتا جائے گا۔
داعشی خوارج کے افکار و عقائد کی بنیاد جہالت، انتہاپسندی، تشدد، تکبر اور غرور پر قائم ہے۔ وہ اسلامی مقدس نصوص اور ہدایات کی تشریح اپنی خواہشات، اپنی رائے اور ناقص علم کے مطابق کرتے ہیں۔ اپنی رائے سے اختلاف کرنے والوں کو، چاہے وہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی عظیم شخصیت ہی کیوں نہ ہوں، کافر قرار دیتے ہیں اور قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔ ان کی ظاہری اور جاہلانہ زہد پسندی کا یہ حال ہے کہ کسی دوسرے کے درخت سے گری ہوئی کھجور کھانا انہیں حرام محسوس ہوتا ہے، مگر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مؤمن مسلمانوں کے خون، عزت اور مقام کی حرمت نہ صرف ان کی نظروں سے اوجھل رہتی ہے بلکہ وہ انہی مؤمنوں کے قتل کو جنت کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پاکستان میں متدین علماء اور مخلص مؤمنین کے قتل کے لیے فوجی جرنیلوں نے ایک دوسرا لشکر تیار کیا اور اس کا نام داعش رکھ دیا۔ آج آپ کی ہلاکت کے لیے فوجی جرنیل ’’داعشی خوارج‘‘ کے نام کی اندھی لاٹھی استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ نے داعش کے نام پر ایک خفیہ کھیل مختلف ممالک میں کھیلا مگر کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ کرسکا، بالآخر اس نے یہ منصوبہ اپنے پرانے غلام پاکستانی فوجی رجیم کے حوالے کردیا، اور اس کے استعمال کا منظر آج ہم اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
اگر گزشتہ روز کے افسوسناک واقعے کی طرف آئیں تو وہاں بھی اس واقعے کی ذمہ داری داعش پر ڈالی گئی۔ اس رپورٹ میں ایک اہم نکتہ قابلِ توجہ تھا جو حقیقت کے مطابق نہیں تھا، اور وہ یہ جملہ تھا: ’’قرب حدود مع أفغانستان‘‘ حالانکہ وقوعہ کی جگہ افغانستان کی سرحد سے بہت دور واقع ہے۔ رپورٹ میں ایسی عبارتیں شامل کی گئیں جن کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس قسم کے الفاظ دراصل سیاسی کھیل کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ جملہ فوجی جرنیلوں کی مرضی کے مطابق شامل کیا گیا تاکہ اس واقعے کا الزام افغانستان پر ڈالا جاسکے اور پہلے سے ایک تیار بہانہ موجود ہو۔
پاکستان کے دیندار عوام سے!
علماء کا خون امت کی بیداری کے چراغ ہیں۔ جو لوگ ان چراغوں کو بجھاتے ہیں، درحقیقت وہ امت کو آنے والی تاریکیوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ اگر آج آپ نے اپنے علماء کے خون کا حساب نہ لیا، اگر آپ نے ان خفیہ سیاسی کھیلوں کی جڑوں کو نہ پہچانا، اور اگر آپ نے ظالم خفیہ اداروں کے خلاف آواز بلند نہ کی، تو کل نہ صرف علماء بلکہ اسلام کے فکری مورچے، امت کا عقیدہ اور مسلمانوں کا مستقبل بھی اسی آگ کی نذر ہوجائے گا۔ پھر نہ ماتم کی آہیں کوئی فائدہ دیں گی اور نہ خاموشی کے عذر؛ کیونکہ تاریخ کبھی غفلت کی نیند سونے والی قوموں کو معاف نہیں کرتی۔

