Site icon المرصاد

علماء کے گوشت کے عادی پاکستانی جرنیل

برطانوی استعمار اور اسلام کی دشمنی میں سب سے بڑا وار یہ تھا کہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پاکستانی جرنیلوں کی تربیت کے لیے ایک خاص نصاب تیار کیا گیا۔ پاکستانی جرنیلوں کو ایسا نصاب دیا گیا ہے کہ جو بھی جنرل کے عہدے تک پہنچتا ہے، اس کی سوچ اس انداز میں ڈھل چکی ہوتی ہے کہ وہ کسی چیز کی پروا نہیں کرتا اور اس کے لیے کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہتی۔ ہر جنرل ڈالر کا عادی، مغرب کا تابع، دوغلی سیاست میں ماہر اور اقتدار و اختیار کا دلدادہ ہوتا ہے۔

پاکستانی جرنیلوں نے بارہا پیسے کی خاطر اسلام، منبر، دین، وطن، اپنی قوم اور مسلمانوں کا سودا کیا ہے۔

جب بھی ڈالر کا معاملہ آیا، پاکستانی جرنیلوں نے تمام اسلامی اور انسانی اصولوں کے خلاف فخر کے ساتھ مسلمانوں کو مغربی قوتوں کے ہاتھ فروخت کیا، یہاں تک کہ اپنی مسلمان بیٹی عافیہ صدیقی کو بھی امریکیوں کے حوالے کر دیا۔

جب "دہشت گردی” کے نام پر ڈالر حاصل ہو رہے تھے اور ان کے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا، تو انہوں نے کھلے عام پاکستان کے دل اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر حملہ کر دیا, مسجد کو تباہ کیا اور سینکڑوں مسلمان بہنوں کو شہید کر دیا۔ یہ سازش صرف ڈالر حاصل کرنے اور مغربی قوتوں کو خوش کرنے کے لیے کی گئی۔

انگریزی نصاب نے پاکستانی جرنیلوں کو اس طرح تربیت دی ہے کہ وہ نہ کسی روحانی قدر پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اخلاقی اقدار کو جانتے ہیں۔ پاکستانی جرنیل اقتدار اور ڈالر کی خاطر وطن، قوم اور دین سب کا سودا کرتے ہیں۔ گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں پاکستانی جرنیلوں نے سب سے زیادہ فائدہ اسلام اور علمائے دین کی خرید و فروخت سے اٹھایا ہے۔ اسلامی اخوت کے نام پر عرب ممالک سے ریال لیتے ہیں اور اسلام دشمنی کے نام پر مغرب سے ڈالر وصول کرتے ہیں۔ اب ان کے لیے اسلام اور علماء محض تجارت کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

گزشتہ ڈھائی دہائیوں میں سینکڑوں علماء کو پاکستانی جرنیلوں نے مغربی قوتوں کے اشارے پر یا تو علانیہ قتل کیا یا خفیہ طور پر نشانہ بنایا۔ شہید مولانا حسن جان سے لے کر شیخ نصیب خان اور مولانا سمیع الحق تک، اور آج شیخ ادریس کے قتل تک، اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو ان سب میں پاکستانی فوجی جرنیلوں کا کردار نظر آتا ہے۔

یہ حیران کن نہیں کہ آج تک کسی بڑے جنرل کو ان علماء کی طرح نامعلوم مسلح افراد نے نشانہ کیوں نہیں بنایا؟ کیوں ان معروف علماء کی اموات میں ایک جیسی مماثلت پائی جاتی ہے؟

داعش، جسے امریکہ کی جانب سے جہاد اور مجاہدین کو بدنام کرنے کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور جسے آج پاکستان پال رہا ہے، علمائے دین کو نشانہ بنا کر مجاہدین، جہاد، اسلامی نظام اور خلافت کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ اگر اس منصوبے پر پاکستانی جرنیل عمل درآمد نہیں کر رہے، تو پھر داعش پاکستانی جرنیلوں اور فوجیوں کے بجائے علمائے دین کو ہی کیوں نشانہ بناتی ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ شیخ ادریس کو کیوں قتل کیا گیا؟

گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے اندرونی حالات شدید عدم استحکام کا شکار ہو چکے ہیں، اور عوام کا صبر فوجی حکومت کے مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف لبریز ہو چکا ہے۔ پاکستانی فوجی حکومت نے اپنی دوغلی پالیسی کے تحت عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا، مگر اس حملے نے اس کے کردار کو مزید بے نقاب کر دیا۔ پہلی بار مدرسوں، مساجد اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اور قرآنِ کریم کو بارود کی آگ میں جلایا گیا۔

اس کے بعد ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں مریض مارے گئے۔ حالیہ دنوں میں جامعات اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، حالانکہ یہ مقامات کسی بھی اسلامی یا بین الاقوامی قانون کے تحت عسکری اہداف نہیں ہوتے۔ پاکستانی عوام نے سمجھ لیا کہ جنہیں "دہشت گرد” کہا جاتا ہے، وہ بھی ان سے کہیں زیادہ باوقار ہیں۔

پاکستانی فوج نے علمائے دین سے اپنی حمایت کا مطالبہ کیا، مگر دباؤ کے باوجود علماء اور عوام کی حمایت انہیں حاصل نہ ہو سکی۔

شیخ ادریس کے قتل سے دو دن قبل ان کا ایک صوتی پیغام منظر عام پر آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فوج کے شدید دباؤ میں تھے۔ پاکستانی خفیہ اداروں نے انہیں اس لیے قتل کیا تاکہ ان پر ڈالے گئے دباؤ کا راز افشا نہ ہو سکے، اور ساتھ ہی اپنے مخالفین کو بدنام کیا جا سکے کہ صرف وہ ہی نہیں بلکہ ان کے مخالفین بھی اسلام کا احترام نہیں کرتے۔

اس سے ایک اور مقصد یہ حاصل کیا گیا کہ علمائے دین کو آپس میں دشمنی میں مبتلا کیا جائے۔ نیز مغرب کو یہ اشارہ دیا جائے کہ داعش کے منصوبے کو جاری رکھا جا سکتا ہے تاکہ جہاد، اسلامی نظام اور دین کو بدنام کیا جا سکے۔

پاکستانی علماء اور عوام کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ فوج انگریزی نصاب کے تحت تربیت یافتہ ہے اور علمائے دین کے خون کی عادی ہو چکی ہے۔ اگر اس فوجی رجیم کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو اسی طرح مزید درجنوں علماء کو خفیہ طور پر نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔

Exit mobile version