Site icon المرصاد

علماء کے قتل کے پیچھے کون ہے؟

تاریخ میں ایسے بہت سے لشکر گزرے ہیں جن کے قیام کا مقصد تو وطن کا دفاع تھا، مگر رفتہ رفتہ اقتدار، دولت اور بیرونی ایجنڈوں کے چنگل میں اس طرح پھنس گئے کہ اپنی ہی سرزمین، اپنے ہی عوام اور اپنی ہی اقدار کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ پاکستانی فوجی رجیم اسی المیے کی ایک نمایاں مثال ہے، ایک ایسا نظام جس نے استعمار کے فکری ورثے سے جنم لیا، انگریز کے سکیورٹی فلسفے سے پروان چڑھا اور مغرب کے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے تربیت حاصل کی۔

برطانوی استعمار کا سب سے خطرناک کام صرف جغرافیائی تقسیم نہیں تھا بلکہ ذہنوں پر قبضہ کرنا تھا۔ استعمار یہ بات سمجھ چکا تھا کہ اگر مسلمان قوم کی فکر، عسکری ادارے اور سیکیورٹی ڈھانچے کو ان کے عقیدے، غیرت اور اسلامی شناخت سے جدا کر دیا جائے تو پھر مسلمان اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں کچلے جائیں گے۔ اسی لیے ایسے عسکری نصاب ترتیب دیے گئے جن میں وطن، دین، ملت اور اقدار کو “ریاستی مفاد” کے نام پر قربان کرنا جائز ٹھہرایا گیا۔

پاکستانی جرنیل اسی فلسفے کے زیرِ سایہ تربیت پاتے ہیں۔ انہیں یہ سکھایا گیا ہے کہ اقتدار ہر چیز سے بالاتر ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر چیز جائز ہے، چاہے اپنے عوام کا خون ہو، مساجد کی حرمت ہو، علمائے دین کا احترام ہو یا اسلام کا نام ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی ڈالر کی خوشبو آئی، فوج کا رویہ بدل گیا۔ جب بھی مغرب کے مفادات سامنے آئے، اسلام اور مسلمانوں کا سودا کیا گیا۔

کبھی مدارس کے طلبہ کو “اسٹریٹجک گہرائی” کے لیے استعمال کیا گیا اور کبھی انہی افراد کو دنیا کے سامنے دہشت گردی کے منصوبوں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ دوغلی پالیسی محض سیاسی منافقت نہیں بلکہ ایک ایسے فکری نصاب کا نتیجہ ہے جو ضمیر، عقیدہ اور اخلاقی حدود سے عاری ہے۔

لال مسجد کا واقعہ اس دوغلے پن کا سب سے خونریز باب تھا۔ اس دن صرف ایک مدرسہ ہی مسمار نہیں ہوا بلکہ پاکستانی فوج کے اصل چہرے سے نقاب بھی اتار ڈالا گیا۔ وہ فوج جو خود کو اسلام کا محافظ کہتی ہے، اسی نے اسلام آباد کے قلب میں مسجد پر ٹینک چڑھا دیے، قرآنِ کریم جلائے گئے، مدرسے کی طالبات بچیاں شہید ہوئیں اور امت کے دل چیر دیے گئے، مگر فوج کے لیے یہ سب کچھ صرف ڈالر، عالمی رضامندی اور امریکی حمایت کی قیمت تھا۔

اس کے بعد علمائے دین کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ مزید تیز ہوگیا۔ شہید شیخ حسن جانؒ سے لے کر مولانا سمیع الحقؒ، شیخ نصیب خانؒ اور دیگر نامور علماء تک ایک عجیب یکساں نقشہ نظر آتا ہے: پہلے علماء کو بدنام کیا جاتا ہے، ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، انہیں تنہا کیا جاتا ہے اور پھر نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہمیشہ نشانہ علمائے دین ہی کیوں بنتے ہیں؟ کیوں کبھی اقتدار کے اصل مراکز کو ہدف نہیں بنایا جاتا؟ کیوں ان حملوں کا انداز، وقت اور نتائج ایک جیسے ہوتے ہیں؟

