غزوہ بنو قینقاع سے حاصل ہونے والے اسباق کے تسلسل میں چند مزید نکات آپ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں:
۴: مؤمن پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے براءت کا اعلان کرے، نہ یہ کہ ان سے دوستی اختیار کرے، خصوصاً یہود و نصاریٰ سے، تاکہ اس حکمِ الٰہی کی تعمیل ہو:
’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ‘‘ (المائدہ: ۵۱)
ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ، یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان سے دوستی کرے گا، وہ انہی میں سے ہوگا، بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
اسی طرزِ عمل کو عظیم صحابی حضرت عبادہ بن صامتؓ نے بھی اختیار کیا۔ ان کا بھی بنو قینقاع کے ساتھ عبداللہ بن اُبی بن سلول کی طرح معاہدہ تھا اور وہ ان کے حلیف تھے، لیکن عبادہؓ نے ابن سلول کی طرح ان کی دوستی اختیار نہیں کی، نہ ان کے لیے سفارش کی، بلکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے براءت کا اعلان کیا اور فرمایا: «أتولی الله ورسوله والمؤمنین، وأبرأ من حلف هؤلاء الکفار و ولایتهم»
ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور مؤمنین کو اپنا دوست بناتا ہوں، اور ان کفار کے معاہدوں سے اور ان کی دوستی سے براءت کا اعلان کرتا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے بنو قینقاع کو مدینہ سے نکالنے کی ذمہ داری حضرت عبادہ بن صامتؓ کو سونپی۔ بنو قینقاع نے ان سے کہا:
اے ابوالولید! تم تو ہمارے حلیف ہو اور ہمارے ساتھ معاہدہ رکھتے ہو، پھر ہمیں کیوں نکال رہے ہو؟
عبادہؓ نے جواب دیا: جب تم نے مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کی، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تم سے اور تمہارے حلیفوں سے براءت کا اعلان کردیا۔
۵: یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن اُبی بن سلول کی بات قبول کی اور یہود کو معاف کیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو امید تھی شاید ابن سلول اس کے نتیجے میں نفاق چھوڑ دے، ایمان اس کے دل میں جڑ پکڑ لے اور اس کی اصلاح ہوجائے، اور اس کے پیچھے چلنے والے لوگ بھی نفاق چھوڑدیں۔ لیکن اس کا دل ایسا تھا جیسے چھلنی کیا ہوا برتن، جس میں ایمان ٹکنے والا نہیں تھا۔
یہاں ایک اور پہلو بھی ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی سیاسی بصیرت اور حکمت کو ظاہر کرتا ہے، اور وہ یہ کہ آپ ﷺ نے ابن سلول کے ساتھ نرمی کی پالیسی اس لیے اپنائی اور اس کی بات قبول کی کہ ابن سلول کا مدینہ میں بڑا اثر و رسوخ تھا۔ اس وقت تک اس کا نفاق مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوا تھا اور اس کا کچھ اثر بعض صحابہ پر بھی تھا۔ اگر رسول اللہ ﷺ اس کو رد کرتے اور اس کی بات نہ مانتے تو اس کے دل میں کینہ اور بڑھ جاتا، حتیٰ کہ ممکن تھا وہ کسی وقت مسلح بغاوت پر اتر آتا۔
لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ آگ بھڑکنے نہ دی، بلکہ صبر کیا تاکہ اس منافق کا نفاق خود بخود سب صحابہ پر ظاہر ہوجائے اور سب اس کو پہچان لیں۔ پس آپ ﷺ نے اس ممکنہ فتنے کے سدباب کے لیے اس کی بات مان لی۔ یہ سیاسی حکمت اسی لیے تھی کہ اندرونی دشمن، بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

