غزہ کی بمباری: قصدی نسل کشی کے پہلو
اکتوبر ۲۰۲۳ء میں دنیا نے غزہ کی پٹی پر ایک ایسے فوجی حملے کا مشاہدہ کیا جس نے تمام سابقہ معادلات کو تہس نہس کر دیا۔ یہ محض ایک عسکری کارروائی نہ تھی، بلکہ ایک مسلسل اور منظم تباہ کن عمل میں ڈھل گئی، جس کا ہدف صرف مزاحمتی گروہ نہیں تھے بلکہ ایک محصور قوم کے وجود کی بنیادی اساس تھی۔ فضائی، بحری اور زمینی مکمل برتری کے سہارے، اسرائیلی فوج نے ’’قتل‘‘ کی ایک حکمتِ عملی اختیار کی؛ ایسی حکمتِ عملی جس میں ’’محفوظ تباہی‘‘ کے نام پر فوجی اور شہری کے درمیان ہر امتیازی لکیر مٹا دی گئی۔
ہسپتال، اسکول، جامعات، مساجد اور حتیٰ کہ انسانی امدادی قافلے بھی آگ کی زد میں آئے، یہاں تک کہ غزہ عملاً تباہی کے ایک عظیم تجربہ گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ میدانی رپورٹس کے مطابق رہائشی عمارتوں کے نصف سے زیادہ یونٹ مسمار کر دیے گئے، اور شمالی غزہ کے وسیع علاقے زندگی کے لیے ناممکن بنا دیے گئے۔ اسی دوران فلسطینی مزاحمت، جو سرنگوں کے پیچیدہ جال اور شہری غیر متوازن جنگی حربوں پر انحصار کرتی تھی، اگرچہ حملوں کا سخت جواب دیتی رہی، مگر اس عظیم تباہ کن مشین کے سامنے— جو مغربی طاقتوں کی سیاسی اور عسکری سرپرستی سے تقویت پا رہی تھی— عملاً ایک مجبورانہ اور محدود حیثیت میں محصور ہو کر رہ گئی۔
لیکن یہ بمباری محض ایک عارضی انسانی المیہ نہ تھی۔ اس سانحے کی گہرائی ان اعداد و شمار میں جھلکتی ہے جو ’’روایتی جنگ‘‘ کے دائرے سے نکل کر ’’ساختی تشدد‘‘ کے میدان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ فلسطینی شہریوں کی شہادتوں کی تعداد پینسٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی، جن میں ستر فیصد سے زائد خواتین اور بچے تھے۔ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے؛ وہ انسان جن میں سے اکثر اعضاء سے محرومی اور علاج کی عدم دستیابی کے باعث نیم جان تقدیر کے حوالے کر دیے گئے۔
وہ لوگ جن میں سے اکثر اپنے جسم کے اعضا سے محرومی اور مناسب علاج کی عدم دستیابی کے باعث نیم جان، بے بس اور اذیت ناک تقدیر کے سپرد کر دیے گئے۔
غزہ کی تقریباً تئیس لاکھ آبادی کا لگ بھگ پورا ہی حصہ زبردستی بے گھر کر دیا گیا، اور ان میں سے اکثر افراد کو بار بار اپنے عارضی پناہ گزین ٹھکانوں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ وسیع پیمانے پر نقل مکانی محض بمباری کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ علاقوں کی جبرا خالی کرانے اور غزہ کے زمینی تسلسل کو توڑنے کے لیے ایک شعوری اور منظم پالیسی کا حصہ تھی۔
اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر، یہ جنگ محاصرے، بھوک اور بیماریوں کے ذریعے ایک ’’خاموش نسلکشی‘‘ کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ غزہ پر سترہ برس سے مسلط محاصرہ— جو پہلے ہی زندگی کو ناقابلِ برداشت حد تک پہنچا چکا تھا— جنگ کے دوران اپنے انتہائی تلخ مرحلے میں داخل ہوا۔ خوراک، صاف پینے کے پانی، ایندھن، بجلی اور ادویات تک مکمل رسائی کے خاتمے نے ایک ایسا انسانی المیہ جنم دیا جسے اقوامِ متحدہ نے ’’انسانی المیہ‘‘ قرار دیا۔
بچے بھوک کے باعث آہستہ آہستہ دم توڑ رہے ہیں، مریض نقل و حمل نہ ہونے یا طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے سبب اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، اور متعدی بیماریاں بے گھر افراد کے گنجان کیمپوں میں غیر معمولی رفتار سے پھیل رہی ہیں۔ یہ صورتِ حال واضح کرتی ہے کہ جنگ اب محاذوں کی لکیروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ نسل کشی کے زخم جسم اور روح کی گہرائیوں تک اتر چکے ہیں۔
یہ یلغار ایک شدید میڈیا اور معلوماتی جنگ کے ہمراہ بھی جاری رہی۔ غزہ کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوششیں، صحافیوں کو نشانہ بنانا اور جرائم کی دستاویز بندی کو روکنا —یہ سب ’’حقیقت کو چھپانے‘‘ کی ایک وسیع حکمتِ عملی کے اجزا تھے۔ اس کے برعکس، فلسطینی مزاحمت نے زمینی تصاویر اور رپورٹس کے ذریعے درد، صبر اور استقامت کا ایسا بیانیہ پیش کیا جس نے عالمی رائے عامہ کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
آخرکار، اس جنگ نے یہ آشکار کیا کہ اسرائیل کا سلامتی سے متعلق بیانیہ اس مرحلے تک پہنچ چکا ہے جہاں ’’اپنے دفاع‘‘ کا تصور ایک پوری قوم کی جسمانی نیست و نابود اور زندگی کے تمام اسباب کی مکمل تباہی پر مبنی ایک منظم منصوبے میں ڈھل چکا ہے —وہ مظہر جسے بین الاقوامی قانون کے ماہرین ’’قصدی نسل کشی‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ غزہ کی تاریخ کا یہ باب کسی عارضی جھڑپ کے طور پر نہیں، بلکہ قبضے اور مزاحمت کے ایک نئے دور کے طور پر محفوظ کیا جائے گا؛ ایک ایسا دور جس میں ایک قوم منصوبہ بند فنا کے سائے تلے ثابت قدم کھڑی رہی۔

