فرشتوں کے نازل ہونے کی حکمت:
کچھ لوگ شاید یہ سوچیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد فرشتوں کے ذریعے کیوں کی؟ وہ تو چھوٹے سے مسلمانوں کے گروہ کو کفار کے بڑے گروہ پر فرشتوں کی مدد کے بغیر بھی غالب کر سکتا تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتوں کا نازل ہونا مسلمانوں کے سکون اور اطمینان کے لیے تھا۔ اصل حکمت یہ تھی کہ مسلمان فرشتوں کو دیکھ کر اپنے دلوں میں ڈھارس باندھیں، کیونکہ انسان ظاہری چیزوں کو دیکھتا ہے۔ اگر ظاہر قوی ہو تو دل بھی مطمئن ہوتا ہے اور وہ دشمن کے مقابلے میں دلیری سے پیش آتا ہے۔ صحابہ کرام اگرچہ خوف سے بے چین نہیں تھے، لیکن انسانی فطرت کا تقاضا تو ہوتا ہے۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی:
{وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَى لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزیز الحکیم} [آل عمران: 126]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اس (فرشتوں کی مدد) کو تمہارے لیے خوشخبری بنایا اور اس لیے کہ تمہارے دل مطمئن ہوں۔ اور نصرت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، جو بہت غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔
اس آیت سے مومن کے لیے یہ سبق ملتا ہے کہ اسے اسباب کو اختیار کرنا چاہیے، انہیں حاصل کرنا چاہیے، اور دشمن کے مقابلے میں انہیں استعمال کرنا چاہیے، لیکن اس پر مکمل انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ نصرت کا اصل سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نہ یہ درست ہے کہ اسباب کو بالکل ترک کر دیا جائے، ان کے حصول کی کوشش نہ کی جائے اور خود کو صرف اللہ کی نصرت کے حوالے کر دیا جائے۔ اسے تواکل (صرف توکل کا دعویٰ) کہا جا سکتا ہے، نہ کہ توکل۔
اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ مکمل انحصار اسباب پر کیا جائے اور یہ بھول جائے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت نہ ہو تو اسباب بھی کچھ نہیں۔ آج کے دور میں ان دونوں مفہوموں کے درمیان تمیز بہت اہم ہے۔ کچھ لوگ ایک طرف چلے جاتے ہیں اور توکل کے نام پر تواکل کا شکار ہو جاتے ہیں، وہ دشمن کے مقابلے میں تیاری کے آیات کو نہیں دیکھتے۔ کچھ لوگ اسباب میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی نصرت کے تصور کو بالکل نہیں جانتے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان اعتدال پسند کم ہیں، اور وہی کامیاب بھی ہیں۔
کچھ لوگ آیت شریف سے یہ سمجھتے ہیں کہ فرشتوں کے نزول سے مراد روحانی قوت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فرشتے نازل نہیں ہوئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ایک روحانی قوت دی، جسے فرشتوں سے تعبیر کیا گیا۔ لیکن یہ نظریہ درست نہیں، کیونکہ فرشتوں کی ایک مخصوص تعداد کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مومنوں کو صرف روحانی قوت نہیں دی گئی، بلکہ فرشتے واقعی نازل ہوئے۔ اسی طرح احادیث میں جبرائیل علیہ السلام کا واضح ذکر ہے، جو فرشتوں کے نزول کی تصدیق کرتا ہے۔
فرشتوں کے نزول کی ایک اور حکمت یہ تھی کہ کفار کے دلوں میں خوف پیدا ہو۔ کفار نے مسلمانوں کے صفوں میں نئی، انجان شکلیں دیکھیں جو ان کے ساتھ لڑ رہی تھیں، جس سے وہ شدید خوفزدہ ہوئے اور یہی ان کی شکست کا سبب بنا۔
ایک علمی نکتہ:
فرشتوں کے نزول کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تین آیات میں کیا۔ پہلے سورۃ آل عمران میں دو آیات ہیں، جن میں سے ایک میں تین ہزار اور دوسری میں پانچ ہزار فرشتوں کے نزول کا ذکر ہے۔ تیسری آیت سورۃ انفال میں ہے، جہاں صرف ایک ہزار فرشتوں کے نزول کا ذکر ہے۔
ان آیات کے تطبیق میں مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے مومنوں کی مدد ایک ہزار فرشتوں سے کی، پھر تین ہزار کی، اور تیسرے مرحلے میں پانچ ہزار مکمل کیے۔ اس کی تائید سورۃ انفال کی اس آیت سے ہوتی ہے:
{إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ}
ترجمہ: جب تم نے اپنے رب سے مدد مانگی تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ بے شک میں تمہاری مدد ایک ہزار فرشتوں سے کرتا ہوں، جو ایک کے بعد ایک آئیں گے۔
یہاں "مردفین” کا لفظ آیا، جس کا مطلب ہے "ایک کے بعد ایک”۔ یعنی پہلے ایک ہزار فرشتے تھے، پھر ان کے بعد ایک ہزار اور، پھر ان کے بعد ایک ہزار اور… یہاں تک کہ مجموعی تعداد پانچ ہزار ہو گئی۔

