غزوہ بدر میں مسلمانوں کی نصرت اور مشرکین کی شکست کے چار اہم اسباب
ہم نے کہا کہ غزوہ بدر میں دونوں فریق تعداد اور وسائل کے لحاظ سے بالکل مختلف تھے، ان کی انفرادی اور مادی سطح یکساں نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سے اسباب تھے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح اور مشرکین کی شکست ہوئی، حالانکہ مادّی وسائل کے لحاظ سے مسلمان مکمل طور پر محروم تھے جبکہ قریش ان سے مالامال تھے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ فتح اگرچہ مادّی اسباب پر منحصر ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ معنوی اسباب پر انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ مسلمان مادّی وسائل سے محروم تھے، لیکن ان کے پاس معنوی اسباب موجود تھے۔ ہم اس بحث میں ان میں سے چند اہم اسباب کا ذکر کرتے ہیں:
1. جہادی ولولہ: مسلمانوں کے لشکر میں جہادی ولولہ موجود تھا، جو فتح کے اہم اسباب میں سے ایک تھا۔ اس کے برعکس، مکہ کا لشکر قافلے کی حفاظت کے ارادے سے نکلا تھا، اور اس کے جنگجوؤں کے دلوں میں جنگ کا ولولہ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ گویا لشکر کا بیشتر حصہ زبردستی لایا گیا تھا اور جنگ کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ خاص طور پر جب قافلہ بچ گیا اور اخنس بن شریق مکہ کے لشکر سے جدا ہو کر واپس لوٹ گیا، تو لشکر کا بڑا حصہ واپس جانا چاہتا تھا، لیکن سرداروں نے اس کی اجازت نہ دی۔
2. مشرکین کا تجاوز: اللہ تعالیٰ ہر حد سے تجاوز کرنے والے کو ضرور اس کی سزا دیتا ہے۔ مکہ کا لشکر غزوہ بدر میں متجاوز اور جارح تھا۔ جب قافلہ بچ گیا تو انہیں مکہ واپس لوٹ جانا چاہیے تھا، کیونکہ ان کے نزدیک جنگ کا جواز (قافلے پر مسلمانوں کا حملہ) ختم ہو چکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ بڑے غرور اور تکبر کے ساتھ بدر کے میدان میں آئے تاکہ اسلام کا دیا بجھائیں۔ یہ جارحیت تھی، جس کا نتیجہ انہوں نے خود دیکھا۔
دوسری طرف، مدینہ کا لشکر متجاوز نہ تھا۔ اسے قافلے پر حملہ کرنے کا حق تھا کیونکہ مکہ کے مشرکین نے ان کے مال اور باغات غصب کیے تھے، اور کفار سے مقابلہ بھی ان کا حق تھا۔
3. عقیدے کی مضبوطی اور جذبۂ جہاد کا وجود: جنگ میں فتح کا ایک اہم راز عقیدے اور ایک مضبوط جزبے کا ہونا ہے۔ مسلمان اس سے پوری طرح مالامال تھے۔ ان کے سامنے دو حالتیں تھیں: یا تو فتح یا پھر شہادت۔ دونوں ہی ان کی سعادت کے راستے تھے، اس لیے ہر سپاہی اس کے لیے بے تاب تھا۔ لیکن مکہ کا لشکر صرف فتح، غرور، تکبر اور شہرت کو جانتا تھا۔ نہ ان کے لیے موت مقدس تھی، نہ وہ موت کے لیے لڑتے تھے، اس لیے وہ فطری طور پر موت سے ڈرتے تھے۔
4. نئی جنگی حکمت عملی: مسلمانوں کی فتح کا ایک اور سبب ان کی نئی جنگی حکمت عملی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی جنگی حکمت عملی اپنائی جو عربوں میں غیر معمولی تھی۔ اس حکمت عملی کے فوائد مختصراً یہ ہیں:
الف: ایک قیادت کا وجود: مدینہ کے لشکر کے قائد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تمام جنگجو اس واحد قائد کی قیادت سے خوش تھے اور ان کے احکامات کو کھلے دل سے مانتے تھے۔ ان کی اطاعت ایسی تھی کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ان کا قائد ہر حالات پر مکمل کنٹرول رکھتا تھا، خود کو دوسروں کے برابر سمجھتا تھا، اور ان سے مشورہ لیتا تھا، اس لیے ایسی اطاعت ناگزیر تھی۔ اس کے برعکس، مکہ کے لشکر کے کئی سردار تھے۔ ہر ایک اپنے دل میں قیادت کی خواہش رکھتا تھا۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ اس کے عمومی سردار تھے، لیکن ان کے درمیان شدید اختلافات اور قبائلی تعصبات تھے، جس کی وجہ سے ان کا لشکر غیر منظم اور بے ترتیب تھا۔
