Site icon المرصاد

غزوات النبیﷺ اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق! پینتیسویں قسط

مایوسی کی تاریکی اور چند صحابۂ کرامؓ کی بے مثال جدوجہد:
اس ہنگامۂ کارزار میں مسلمان مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ سن کر مایوس ہو کر بیٹھ گئے، بعض مدینہ منورہ کی طرف لوٹ گئے، چند صحابۂ کرامؓ رسول اللہ ﷺ کے گرد ڈٹ کر آپ کا دفاع کر رہے تھے، اور کچھ دیگر میدان کے مختلف گوشوں میں دشمن سے برسرِ پیکار تھے۔ وہ اس اچانک پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نبرد آزما تھے اور مسلمانوں کے دلوں سے مایوسی کی اس تاریکی کو چھانٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہی میں سے یہاں ہم دو جلیل القدر صحابۂ کرامؓ کے واقعات بیان کرتے ہیں:

۱۔ ثابت بن دحداحؓ
جب انہوں نے بعض صحابہؓ کو بیٹھے دیکھا تو بلند آواز میں پکار کر کہا:
’’اگر محمد ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو اللہ ربِّ متعال تو زندہ ہے، اس ذات پر کبھی موت نہیں آسکتی۔‘‘
یہ کہہ کر وہ شیرِنڈر کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے اور اسی حال میں لڑتے رہے یہاں تک کہ شہادت کا جام نوش کیا۔

۲۔ انس بن نضرؓ
انہوں نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ جب انہوں نے صحابہؓ کو بیٹھے دیکھا تو فرمایا:
’’تم کیوں بیٹھے ہو؟‘‘
لوگوں نے کہا: ’’محمد ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔‘‘
انسؓ نے کہا: ’’تو پھر اٹھو! اسی مقصد کے لیے مر جاؤ جس مقصد کے لیے محمد ﷺ شہید ہوئے ہیں۔ اگر محمد ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو اللہ ربِّ متعال تو زندہ ہے۔‘‘

اس کے بعد وہ آگے بڑھے اور یہ دعا ان کی زبان پر تھی:
’’اے اللہ! میں ان چند مسلمانوں کے طرزِ عمل سے تیری بارگاہ میں معذرت خواہ ہوں، اور مشرکوں کے اعمال سے بیزار ہوں۔‘‘

پھر وہ مشرکوں کی طرف لپکے اور آخری سانس تک جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ ان کے جسم پر اسّی سے زائد زخم تھے۔ کوئی انہیں پہچان نہ سکا، صرف ان کی بہن نے انہیں شناخت کیا۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾
ترجمہ: ’’مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا، پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کر چکے، اور کچھ منتظر ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی۔‘‘

وہ لوگ جو مدینہ منورہ کی طرف لوٹ گئے تھے، اللہ ربِّ متعال نے انہیں بھی معاف فرما دیا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ﴾
ترجمہ: ’’اور تمہیں جو مصیبت اس دن پہنچی جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں، وہ اللہ کے حکم سے تھی، اور اس لیے کہ اللہ مومنوں کو ظاہر کر دے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کے گرد شدید جنگ اور آپ کا زخمی ہونا:
مشرکوں کی اچانک یلغار کا واحد ہدف رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس تھی۔ وہ قریب تھے کہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جائیں، مگر اللہ ربِّ متعال نے اپنے رسول ﷺ کی حفاظت فرمائی اور آپ کو ان کے ہاتھوں شہید ہونے سے بچا لیا۔

البتہ ابنِ قمئہ نامی مشرک نے رسول اللہ ﷺ پر حملہ کیا اور آپ کے چہرۂ مبارک کو زخمی کر دیا۔ عتبہ بن ابی وقاص نے پتھر مارا جس سے آپ کا نچلا رباعی دانت ٹوٹ گیا اور لبِ مبارک زخمی ہوا، اسی دوران پیشانی مبارک پر بھی زخم آیا۔ روایات میں آتا ہے کہ جب ابنِ قمئہ نے ضرب لگائی تو اس نے کہا: ’’یہ لو! میں قمئہ کا بیٹا ہوں۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تجھے ذلیل اور ہلاک کرے۔‘‘

