غزوہ بدر کے بعد ہونے والے غزوات:
غزوۂ بدر کے بعد مدینہ کی اسلامی ریاست کے قدم مضبوط ہو گئے اور خطے میں ایک طاقتور حکومت کے طور پر پہچانی جانے لگی۔ اس حالت نے اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ کیا۔ لیکن دوسری جانب یہ صورتِ حال سازشی عناصر اور دشمن قوتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گئی، کیونکہ انہیں اپنی موجودگی پہلے سے زیادہ خطرے میں محسوس ہونے لگی۔
وہ کسی طور پرسکون نہ تھے، ہمیشہ مدینہ کو کمزور کرنے یا اسے ختم کرنے کے خواب دیکھتے اور نت نئے منصوبے اور سازشیں تیار کرتے رہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ مدینہ کی اسلامی ریاست کو ان کی سازشوں سے آگاہ فرماتا اور ریاست ان تمام دسیسوں کو ناکام بناتی۔ بدر کے بعد چند چھوٹے غزوات بھی پیش آئے، جن کا یہاں مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے:
۱۔ غزوۂ کُدر (بنو سُلیم کے خلاف):
بنو سُلیم قبیلہ دراصل غطفان کی ایک شاخ تھی۔ اس قبیلے کے کچھ لوگ اس مقصد کے لیے جمع ہوئے کہ مدینہ پر اچانک حملہ کریں۔ اس وقت مسلمان ابھی ابھی غزوۂ بدر سے لوٹے تھے اور صرف سات دن ہی گزرے تھے۔ دشمنوں کے خیال میں مسلمان ابھی تک تھکے ہوئے ہوں گے، اس لیے یہ ایک موزوں موقع ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ دو سو صحابۂ کرام کے ساتھ فوراً روانہ ہوئے۔ جب آپ ﷺ کُدر کے علاقے میں پہنچے، جہاں دشمن جمع تھے، تو بنو سُلیم مقابلے کی تاب نہ لا سکے اور بھاگ کر پہاڑوں میں منتشر ہو گئے۔ انہوں نے عجلت میں پانچ سو اونٹ بھی پیچھے چھوڑ دیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مالِ غنیمت سے خمس (پانچواں حصہ) اپنے لیے رکھا اور باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیا، یوں ہر سپاہی کے حصے میں دو دو اونٹ آئے۔ آپ ﷺ وہاں تین دن قیام فرما کر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔ مدینہ کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے آپ ﷺ نے ۔۔ روایتوں کے اختلاف کے ساتھ ۔۔ یا تو سباع بن عرفطہ کو یا پھر عبد اللہ بن اُم مکتوم کو جانشین مقرر فرمایا۔
۲۔ غزوۂ سُویق:
ابو سفیان، جس نے غزوۂ بدر میں بھاری جانی ومالی نقصان اٹھایا تھا، شدید غصے میں تھا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدلہ نہ لے لے، خود کو جنابت سے پاک نہ کرے گا۔
چنانچہ وہ دو سو سواروں کے ساتھ مدینہ کی سمت روانہ ہوا اور ’’نَیب‘‘ نامی پہاڑ کے دامن میں جا ٹھہرا، جو مدینہ کے مرکز سے بارہ میل کے فاصلے پر تھا۔ اسے مدینہ پر کھلے عام حملے کی ہمت نہ ہوئی، لہٰذا اس نے دہشت گردی اور چھاپہ مار کارروائی کا منصوبہ بنایا۔
رات کے وقت وہ بنو نضیر کے ایک سردار، سلام بن مشکم کے گھر گیا، وہاں شراب پی اور اس کے ساتھ حملے کا منصوبہ بنایا۔ پھر ابو سفیان اور اس کے ساتھی مدینہ کے قریب ’’عُریض‘‘ نامی علاقے میں داخل ہوئے، دو مسلمان شہید کیے، کھجور کے چند درخت کاٹے اور کچھ کو آگ لگا دی، پھر فوراً وہاں سے فرار ہو گئے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ دو سو مہاجرین کے ساتھ ان کے تعاقب میں نکلے اور ’’قرقرة الکدر‘‘ کے مقام تک جا پہنچے، لیکن ابو سفیان اور اس کے ساتھی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ غزوہ ہجرت کے دوسرے سال، غزوۂ بدر کے صرف دو ماہ بعد، یعنی ذوالحجہ کے مہینے میں پیش آیا۔ اس دوران مدینہ کے انتظامی معاملات ابو لُبابہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کیے گئے تھے۔
اسے غزوۂ سُویق کیوں کہا جاتا ہے؟
ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں نے بھاگتے وقت اپنے سامانِ خور و نوش میں سے ’’سویق‘‘ (یعنی گندم یا جو کا پیسا ہوا آٹا) راستے میں پھینک دیا، تاکہ بوجھ ہلکا ہو جائے اور رفتار تیز ہو۔ مسلمانوں نے یہ تھیلے جمع کیے اور مدینہ لے آئے۔ اسی نسبت سے اس معرکے کو ’’غزوۂ سُویق‘‘ کہا جاتا ہے۔

