غزوہ ذی امر:
رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی کہ بنو ثعلبہ اور محارب قبیلے "ذی امر” کے علاقے میں مسلمانوں کے خلاف جنگ اور مدینہ منورہ پر حملے کے لیے جمع ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ فوراً ساڑھے چار سو (۴۵۰) ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ان قوموں کو خبر ملی کہ اسلام کا لشکر ان کی طرف آ رہا ہے، تو وہ بھاگ گئے اور پہاڑوں میں منتشر ہو گئے۔
اسلامی لشکر "ذی امر” کے علاقے میں ایک چشمے کے کنارے ٹھہرا، وہاں تقریباً ایک مہینہ قیام کیا، تاکہ دشمنوں کے دلوں میں مسلمانوں کی قوت کا خوف اور بڑھ جائے۔ یہ غزوہ ہجرت کے تیسرے سال ہوا، اور مدینہ منورہ کی ذمہ داری اس وقت حضرت عثمان بن عفانؓ کے سپرد تھی۔
بلند و برتر رب مجھے بچائے گا!
اسی رات سخت بارش ہوئی، جس سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے بھی بھیگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سے کچھ دور، ایک درخت کے نیچے بیٹھے کپڑے سکھا رہے تھے۔ اسی وقت، ایک مشرک جس کا نام دعثور بن الحارث تھا (بنو ثعلبہ کا سردار اور ایک طاقتور آدمی)، متوجہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اکیلے بیٹھے ہیں۔ وہ آیا، تلوار کھینچی، اور کہا: "اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ، بلند و برتر رب مجھے بچائے گا!”
اسی لمحے، اللہ جل جلالہ کے قدرت سے مشرک کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تلوار اٹھائی، اور اس سے پوچھا: "اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟”
مشرک نے حسرت بھری آنکھوں سے دیکھا اور کہا: "کوئی نہیں!”
زیادہ وقت نہ گزرا کہ دعثور اس واقعے کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچان گیا، دل کھل گیا، ایمان لے آیا، اور کلمہ پڑھ لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تلوار واپس کر دی اور اسے آزاد کر دیا۔ دعثور چلا گیا اور اپنے قبیلے میں پہنچا۔
اس کے قبیلے نے پوچھا: "کیا ہوا؟”
اس نے جواب دیا: "میں ایک لمبے شخص سے ملا، اس نے میرے سینے پر مارا اور مجھے پیٹھ کے بل گرا دیا، تو میں سمجھ گیا کہ یہ ایک فرشتہ ہے۔ بعد میں میں ایمان لے آیا اور محمد ﷺ کا پیروکار بن گیا۔”
اس کے بعد، دعثور اسلام کا داعی بن گیا اور اپنے قبیلے کو اسلام کی حقانیت کی طرف بلایا۔
غزوہ بحران:
یہ غزوہ ہجرت کے تیسرے سال، جمادی الاولٰی کے مہینے میں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ تین سو (۳۰۰) ساتھیوں کے ساتھ "بحران” نامی علاقے کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ علاقہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے، اور مقصد بنو سلیم قبیلے سے جنگ تھا، لیکن وہ پہلے ہی بھاگ گئے تھے، اس لیے جنگ نہ ہو سکی۔
اسلامی لشکر نے وہاں دس دن گزارے اور پھر مدینہ منورہ واپس لوٹ آیا۔
غزوات بدر، سویق، ذی امر اور بحران سے حاصل ہونے والے اسباق:
۱. غزوہ بدر نے یہ ثابت کر دیا کہ: جو تم سے جنگ کرے، تم بھی اس سے جنگ کرو، اور جو صلح کرے، تم بھی اس سے صلح کرو۔ یہی وہ نبوی طرزِ عمل ہے جو رسول اللہ ﷺ نے یہود کے ساتھ بھی اختیار فرمایا تھا۔
۲. ان غزوات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ: اسلامی لشکر کا خفیہ نظام بہت مضبوط تھا۔ اس سے پہلے کہ بنو سلیم، بنو ثعلبہ اور محارب قبیلے مسلمانوں کے خلاف براہِ راست جنگ شروع کرتے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے منصوبے ناکام بنا دیے۔ اسلامی خفیہ نیٹ ورک نے معلومات فراہم کیں، اور انہی کی بنیاد پر اسلامی لشکر نے دشمن کی مجلسوں، مشاورتوں اور فوجی مراکز پر حملے کیے، انہیں منتشر کر دیا۔
۳. آج کے اسلامی تحریکوں اور لشکروں کو بھی اسی طرزِ عمل سے سبق لینا چاہیے: فتنوں کو پھیلنے، بڑھنے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے پہلے روک دینا چاہیے، بلکہ ان کا آغاز ہی میں خاتمہ کر دینا چاہیے۔

