Site icon المرصاد

عورتوں اور بچوں پر بمباری، انسانیت سوز عمل

انسانیت وہ عظیم قدر ہے جو بنی نوعِ انسان کی بقا، عزت اور وقار کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ہر معاشرے میں، فطرت اور شریعت کے تقاضوں کے مطابق، انسانی جان بالخصوص خواتین اور بچوں کی زندگی سب سے زیادہ مقدس اور محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ مگر افسوس کہ اکثر ظالم قوتیں جنگوں اور تنازعات کے گرم میدانوں میں بارہا ان اقدار کو پامال کرتی ہیں اور بے گناہ انسانوں کو اپنے خونی حملوں کا نشانہ بناتی ہیں۔

اسی تسلسل میں، گزشتہ روز سہ پہر ایک بار پھر پاکستانی ظالم فوج کی جانب سے صوبہ کنڑ کے مرکزی شہر اسعدآباد سے ملحقہ علاقوں میں شہری آبادی اور گھروں پر توپ خانے سے حملے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص شہید ہوا، متعدد دیگر زخمی ہوئے، جبکہ عوام کے مکانات اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ سانحہ محض ایک خاندان کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا المیہ ہے، جس نے افغانستان کے تمام عوام کو سوگوار کر دیا اور دفاعی قوتوں کے جذبہ انتقام کو مزید تقویت دی۔ ان واقعات کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کوئی وقتی یا جزوی حادثہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل دہرائی جانے والی روش ہے۔

اس نوعیت کے حملے، جن میں بالخصوص خواتین اور بچوں جیسے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، انسانیت کے خلاف کھلے جنگی اور انسانی جرائم ہیں۔ شہریوں کی جان، امن اور عزت کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے، اور کوئی بھی حملہ جو نہتے انسانوں کو نقصان پہنچائے، کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ ایسی ناقابلِ معافی کارروائیاں واضح کرتی ہیں کہ پاکستانی رجیم کی ظالم فوج اب بھی جنگی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہے اور انسانی جان کی حرمت کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

جب جنگ بے گناہ انسانوں کے گھروں تک پہنچ جاتی ہے تو وہ اپنی اصولی حدود سے نکل کر ایک بے قابو اور غیر انسانی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے مطابق، شہریوں کو ہر حالت میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا نہ صرف اخلاقی زوال کی نشانی ہے بلکہ ایک کھلا انسانی اور جنگی جرم بھی ہے۔ ایسی کاروائیوں کو کسی بھی دلیل یا توجیہ سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسی طرح، پاکستانی فوجی رجیم طویل عرصے سے افغانستان کی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے اور شہری علاقوں، گھروں اور عوامی تنصیبات پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نوعیت کی مسلسل جارحیت نہ صرف ایک خودمختار ملک کی حاکمیت کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح توہین بھی ہے۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، ایسے جنگی جرائم کو جنگ کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ ان کے خلاف سنجیدہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔

خواتین اور بچوں پر بمباری ایک ایسا مکروہ فعل ہے جسے انسانی ضمیر کسی طور برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ نہ صرف مادی تباہی کا سبب بنتا ہے بلکہ معاشرے کی ذہنی اور نفسیاتی حالت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ وہ باپ جو جنگ کی آگ میں اپنے بچوں اور اہلِ خانہ کو کھو دیتا ہے، ایک ایسے مستقبل پر مجبور ہو جاتا ہے جو درد اور غم سے لبریز ہوتا ہے۔ وہ مائیں جو اپنے بیٹوں اور سہاگوں سے محروم ہو جاتی ہیں، عمر بھر ناقابلِ تلافی صدمے کا بوجھ اٹھاتی رہتی ہیں۔

لہٰذا، یہ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف کے علمبردار اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ خاموشی دراصل ظلم کی تائید کے مترادف ہے، اور انصاف اسی وقت قائم ہوتا ہے جب ذمہ دار عناصر کو ان کے اعمال کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو نہ صرف انسانی اقدار کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی نظام کی بنیادیں بھی متزلزل ہو جائیں گی۔

Exit mobile version