Site icon المرصاد

غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق! چونتیسویں قسط

معرکے کا آخری مرحلہ:
ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا، مشرکین پسپا ہو گئے اور میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ اس وقت مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے۔ پہلا مرحلہ مسلمانوں نے جیت لیا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی نصرت کا وعدہ پورا فرمایا اور انہیں فتح عطا کی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ ۚ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ.
ترجمہ: اور یقیناً اللہ جل جلالہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، جب تم اس کے حکم سے انہیں قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ تم کمزور پڑ گئے، اور معاملے میں آپس میں اختلاف کرنے لگے، اور نافرمانی کر بیٹھے، اس کے بعد کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جو تمہیں پسند تھی۔ تم میں سے کچھ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کے خواہاں تھے۔

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
غزوۂ اُحد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت بڑی فتح عطا فرمائی تھی۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول سے اختلاف کیا، تو انہوں نے جواب میں یہی مذکورہ آیت ہمیں پڑھ کر سنائی۔
[تفسیر ابن کثیر، جلد ۱، صفحہ ۴۲۱]

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت:
جبیر بن مطعم ایک مشرک تھا۔ غزوۂ بدر میں اس کے چچا طُعَیمہ بن عدی کو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، اس لیے جبیر اس مرتبہ اپنے چچا کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ اس کے پاس وحشی بن حرب نامی ایک ماہر نیزہ باز غلام تھا۔ اس نے اس سے کہا: اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا، تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔

وحشی، جو بعد میں مسلمان ہو گیا، بیان کرتا ہے: میں اسی نیت سے نکلا تھا۔ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تلاش میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ شیر کی طرح کفار کی صفیں چیرتے چلے جا رہے ہیں اور کوئی بھی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ میں ایک پتھر کی آڑ میں چھپ گیا اور موقع کا انتظار کرنے لگا۔ اسی دوران سباع بن عبدالعُزّی ان کے سامنے آیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسے للکارتے ہوئے فرمایا:
’’آگے آ، اے سنت کروانے والی عورت کے بیٹے!‘‘
پھر اس پر جھپٹے اور ایک ہی وار میں اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔
وحشی مزید کہتا ہے: اسی وقت میں نے اپنا نیزہ نشانہ بنا کر پھینکا، جو ان کے پیٹ میں اس طرح لگا کہ پشت سے نکل گیا۔ انہوں نے میری طرف بڑھنے کی کوشش کی مگر طاقت نہ رہی اور زمین پر گر پڑے۔ میں ان کے پاس گیا، نیزہ نکالا، اور پھر جب مکہ پہنچا تو مجھے آزاد کر دیا گیا۔

یہ اسلام کے شیر کی شہادت تھی؛ وہ جس کے سامنے کوئی مشرک ٹھہرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اور جو ہمیشہ آمنے سامنے کی جنگ میں عظیم کارنامے انجام دیتا رہا۔ اگرچہ یہ اسلام کے لشکر کے لیے ایک بڑا نقصان تھا، لیکن اس کے باوجود فتح کی بشارتیں موجود تھیں اور مسلمانوں کے چہروں پر کامیابی کے آثار نمایاں تھے۔ اس لشکر میں ایسے اور بھی شیر موجود تھے جن سے مشرکین کے دل کانپتے تھے اور جن کا سامنا کرنے کی طاقت وہ نہیں رکھتے تھے۔

جبلِ رماۃ پر مقرر صحابہ کی لغزش:
ہم پڑھ چکے ہیں کہ جبلِ رماۃ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس صحابہ کرام کو متعین فرمایا تھا تاکہ مسلمانوں کی پشت کی حفاظت کریں۔ لیکن جب انہوں نے مشرکین کو بھاگتے ہوئے اور مسلمانوں کو غالب آتے دیکھا تو ان میں سے ۳۹ صحابہ کرام اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اب فتح یقینی ہو چکی ہے اور ہمیں بھی مالِ غنیمت جمع کرنے میں مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے۔
لیکن ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اجازت نہیں دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت حکم کی حکمت کو سمجھ چکے تھے، مگر اس کے باوجود وہ صحابہ اپنی جگہ چھوڑ کر میدان میں اتر آئے۔ جبلِ رماۃ پر صرف گیارہ صحابہ باقی رہ گئے، جن میں حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔

خالد بن ولید جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے نے جب اس ٹیلے کو خالی دیکھا تو اسے ایک سنہری موقع سمجھا کہ ہاری ہوئی جنگ کو پلٹ دیا جائے۔ انہوں نے چند مشرکین کے ساتھ مل کر ان باقی ماندہ گیارہ صحابہ کرام پر حملہ کیا، انہیں شہید کر دیا، اور پھر مسلمانوں پر پیچھے کی طرف سے حملہ آور ہو گئے۔ اس وقت کچھ مسلمان مالِ غنیمت جمع کر رہے تھے اور کچھ مشرکین کا پیچھا کر رہے تھے، انہیں بھگا چکے تھے، مگر بے خبری میں خالد کے سوار پیچھے سے آ پہنچے اور اس موقع پر بہت سے مسلمان شہید کر دیے گئے۔

جو مشرکین بھاگ چکے تھے، جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو واپس پلٹ آئے۔ یوں مسلمان درمیان میں پھنس گئے اور نافرمانی کا بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ:
لشکرِ اسلام کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔ اس افراتفری کے عالم میں وہ ابنِ قَمِئَہ کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ چونکہ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ چہرے مہرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے، اس لیے مشرکین نے یہ گمان کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔
ابنِ قَمِئَہ چیخ پڑا: ’’قَتَلْتُ مُحَمَّدًا‘‘
یعنی: میں نے محمد کو قتل کر دیا۔
اس اعلان سے مسلمانوں کے باقی ماندہ حوصلے بھی ٹوٹ گئے اور سب کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات پیدا ہو گئے: وحی کا کیا بنے گا؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟ یہی وہ کیفیت تھی جس نے بہت سے لوگوں کو جنگ سے ہاتھ کھینچ لینے اور بیٹھ جانے پر مجبور کر دیا۔

Exit mobile version