بدر، بنو سُلیم اور سُویق کے غزوات سے حاصل ہونے والے اسباق کے تسلسل میں چند مزید اہم نکات یہ ہیں:
۳: ان تمام غزوات سے یہ بات واضح ہوئی کہ مجاہد اگر اللہ کی رضا کے لیے جہاد کے ارادے سے میدان میں نکلے، چاہے جنگ پیش آئے یا نہ آئے، ہر حال میں اسے اجر ملتا ہے۔ کیونکہ غزوۂ سُویق میں جب اسلامی لشکر بغیر لڑائی واپس لوٹا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ’’یا رسول اللہ! کیا یہ بھی غزوہ شمار ہوگا اور ہمیں اس پر اجر ملے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، یہ بھی غزوہ ہے۔‘‘
۴: غزوۂ سُویق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اُس وقت کے عرب مشرکین اپنی بات پر قسم کھاتے، نذر مانتے اور پھر اسے پورا کرنے کے پابند رہتے تھے۔ اسی طرح وہ جنابت کا غسل بھی کرتے تھے، جو اس دور میں دیگر اقوام کے مقابلے میں ان کا ایک خاص امتیاز تھا۔
غزوۂ بنو قَینُقاع:
بنو قینقاع مدینہ منورہ میں وہ یہودی قبیلہ تھا جو بہت پہلے سے وہاں آباد تھا۔ جب مدینہ میں اسلام کی روشنی پھیلی اور مسلمان وہاں ہجرت کرکے آئے تو ان کا یہود کے ساتھ معاہدہ ہوا کہ باہمی تعلقات اچھے رہیں گے اور دشمنی نہیں کریں گے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ معاہدے پر وفادار رہیں اور کوئی ایسا عمل نہ کریں جو معاہدے کے خلاف ہو، لیکن یہود نے اس معاہدے کی پاسداری نہ کی۔
وقت کے ساتھ ساتھ ان کا مسلمانوں کے خلاف حسد ظاہر ہونے لگا۔ بازاروں میں وہ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور انہیں تکلیفیں دیتے۔ جب مسلمان غزوۂ بدر میں کامیاب ہوئے تو یہود کا حسد اور بغض مزید بڑھ گیا کیونکہ یہ کامیابی ان کے اندازے کے خلاف تھی۔
رسول اللہ ﷺ بنو قینقاع کے بازار تشریف لے گئے، انہیں جمع کیا اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اے یہود کی جماعت! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تم بھی انجام کا شکار ہو جاؤ، اسلام قبول کر لو۔‘‘
مگر انہوں نے ہدایت قبول کرنے کے بجائے تکبر اور زور کی باتیں شروع کر دیں اور کہنے لگے:
’’اے محمد! یہ نہ سمجھنا کہ تم نے قریش کو شکست دے دی ہے تو ہم پر بھی غالب آ جاؤ گے۔ اگر تم نے ہم سے جنگ کی تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم کون ہیں!‘‘
یہ کھلا ہوا اعلانِ جنگ اور سابقہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے پھر بھی صبر اور برداشت سے کام لیا، براہِ راست جنگ شروع نہ کی بلکہ انہیں موقع دیا کہ اپنی روش درست کرلیں۔
ایک دن ایک مسلمان عورت خرید و فروخت کے لیے بنو قینقاع کے بازار گئی۔ وہ پردہ دار اور نیک خاتون تھی۔ وہاں یہودیوں نے اس پر فحش مذاق اور شرارتیں شروع کیں۔ اسے کہا گیا کہ اپنا چہرہ کھولے، مگر اس نے اپنے ایمان کی وجہ سے انکار کیا۔ ایک یہودی سنار نے مکاری سے اس عورت کے کپڑے کے پچھلے حصے (دامن) کو اس کے دوپٹے سے باندھ دیا۔ جب عورت کھڑی ہوئی تو اس کا ستر کھل گیا اور وہ بے پردہ ہو گئی۔ یہودی زور زور سے ہنسنے لگے۔ عورت نے چیخ ماری اور فریاد بلند کی۔
یہ آواز ایک مسلمان نے سنی، اس کی غیرت نے یہ حالت گوارا نہ کی اور اس نے فوراً اس یہودی سنار کو قتل کر دیا۔ باقی یہود نے یہ دیکھ کر اس مسلمان کو شہید کردیا۔
یہ واقعہ مسلمانوں اور بنو قینقاع کے درمیان تعلقات کے مکمل بگاڑ کا باعث بنا۔ نتیجے کے طور پر جنگ ہوئی اور آخرکار اس یہودی قبیلے کو مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے خود فتنہ برپا کیا اور اپنی سزا پائی۔