یہیں پر “داعشی منصوبہ” بطور سوال سامنے آتا ہے۔ داعش محض ایک مسلح گروہ نہیں بلکہ خطے میں فکری اور سکیورٹی انتشار کا ایک آلہ بن چکی ہے۔ جب بھی اسلام، جہاد، خلافت یا دینی تحریکوں کو بدنام کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو اچانک داعش کا نام سامنے آ جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان حملوں کا نشانہ زیادہ تر علمائے دین، محبین جہاد اور دیگر دینی شخصیات ہی بنتی ہیں، نہ کہ وہ قوتیں جو مسلمانوں پر بمباری کرتی ہیں یا مغرب کی براہِ راست اتحادی ہیں۔

شیخ ادریسؒ کا حالیہ واقعہ بھی اسی طویل سلسلے کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ شہادت سے قبل جاری ہونے والے ان کے صوتی پیغامات میں دباؤ، خوف اور انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کے آثار نمایاں تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ شدید دباؤ میں تھے، اور یہی بات اس احتمال کو تقویت دیتا ہے کہ ان کو خاموش کرنا دراصل کسی بڑے راز کو چھپانے کی کوشش تھی۔ کیونکہ جب کوئی عالم حق بات کہے، سرکاری بیانیے سے اختلاف کرے یا عوام کے شعور کو بیدار کرے تو اس کا وجود استبدادی نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

آج پاکستانی فوجی رجیم داخلی بحران کا شکار ہے۔ عوام عدم استحکام، معاشی زوال، ظلم اور دوغلی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ جب فوج افغانستان کی سرزمین پر حملے کرتی ہے اور مدارس، مساجد، ہسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو عام لوگ سوال اٹھاتے ہیں: اگر یہ “دہشت گردی کے خلاف جنگ” ہے تو اس کے شکار ہمیشہ عام شہری اور دینی مراکز ہی کیوں ہوتے ہیں؟ قرآن کیوں جلتا ہے؟ مساجد کیوں مسمار ہوتی ہیں؟ ہسپتال کیوں بمباری کا نشانہ بنتے ہیں؟

یہ سب کچھ فوج کا اصل چہرہ بے نقاب کرتا ہے۔ جو نظام اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ہر حد پار کر جائے، وہ انسانیت، اسلام اور اخلاقیات کا دعویدار نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے عوام کے ذہن میں فوج کے تقدس کا بت ٹوٹ چکا ہے۔ لوگ سمجھ چکے ہیں کہ “سکیورٹی” کے نام پر کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور کون مسلمانوں کے خون سے تجارت کر رہا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہ افواج جو اپنے عوام کے بجائے بیرونی طاقتوں کی خدمت گزار بن جائیں، بالآخر اپنے ہی لوگوں کے غضب کا سامنا کرتی ہیں۔ طاقت، پروپیگنڈا اور خفیہ ادارے وقتی طور پر حقائق کو چھپا سکتے ہیں، مگر قوم کی اجتماعی یادداشت آخرکار سب کچھ محفوظ رکھتی ہے۔ مدارس میں بہایا گیا خون، جلائے گئے قرآن اور پراسرار طور پر خاموش کیے گئے علماء، یہ سب تاریخ کے حافظے سے کبھی مٹ نہیں سکتے۔

آج پاکستان کے علمائے دین، تعلیم یافتہ طبقے اور عام عوام کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ خوف کی خاموشی کو توڑیں۔ کیونکہ جب ایک عالم کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے تو اگلا نشانہ کوئی اور عالم بنتا ہے۔ جب ایک ظلم کو جواز دیا جاتا ہے تو دوسرا ظلم مزید طاقت پکڑ لیتا ہے۔ اور جب اقتدار کے نام پر سچ چھپایا جاتا ہے تو قومیں مزید بحران میں ڈوبتی جاتی ہیں۔

قومیں اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے دین، اقدار، عزت اور آواز کا دفاع کرتی ہیں۔ بصورتِ دیگر استبدادی نظام عوام کی خاموشی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ تاریخ ایک بار پھر فیصلہ کرے گی کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا تھا اور کون ڈالر، اقتدار اور بیرونی ایجنڈوں کی خاطر اپنے ہی لوگوں کے خلاف صف آراء تھا۔

Exit mobile version