ب: نئی فوجی حکمت عملی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے بدر کی طرف روانگی کے وقت ایک جدید اور نئی تشکیل نافذ کی، جس میں لشکر تین حصوں میں تقسیم تھا: مقدمہ، مرکزی حصہ (اصل طاقت)، اور عقبی دستہ۔ معلومات کے حصول کے لیے انہوں نے جاسوسی گشت سے فائدہ اٹھایا۔ جنگ میں، مسلمانوں نے صفوں کی حکمت عملی اپنائی، جبکہ مشرکین نے "کر و فر” (حملہ اور پسپائی) کی حکمت عملی اختیار کی۔ ان دونوں حکمت عملیوں پر مختصر بحث کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی حکمت عملی کے فوائد واضح ہوں:
کر و فر حکمت عملی: اس میں جنگجو اپنی پوری طاقت سے دشمن پر حملہ کرتے ہیں، چاہے وہ تیر انداز ہوں، پیدل فوج ہو، یا نیزوں اور تلواروں سے لڑنے والے سوار۔ اگر دشمن غالب آئے یا وہ کمزوری محسوس کریں تو پیچھے ہٹتے ہیں، خود کو منظم کرتے ہیں، اور دوبارہ حملہ کرتے ہیں۔ اسی طرح حملوں اور پسپائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے جب تک کہ فتح یا شکست ان کا مقدر نہ بن جائے۔
صفوں کی حکمت عملی: جسے مسلمانوں نے اپنایا، اس میں جنگجوؤں کو ان کی تعداد کے مطابق دو، تین یا زیادہ صفوں میں ترتیب دیا جاتا تھا۔ پہلی صف نیزہ برداروں کی ہوتی تھی تاکہ سواروں کے حملے کو روکا جا سکے، اور پچھلی صفوں میں تیر انداز ہوتے تھے جو دشمن پر تیروں کی بوچھاڑ کرتے تھے۔ یہ صفوف اپنے قائد کے کنٹرول میں اپنی جگہ پر قائم رہتی تھیں تاکہ "کر و فر” حکمت عملی کے زور اور شدت کو کم کیا جا سکے۔ اس کے بعد یہ صفوف مسلسل دشمن کی طرف بڑھتی تھیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ صفوں کی حکمت عملی "کر و فر” سے اس لیے بہتر تھی کہ اس میں صفوف منظم ہوتی ہیں، قائد کے پاس ہمیشہ ایک احتیاطی دستہ رہتا ہے جو غیر متوقع حالات کو کنٹرول کرتا ہے، جیسے دشمن کے جوابی حملے کو روکنا، اچانک کمین سے بچنا، یا ان اطراف کی حفاظت کرنا جو دشمن کے سواروں یا پیدل فوج سے خطرے میں ہوں۔
صفوں کی حکمت عملی پورے لشکر پر مکمل کنٹرول کی ضمانت دیتی ہے، ہنگامی حالات کے لیے احتیاطی دستہ فراہم کرتی ہے، اور دفاع و حملے کے لیے موزوں ہے۔ لیکن "کر و فر” حکمت عملی، جو قریش نے بدر میں استعمال کی، قائد کا کنٹرول ختم کر دیتی ہے اور ہنگامی حالات کے لیے کوئی احتیاطی دستہ فراہم نہیں کرتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فوجی تشکیل بنائی اور غزوہ بدر میں استعمال کی، وہ عربوں کے لیے ایک انوکھی حکمت عملی تھی، کیونکہ وہ اس سے پہلے کبھی ایسی حکمت عملی سے دوچار نہیں ہوئے تھے۔ اسی حکمت عملی نے مسلمانوں کی فتح میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔
یہ چار اسباب (ہمارے خیال میں) عسکری نقطہ نظر سے وہ اہم عوامل ہیں جن کی وجہ سے اس معرکے میں مشرکین کی شکست ہوئی۔ یہ ایسی سخت شکست تھی جس کے ساتھ شرک کے ڈھانچے کا انہدام شروع ہوا، اور مسلمانوں کو وہ عظیم فتح نصیب ہوئی جس نے انہیں تاریخ کے میدان میں بہادری، دائمی اور روشن کارناموں کے ساتھ متعارف کرایا۔

