رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی قبر اور مشرکین:
قریش اور ان کے اتحادی لشکر مدینہ کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھے۔ جب وہ أبواء کے علاقے تک پہنچے، تو ہند بنت عتبة نے کہا: ’’ہم محمد کی والدہ کی قبر کو اکھاڑیں گے‘‘۔
مگر باقی لوگوں نے اسے اس عمل کے ممکنہ خطرات کی طرف متنبہ کیا اور آخرکار وہ اس اقدام سے باز آگئی۔
اسلامی لشکر کا شیخین نامی علاقے میں قیام:
جب اسلامی لشکر شیخین کے علاقے میں پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کا معائنہ کیا، تو چھوٹے صحابہ کو واپس بھیجا گیا۔ اس کے بعد وہیں قیام کیا اور رات گزاری۔
محمد بن مسلمة رضی اللہ عنہ نے پورے لشکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کے گرد نگرانی کی اور رات بھر پھیرا دیا۔
اس کے بعد، اسلامی لشکر نے دو اہم حکمت عملیاں اختیار کیں:
۱۔ رات کے آخری حصے میں حرکت:
اسلامی لشکر نے رات کے آخری حصے میں حرکت اختیار کی، کیونکہ اس وقت دشمن گہری نیند میں ہوتا تھا۔ طویل سفر اور شدید تھکن کے بعد ان کی نیند اور بھی گہری ہوتی تھی، اور جب تک وہ جاگتے اور حالات کا ادراک کرتے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی تھی۔
۲۔ خفیہ راہ اختیار کرنا:
دوسری حکمت عملی یہ تھی کہ لشکر نے خفیہ راستوں کا انتخاب کیا تاکہ مشرکین کو خبر نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کون ہمیں ایسی راہ پر لے جائے گا جس کی دشمن کو خبر نہ ہو؟‘‘
ابو خیثمہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
’’مجھے ایسے راستے کا علم ہے، اور یوں انہوں نے درختوں اور باغوں کے درمیان خفیہ راہ اختیار کی۔‘‘
اس دوران، اسلامی لشکر ایک منافق (ربعی بن قیظی) کے علاقے سے گزر رہا تھا۔ اس منافق نے مسلمانوں کو اپنے باغ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی اور اس راستے سے احد تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے بغض کی وجہ سے مسلمانوں کی آنکھوں میں خاک پھینکی اور انہیں برا بھلا کہا۔ مسلمان اسے قتل کرنا چاہتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
اس کے باوجود، اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو قابو میں لاتے، سعد بن زید رضی اللہ عنہ کا حملہ اس منافق کے سر پر لگا اور اس کا سر زخمی ہوا۔ بعد ازاں، اسلامی لشکر نے ربعی بن قیظی کے علاقے سے گزر کر احد کا راستہ اختیار کیا۔
منافقین کا لشکرِ اسلام سے الگ ہونا:
جب اسلامی لشکر احد کے قریب پہنچا، تو منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی بن سلول، جن کے تین سو پیروکار تھے، اسلامی لشکر سے الگ ہو گئے اور واپس مدینہ روانہ ہو گئے۔ ابن سلول بہانہ بناتا رہا کہ:
’’میری بات جنگ کے بارے میں کیوں نہیں مانی گئی؟ ہم مدینہ سے کیوں نکلے؟‘‘
مگر یہ صرف بہانہ تھا۔ اصل مقصد یہ تھا کہ اسلامی لشکر میں اختلاف پیدا کرے، حوصلے کمزور کرے اور میدانِ جنگ میں مورال پست کردے۔
اسی سلسلے میں اللہ تعالی نے قرآن میں یہ آیات نازل فرمائیں:
وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ (آل عمران: ۱۶۶)
ترجمہ: اور جو کچھ تمہارے ساتھ اس دن پیش آیا جب دونوں گروہ آپس میں آمنے سامنے ہوئے، وہ اللہ کے حکم سے ہوا تاکہ اللہ مومنوں کو پہچان سکے۔
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَاتَّبَعْنَاكُمْ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ [آل عمران ۱۶۷]
ترجمہ: اور اس لیے کہ اللہ ان لوگوں کو پہچان لے جنہوں نے نفاق اختیار کیا، اور جب ان سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا دفاع کے لیے نکلیں، تو وہ بولے؛ اگر ہمیں جنگ کا علم ہوتا تو ہم یقیناً آپ کی پیروی کرتے۔ اسی دن یہ لوگ ایمان کے لحاظ سے کفر کے قریب ترین تھے۔ اپنے الفاظ سے وہ وہی کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ اس سے بہتر جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں۔
عبد اللہ بن حرام رضی اللہ عنہ نے کوشش کی کہ انہیں رکنے پر آمادہ کیا جائے اور واپس لایا جائے، مگر وہ راضی نہ ہوئے اور کہا:
’’اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم جنگ کے لیے نکلے ہو تو ہم ہرگز ساتھ نہ آتے۔”
اللہ کی راہ میں صرف وہی شخص لڑ سکتا ہے جو حقیقی مومن ہو، جس کے دل میں نفاق کا زہر نہ گھلا ہو، حسد و بغض کے ناسوروں سے پاک ہو۔ احد کی فیصلہ کن لڑائی میں ابن سلول اور اس کے پیروکاروں کا ایمان کمزور تھا؛ وہ صرف اپنے دنیاوی مفادات کے لیے ایمان کا اظہار کرتے تھے، ورنہ اصل ایمان کی مٹھاس سے وہ محروم تھے۔
جب منافقین الگ ہوئے تو اسلامی لشکر میں صرف سات سو مخلص مسلمان باقی رہ گئے۔ منافقین کا رویہ کچھ حد تک اسلامی لشکر کے دیگر گروہوں پر بھی اثرانداز ہوا، اور قریب تھا کہ بنو حارثہ اور بنو سلمة بھی ان کی طرح الگ ہو جائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے قدم مضبوط کیے اور وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔
اسی حوالے سے قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی:
إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (آل عمران: ۱۲۲)
ترجمہ: جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بزدلی اختیار کرلیں، تو اللہ ان دونوں کا ولی تھا، اور مومنوں کے لیے لازم ہے کہ وہ صرف اللہ پر توکل کریں۔