چند ہی دن بعد ابنِ قمئہ پر ایک پہاڑی بکرا مسلط کر دیا گیا جس نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ جن ہاتھوں نے رسولِ خدا ﷺ کو ایذا پہنچائی ہو، وہ کیسے سلامت رہ سکتے ہیں، اور کیوں نہ اپنے اعمال کی سزا پائیں؟
مشرک مسلسل حملے کرتے رہے، مگر اسی وقت بعض صحابۂ کرامؓ نے جان کی بازی لگا کر رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔ ان کی قربانیوں کا ذکر آئندہ تحریروں میں آئے گا، ان شاء اللہ۔

مایوس چہروں پر امید کی کرن:
رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی افواہ دیر تک پھیلی رہی، مگر ایک موقع پر کعب بن مالکؓ نے بلند آواز سے اعلان کیا:
’’خوشخبری ہو! خوشخبری ہو! رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں۔‘‘
یہ محض ایک آواز نہ تھی، بلکہ اللہ کی نصرت سے مردہ دلوں میں روح پھونکنے اور مایوسی سے مرجھائے ہوئے سینوں میں امید کے چراغ روشن کرنے کا اعلان تھا۔
جب کعبؓ نے یہ نعرہ لگایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اب آواز بلند نہ کرو، مگر یہ صدا چند صحابۂ کرامؓ تک پہنچ چکی تھی، چنانچہ وہ فوراً رسول اللہ ﷺ کے دفاع کے لیے آگے بڑھے۔

رسول اللہ ﷺ کا بے مثال دفاع:
ہم نے ذکر کیا کہ مشرکوں کے شدید حملے کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چند صحابۂ کرام موجود تھے جو آپ کا دفاع کر رہے تھے۔ مہاجرین میں سے یہ سات صحابہؓ تھے:
ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عبد الرحمن بن عوف، ابو عبیدہ بن الجراح، سعد بن ابی وقاص، طلحہ بن عبید اللہ، اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اسی طرح انصار میں سے بھی سات صحابہؓ تھے:
سعد بن معاذ، سہل بن حنیف، ابو دجانہ، اسید بن حضیر، عاصم بن ثابت، حباب بن منذر، اور حارث بن صمہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
ایک موقع پر طلحہ بن عبید اللہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما تنِ تنہا رسول اللہ ﷺ کا دفاع کر رہے تھے، پھر ابو بکر صدیق اور دیگر صحابہ بھی آن ملے۔
یہ حضرات جان ہتھیلی پر رکھ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈٹے رہے۔ مشرکوں کے حملوں اور تیروں کے سامنے انہوں نے اپنے سینے سپر کر دیے تاکہ رسول اللہ ﷺ کو کچھ نہ ہو۔
اسی دوران رسول اللہ ﷺ نے ان صحابہؓ کے ساتھ پہاڑ کی طرف پیش قدمی شروع کی اور مسلمانوں کو پکارا:
’’اِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ، اِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ‘‘
’’میری طرف آؤ، اے اللہ کے بندو!‘‘
مشرکوں نے راستہ روکنے کی بہت کوشش کی، مگر صحابۂ کرامؓ نے انہیں پیچھے دھکیل دیا اور وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

ایک علمی نکتہ
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود صحابۂ کرامؓ کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں: کہیں بارہ، کہیں گیارہ اور کہیں سات کا ذکر ہے۔ ان روایات میں کوئی حقیقی تعارض نہیں، اس لیے کہ اس موقع پر صحابہؓ کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہی، اور ہر راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق بیان کیا۔ اسی وجہ سے روایات میں اختلاف نظر آتا ہے۔

Exit mobile version