Site icon المرصاد

علم اور تعلیم کے خلاف راولپنڈی کے جرنیلوں کا وحشیانہ رویہ!

دنیا ترقی اور علمی مسابقت کی جانب گامزن ہے جبکہ پاکستان کا متجاوز اور جارحانہ طرزِ عمل رکھنے والا رجیم ایک بار پھر اپنی بھیانک حقیقت کو بے نقاب کر چکا ہے اور کنڑ میں معصوم شہریوں اور علمی شخصیات کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیے ہیں۔ بالخصوص کنڑ میں سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنانا محض ایک عسکری غلطی نہیں، بلکہ ایک منظم اور مذموم منصوبے کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد افغان نسل کو جہالت میں مبتلا رکھنا اور اس ملک کی فکری و معنوی بنیادوں کو منہدم کرنا ہے۔

یونیورسٹی شعور، روشنی اور معاشرے کی فکری تعمیر کا مرکز ہوتی ہے۔ جب پاکستان کے جرائم پیشہ جرنیل ایسے اداروں کو نشانہ بناتے ہیں تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ افغان طلبہ اور علمی شخصیات کی بیدار فکر سے خوفزدہ ہیں۔ یہ حملہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ پاکستان کا خونی رجیم قلم اور کتاب کے خلاف برسرِ پیکار ہو چکا ہے۔ طلبہ اور اہلِ علم، جو کسی بھی قوم کی ترقی کے ستون ہوتے ہیں، انہیں اس طرح ظلم کا نشانہ بننا ظاہر کرتا ہے کہ حملہ آور عناصر خطے کے استحکام نہیں بلکہ جہالت اور تاریکی کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

کنڑ میں شہری تنصیبات پر حملے اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ رجیم ایک خوشحال اور باوقار افغانستان کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ شہری تنصیبات، جو عوامی خدمات کے لیے وقف ہوتی ہیں، بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنگی اصولوں کے مطابق محفوظ تصور کی جاتی ہیں، مگر پاکستان کا فوجی رجیم مسلسل ان سرخ لکیروں کو عبور کرتا آ رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل افغانستان کی معاشی و سماجی ترقی کے خلاف ایک کھلی تخریب کاری ہے۔

حقوقی نقطۂ نظر سے تعلیمی اداروں اور شہری آبادی پر حملہ صریحاً جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا عمل نہ کسی منطق میں جائز ہے، نہ دینی تعلیمات میں اس کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اسے کسی سیاسی مصلحت کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو رجیم اپنی بقا کے لیے ہمسایہ ملک کے علمی مراکز کو خون میں نہلانے پر اتر آئے، وہ درحقیقت اپنے اخلاقی اور سیاسی زوال پر خود مہر ثبت کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کے فوجی رجیم کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس نوعیت کے حملے افغان عوام کے عزم کو کمزور نہیں بلکہ مزید مستحکم کریں گے۔ جامعات میں بہنے والا خون ایک ایسی بیداری کو جنم دے گا جسے پھر کوئی توپ و ٹینک بھی نہیں روک سکے گا۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جو ہاتھ علم اور روشنی کو بجھانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بالآخر خود تاریکی میں ڈوب جاتے ہیں۔ اس ظلم کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، اور ہر شہید طالب علم کا خون آزادی اور خود انحصاری کی ایک ناقابلِ شکست تحریک میں ڈھل جائے گا۔ ہم عالمی برادری اور قانونی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی اس کھلی جارحیت پر خاموشی اختیار نہ کریں۔ علم دشمن عناصر کے اس سفاکانہ اقدام کی شدید مذمت ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لا کر جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔

Exit mobile version