مکہ کے لشکر کی تعداد:
ہجرت کے تیسرے سال، ماہ شوال کی سات تاریخ گزر چکی تھی۔ مکہ کے مشرکین نے اپنے ہمسایہ قبائل کے ساتھ مل کر تین ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا۔ اس لشکر میں قریش کی پندرہ خواتین بھی شامل تھیں، جو غلاموں اور خدمت گاروں کے ہمراہ تھیں، تاکہ غزلوں اور رزمیہ نظموں کے ذریعے جنگجوؤں کا حوصلہ بلند رکھیں۔
لشکر کے عمومی کمانڈر ابو سفیان تھے، جبکہ ان کے ماتحت کئی چھوٹے کمانڈر بھی تھے، جو اپنے اپنے دستوں کی قیادت کر رہے تھے۔ اس جنگ میں ابو عزہ الجمحی بھی شامل تھا، جسے غزوہ بدر میں قیدی بنایا گیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فدیہ کے بغیر رہا کیا تھا، اس عہد کے ساتھ کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ لیکن اس نے اپنا عہد توڑا اور اس بار پھر مشرکین کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے آیا۔
مشرک اور وعدے کی پاسداری کہاں!
سپاہیوں کے کمانڈر خالد بن ولید تھے اور ان کے نائب عکرمہ بن ابو جہل تھے۔ لشکر کا عَلم بنو عبد الدار کے پاس تھا۔ ان کے ساتھ تین ہزار اونٹ اور دو سو گھوڑے تھے، جن پر پورے راستے کوئی سوار نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ سات سو زرہیں بھی ان کے ہمراہ تھیں۔
یہ لشکر تعداد اور ساز و سامان کے لحاظ سے مسلمانوں کے لشکر سے بڑا اور طاقتور تھا۔ وہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا، ان کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے مدینہ کی راہ پر چل پڑے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خفیہ اطلاعات ملنا:
عباس بن عبد المطلب مکہ میں موجود تھے۔ انہوں نے دشمن کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی۔ جب کافروں کا لشکر مکہ سے روانہ ہوا تو عباس نے فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ ایک قاصد بھیجا۔ اس نے ایک خط میں دشمن کی نقل و حرکت اور اس کے فوجی تیاریوں کی خبر دی۔ قاصد نے مکہ اور مدینہ کے درمیان پانچ سو کلومیٹر کا فاصلہ تین دن میں طے کیا اور نہایت تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا، جب آپ مسجد قبا میں موجود تھے۔ اس نے عباس کا خط آپ کو دیا، جس میں دشمن کی تعداد، اس کی فوجی اور عسکری طاقت کی سطح اور ان کی نقل و حرکت کا ذکر تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس ایک خفیہ ذریعے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ حباب بن منذر کو بھی قریش کی طرف بھیجا تاکہ معلومات کی مزید تصدیق کی جائے۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے بھی یہی معلومات درست قرار دیں۔
لیکن اس غرض سے کہ مسلمانوں کا حوصلہ کمزور نہ ہو اور وہ کفار کی طاقت سے خوفزدہ نہ ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی صحابہ کرام کو ہدایت کی کہ وہ یہ معلومات راز رکھیں اور کسی کو اس بارے میں نہ بتائیں۔
ہنگامی حالات کے لیے مسلمانوں کی تیاری:
مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے:
چونکہ دشمن کا ہدف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اس لیے آپ کی حفاظت کے لیے ایک گروپ مقرر کیا گیا، جس میں سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر شامل تھے، جو انصار کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حفاظتی حصار بنا کر رکھتے اور ان کے ساتھ رہتے تاکہ دشمن کے تیر کا نشانہ نہ بنیں۔
دوسرے گروپوں کو مدینہ آنے والے راستوں اور بندرگاہوں کی حفاظت پر مامور کیا گیا۔ وہ مدینہ کے تمام داخلی راستوں پر پہرہ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ، ان راستوں کی نگرانی کے لیے بھی گشتی دستے مقرر کیے گئے جہاں سے دشمن کے آنے کا امکان تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشاورت کا اجلاس طلب کیا:
جب دشمن کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جمع کیا اور جنگی منصوبے کے بارے میں مشاورت کی۔ اس اجلاس میں دو آراء سامنے آئیں:
1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ ہم مدینہ میں ہی رہیں، مورچے بنائیں، اور اگر مشرکین بالفرض مدینہ میں داخل ہوں تو ہم تمام راستوں اور گلیوں میں ان کا مقابلہ کریں۔ خواتین چھتوں سے ان پر پتھر برسائیں گی۔ یہ رائے سب سے بہتر تھی۔ منافقین کے سردار (ابن سلول) نے بھی اس رائے کی تائید کی، شاید اس لیے کہ وہ اس طرح جنگ سے بچنا چاہتا تھا کہ کوئی اس کے ارادے کو سمجھ بھی نہ سکے۔ اس نے یہ رائے اس لیے نہیں اپنائی کہ یہ ایک بہتر جنگی حکمت عملی تھی۔
یہ رائے درج ذیل نکات اور وجوہات پر مبنی تھی:
1. مکہ کا لشکر مختلف قوموں اور قبائل پر مشتمل تھا، اس لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ زیادہ دیر تک متحد رہے۔ اگر وہ مدینہ کا محاصرہ بھی کریں تو یہ مختصر وقت کے لیے ہوگا، اور بعد میں ان کے اپنے لشکر میں اختلافات پیدا ہو جائیں گے۔
2. جن شہروں نے اپنے دفاع کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہو، ان کو فتح کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہتھیاروں کی نوعیت یکساں ہو۔
3. جب مدافعین اپنے خاندانوں کے درمیان ہوں تو وہ اپنے گھر، خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے پوری طاقت سے دفاع کرتے ہیں۔
4. خواتین اور بچوں کا بھی جہاد میں حصہ ہوگا، جس سے جنگجوؤں کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔
5. مدافعین ایسے ہتھیار بھی استعمال کریں گے جو دشمن کی صفوں پر گہرا اثر ڈالیں گے، یعنی پتھر پھینکنا۔ یہ پتھر واقعی ایک ایسا ہتھیار تھے جو دشمن کے پاس نہیں تھے اور نہ ہی اس کے دفاع کے لیے کوئی خاص تیاری تھی۔ اسے دشمن کے ہتھیاروں پر ایک اضافی ہتھیار کہا جا سکتا ہے۔
دوسری رائے اگلی تحریر میں، ان شاء اللہ…

