اُحد کا عظیم غزوہ:
اُحد کی جنگ تاریخِ اسلام میں دوسرا بڑا غزوہ تھا، جو مشرکینِ مکہ کے خلاف لڑا گیا۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بدر سے بھی بڑی جنگ تھی، خواہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے ہو یا طاقت و سازوسامان کے اعتبار سے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو ایک سخت آزمائش سے گزرنا پڑا۔ بدر میں جہاں انہیں فتح کی خوشی نصیب ہوئی تھی، وہیں اُحد میں شکست اور بے شمار شہادتوں کا کڑوا ذائقہ بھی چکھنا پڑا۔
اس جنگ میں ایسی لازوال قربانیاں اور جانثاریوں کی داستان رقم ہوئی کہ جس نے تاریخِ اسلام کے اوراق کو ہمیشہ کے لیے روشن کردیا۔ انسانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس معرکے سے مومنوں کے لیے ہر میدان میں عظیم سبق موجود ہے؛ چاہے وہ عقیدے کو مضبوط کرنے کا میدان ہو، اسلام کے لیے جان دینے کا میدان ہو یا امیر کی اطاعت کا میدان۔ یہ سب پہلو اس جنگ کے تحقیقی مطالعے کے بعد بخوبی واضح ہوجاتے ہیں۔
غزوۂ اُحد کے اسباب
اس جنگ کے متعدد اسباب تھے جنہیں سماجی، اقتصادی اور سیاسی پہلوؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ سماجی سبب:
جب مسلمانوں نے غزوہ بدر میں شاندار کامیابی حاصل کی اور قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے، تو قریش کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑکنے لگی۔ وہ کسی موقع کے انتظار میں تھے۔ بدر کے بعد مشرکینِ مکہ جنگ کی تیاریوں میں لگ گئے۔ وہ سکون سے نہ بیٹھ سکے اور انتقام کی آگ نے انہیں بے قرار کردیا۔
اسی لیے بدر میں بچائی گئی قافلے کی تمام دولت قریش کے سرداروں کے حکم سے ضبط کرلی گئی اور ’’دارالندوہ‘‘ میں محفوظ رکھی گئی۔ یہ مال اس کے اصل مالکوں کو واپس نہ کیا گیا تاکہ مسلمانوں کے خلاف آئندہ جنگ میں اسے استعمال کیا جا سکے۔ اس قافلے میں ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار مال و متاع موجود تھا۔
ایک دن قریش کے چند سردار، جیسے جبیر بن مطعم، عکرمہ بن ابوجہل، صفوان بن امیہ، حارث بن ہشام، عبداللہ بن ابی ربیعہ اور حویطب بن عبدالعزی، ابو سفیان کے پاس آئے اور کہا کہ اس مال کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح مال کے اصل مالک بھی خوش ہوجائیں گے۔
ابو سفیان نے جواب دیا: اگر اس سے قریش خوش ہوں گے تو سب سے پہلے میں اس جنگ کے لیے تیار ہوں، کیونکہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں میرا بیٹا ’’حنظلہ‘‘ اور میرے قبیلے کے سردار مارے گئے تھے۔ یوں قافلے کے مال سے ایک بڑا لشکر تیار کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَسَيُنْفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ…﴾
ترجمہ: بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے مال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں، تو وہ مال خرچ کریں گے، پھر وہ ان کے لیے حسرت کا باعث بنے گا اور وہ مغلوب کر دیے جائیں گے۔
۲۔ اقتصادی سبب:
اسلامی لشکر روز بروز پھیل رہا تھا اور ’’دارالاسلام‘‘ کی حدود وسیع ہورہی تھیں۔ اس پیش رفت نے قریش کی معیشت پر گہرا منفی اثر ڈالا۔ قریش کی معیشت دو تجارتی سفروں پر قائم تھی:
پہلا سفر، سردیوں میں یمن کی طرف ہوتا تھا۔
دوسرا سفر، گرمیوں میں شام کی طرف ہوتا تھا۔
وہ شام سے سامان لا کر یمن میں فروخت کرتے اور یمن سے سامان لا کر شام میں بیچتے تھے۔ مدینہ کی اسلامی ریاست شام کے سفر میں بڑی رکاوٹ تھی، کیونکہ شام جانے کا راستہ مدینہ سے گزرتا تھا۔ اس رکاوٹ کی وجہ سے وہ یمن کے سفر سے بھی محروم ہوگئے، کیونکہ ان کے پاس شامی سامان نہیں ہوتا تھا جو وہاں بیچتے۔
یوں قریش ایک شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہوئے اور اس حالت کا تسلسل ان کے لیے سخت نقصان دہ تھا۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ پر مجبور ہوگئے۔
۳۔ سیاسی سبب:
جیسا کہ ذکر ہوا، قریش نے علاقے میں اپنی ساکھ اور وجاہت کھو دی تھی۔ ان کی پرانی دبدبہ باقی نہ رہا تھا۔ اس حیثیت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے انہوں نے مسلمانوں سے جنگ کا راستہ اختیار کیا۔

