Site icon المرصاد

غزہ: آگ کے شعلوں کے بیچ قائم ایمان

غزہ تاریخ کا وہ زخم ہے جو اب بھی تازہ ہے۔ فلسطین کا یہ چھوٹا سا مگر بہادر خطہ قریب دو برس سے اسرائیلی فوج کے وحشیانہ فوجی آپریشنز اور شدید بمباریوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ ہسپتالوں، اسکولوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا، ہزاروں خواتین اور بچے شہید ہو چکے ہیں، جبکہ بے شمار صحافی، امدادی کارکن اور فلاحی اداروں کے افراد بھی اس جنگ کا شکار بنے ہیں۔ انسانی امداد کے راستے بند کر دیے گئے ہیں، اور ایسے مناظر سامنے آئے ہیں جو انسانی ضمیر کے ہر گوشے کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نے خود کو گویا اندھا اور بہرا بنا لیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا یہ مظلوم خطہ، غزہ، ہمیشہ سخت آزمائشوں کا مرکز رہا ہے۔ گھر مسمار ہوتے ہیں، راستے بند کیے جاتے ہیں، بچے یتیم ہو جاتے ہیں، اور مائیں اپنے لختِ جگر کے جنازوں پر آنسو بہاتی ہیں۔ لیکن انہی کھنڈرات سے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے پھر بھی “اللہ اکبر” کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں بموں کے سائے میں بھی ایمان کا چراغ بجھنے کے بجائے مزید روشن ہو جاتا ہے۔ اہلِ غزہ نے قربانی کی ایسی مثال پیش کی ہے جو تاریخ کے لیے بھی سبق ہے اور امت کے لیے بھی بیداری کا پیغام۔

اس جاری صورتحال میں فلسطینی مزاحمت کے ایک اہم فریق کے طور پر حماس کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ چاہے کوئی سیاسی زاویے سے دیکھے یا انسانی درد کے تناظر میں، ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ خطہ طویل محاصرے، جنگ اور مصائب کے باوجود اپنے تشخص اور بقا کے لیے ڈٹا ہوا ہے۔

حماس محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک خاص سیاسی اور مزاحمتی فکری سلسلے کی نمائندہ ہے۔ ایسے وقت میں جب سیاسی حکمرانوں کی اکثریت مصلحت اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے، غزہ کے نوجوان آج بھی مزاحمت کی صدا بلند کیے ہوئے ہیں۔ وہ دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ایمان اور عزم کی قوت مادی ہتھیاروں کے مقابلے میں ایک مضبوط ڈھال ہے۔

صہیونی کارروائیاں خواہ کتنی ہی شدت اختیار کر لیں، گھر تباہ کر دیں اور انسانوں کو شہید کر دیں، لیکن تاریخ کی ایک بار بار دہرائی جانے والی حقیقت یہ ہے کہ افکار کو بموں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ قابض قوتیں بالآخر زوال کا شکار ہوئی ہیں، جبکہ مظلوم قوموں کا عزم زندہ رہا ہے۔ فلسطین کی آزادی کی امید بھی انہی قربانیوں کے درمیان مزید مضبوط ہو رہی ہے، ان شاء اللہ۔

آج امت کی ذمہ داری ہے کہ فلسطین کے درد کو اپنا درد سمجھے، دعا، فکری حمایت، میڈیا کی آواز اور ہر جائز ذریعے سے مظلوم عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہو، کیونکہ فلسطین صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ امت کے عقیدے، عزت اور تاریخ کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ غزہ وہ خطہ ہے جہاں موت کا مفہوم خاتمے کے بجائے تسلسل اختیار کر لیتا ہے، اور ہر خون کے قطرے کے ساتھ ایک نئی سوچ، نیا عزم اور نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ شہادت کا یہ تسلسل اس سرزمین کے لوگوں کے یقین کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ آزادی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔

مظلومہ اقصیٰ کا شہید

اسی جاری داستان میں غزہ کی مزاحمت کی اہم شخصیات میں سے عزالدین الحداد کا نام بھی لیا جاتا ہے، جو “شبح القسام” کے لقب سے معروف تھے اور حماس کے عسکری ونگ کے نمایاں کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ غزہ سٹی بریگیڈ کے کمانڈر رہ چکے تھے اور عسکری ڈھانچے کے اہم شعبوں میں ان کا کردار رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حماس کے فوجی نظام کی مرکزی شخصیات میں شامل تھے اور ان کی قیادت میں کئی عسکری یونٹ کام کرتے تھے۔

انہوں نے اپنی زندگی جدوجہد، قربانی اور مزاحمت کے راستے میں گزاری، اور اسی راہ میں اپنے خاندان کے بعض افراد کے ساتھ شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے، تقبلہ اللہ تعالیٰ۔ آج غزہ صرف جنگ کا نام نہیں بلکہ اس انسانیت کا نام ہے جو سخت ترین حالات میں بھی ہتھیار نہیں ڈالتی۔ جہاں بم برستے ہیں، وہیں دعاؤں کی صدائیں بھی بلند ہوتی ہیں، جہاں کھنڈرات بنتے ہیں، وہیں امید کی نئی کرنیں بھی جنم لیتی ہیں۔ یہ سب ایک بڑا پیغام دیتے ہیں: اگر قومیں اپنے ایمان اور ارادے پر مضبوطی سے قائم رہیں تو مادی طاقتیں انہیں کبھی شکست نہیں دے سکتیں۔

Exit mobile version