Site icon المرصاد

غزہ سے افغان قیادت تک!

چند روز قبل، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے 51ویں اجلاس میں افغانستان کے وزیر خارجہ، مولوی امیر خان متقی نے افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک تقریر کی۔ ان کی تقریر نہ صرف ان کے مشن کی سچائی کی عکاسی تھی، بلکہ اس نے مظلوم غزہ کی آواز کو اس طرح بلند کیا جیسے فلسطین کا کوئی نمائندہ وزرائے خارجہ کے سامنے خطاب کر رہا ہو۔

انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ایران کے حالیہ بحران سے کیا، جہاں انہوں نے اسرائیل کے بمباری کو ایران کی جغرافیائی سالمیت کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔ متقی صاحب نے اپنی تقریر کے دوران تمام رکن ممالک سے اپیل کی کہ ہم، اسلامی دنیا کے طور پر، اپنے مشترکہ اسلامی اقدار کے تحت اکٹھے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وقت اور موقع ہے کہ اسلامی دنیا اپنی پسماندگی کے عوامل پر گہری سوچ بچار کرے اور موجودہ چیلنجوں کو ختم کرے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی شناخت پیش کی جائے جو غیر ملکی اثرات کے بجائے اپنی اسلامی تاریخ اور تہذیب پر فخر کرے۔

متقی صاحب نے غزہ کی طرف رخ کیا اور وہاں جاری وحشت کو تمام انسانی اصولوں کے خلاف قرار دیا، اسے پوری اسلامی دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ فلسطین اور ایران کی حمایت میں اسرائیل کے جاری مظالم کو روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ انہوں نے اس حملے کو فلسطینی عوام کی نسل کشی اور تمام انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا اور اس کے مقابلے میں اقدام کو اجتماعی انسانی ضمیر کی فوری ذمہ داری قرار دیا۔

اس کے بعد متقی صاحب نے اسلامی اخوت کے جوہر کو زندہ کرنے کی طرف پیش قدمی کی اور تمام اسلامی ممالک سے کہا کہ ہمیں نئے عالمی نظام میں صرف ایک ناظر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک تسلیم شدہ، اثر انداز اور فیصلہ کن فریق کے طور پر زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے بارہا اسلامی ممالک کو اسلامی اخوت کی طرف بلایا اور کہا کہ اسلامی دنیا کو ایسا ہونا چاہیے جو فیصلہ سازی پر گہرا اثر ڈالے۔

اس کے بعد وہ افغانستان کی طرف متوجہ ہوئے اور موجودہ قیادت کے طرز عمل، معیشت، سکیورٹی، اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں میں مختلف کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے افغانستان کے اثاثے چوری کیے ہیں، جس کی وجہ سے افغان قوم کو کئی معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ اثاثے بغیر کسی تاخیر اور رکاوٹ کے فوری طور پر واپس کیے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے خارجہ تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور متوازن پالیسی ہے۔ اس لیے ہم او آئی سی کے رکن ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان جیسے ممالک کی حمایت پر توجہ دیں جو حال ہی میں استحکام اور آزادی کے مرحلے تک پہنچے ہیں۔ ان کا اشارہ شام کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان تیار ہے کہ وہ اسلامی ممالک کے درمیان ٹرانزٹ، تجارت، اور معاشی روابط کے لیے ایک اہم دروازہ بنے۔

آخر میں، انہوں نے رکن ممالک سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ غزہ کے بحران کے حوالے سے فوری اقدامات کریں تاکہ غزہ کی سرزمین پر جاری بحران ختم ہو۔ اسی طرح، انسانی امداد کے شعبے میں بھی تمام اسلامی ممالک کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

یہ تقریر، جو اسلامی اخوت کے اصولوں پر مبنی تھی، انتہائی دلچسپ تھی۔ اس کا آغاز اور اختتام دونوں غزہ کے بحران پر مرکوز رہے اور تمام اسلامی ممالک کو غزہ کی حمایت کے لیے دعوت دی گئی۔ لیکن کون اسے قبول کرے گا؟ سعودی عرب؟ جو ٹرمپ کے لیے دودھ دینے والی گائے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ یا مصر؟ جہاں سیکولرزم نے اسلامی اخوت کی روح کو ختم کر دیا ہے۔ یا قطر؟ جو ٹرمپ کے لیے انعام کے طور پر لاکھوں ڈالر کی ہوائی جہاز تحفے میں دیتا ہے، لیکن قریب ہی غزہ کے بھوکے لوگوں کی آہ و فغاں اور آنسوؤں کو نہیں سنتا۔ یا امارات؟ جو ٹرمپ کی حمایت میں ناچ رہا ہے۔

آج مسلمانوں کی اس کثرت کے باوجود ذلت اس لیے ہمارا مقدر ہے کہ ہم نے اسلامی اخوت کے جوہر کو پامال کر دیا ہے اور ایک دوسرے سے نفرت و عداوت کی انتہا تک جا پہنچے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر خطے میں افغانستان جیسے دو تین متحد لیکن ساتھ ہی ٹیکنالوجی سے بھی لیس ممالک ہوتے، تو آج خطے میں مغرور امریکہ کی راج اور باج نہ چلتی، اس کے سینگ اتنے لمبے نہ ہوتے کہ وہ کسی ایک مسلمان کی طرف اٹھا کر ہلائے۔

Exit mobile version