Site icon المرصاد

غزہ کی مزاحمت: خون کی سیاہی سے لکھی جانے والی آزادی کی ناقابلِ شکست داستان!

غزہ میں اسرائیلی قابضین کے حالیہ حملے اور بے‌گناہ لوگوں کا قتلِ عام ایک عظیم انسانی المیہ ہے، لیکن تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ظلم ایک نہ ایک دن ضرور اپنے انجام کو پہنچتا ہے اور ظلم پر قائم نظام کبھی پائیدار نہیں رہتے۔ اس نازک مرحلے میں عزالدین حداد تقبلہ اللہ جیسے حماس کے ایک ممتاز اور جہادی رہنما کی شہادت اگرچہ دشمن کی مکاری اور سفاکی کی علامت ہے، مگر یہ اقدام مزاحمت کی صفوں میں فتح کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ رہنماؤں اور کمانڈروں کی شہادت سے نہ تو جہادی صفیں کمزور ہوتی ہیں اور نہ ہی آزادی کی جدوجہد ماند پڑتی ہے، بلکہ ان کے خون کا ہر قطرہ مجاہدین کی صفوں میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ مزاحمت کے راستے پر چلنے والوں کے لیے اپنے قائدین کی شہادت عوامی بیداری اور نوجوان نسل میں آزادی اور جہاد کے جذبے کو مزید بڑھانے کا سبب بنتی ہے، یہی چیز دشمن کے عسکری دباؤ کے مقابلے میں قوم کے ارادے کو فولادی بناتی ہے۔

حماس کی اسلامی تحریک، جو فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کا مرکزی محور ہے، وسائل کی کمی اور عالمی طاقتوں کی غیرمعمولی عدم مساوات کے باوجود غزہ میں اسرائیل کی جدید جنگی مشین کی پیش قدمی کو سنگین رکاوٹوں سے دوچار کرنے میں کامیاب رہی۔ حالانکہ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی رجیم بار بار یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ حماس شکست کے قریب ہے اور مکمل خاتمے کے دہانے پر کھڑی ہے، مگر مجاہدین کی بے‌مثال قربانیوں اور مسلسل مزاحمت نے ثابت کر دیا کہ عقیدہ اور آزادی کا جذبہ مادی دباؤ سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ تحریک آج بھی پوری استقامت کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔

حماس کی کامیابی صرف عسکری حکمتِ عملی تک محدود نہیں، بلکہ اس کی بلند ایمانی قوت اور مضبوط نظم و نسق بھی قابلِ ستائش ہے، جس نے شدید اقتصادی اور غذائی ناکہ بندی کے باوجود غزہ کے عوام کے حوصلے کو برقرار رکھا اور دشمن کے جبری بے دخلی کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنایا۔ آج حماس محض ایک تنظیم نہیں رہی، بلکہ فلسطینی قوم کی شناخت اور اس کے جائز حقوق کی جدوجہد کی ایک عالمی علامت بن چکی ہے، جس کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا تصور ممکن نہیں۔

یہ جنگ جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کے مقابل ایمان اور بے‌مثال صبر و استقامت کی ایک زندہ داستان ہے، جہاں قابض فوج اپنے تقریباً ہر زمینی اور عسکری حربے میں ناکام ثابت ہوئی، اور اسی ناکامی اور بے بسی کو چھپانے کے لیے انتقامی کارروائیوں میں نہتے شہریوں، اسپتالوں، اسکولوں اور معصوم بچوں پر بمباری کر رہی ہے۔ جدید ٹینک اور جنگی طیارے ان بچوں اور نوجوانوں کے حوصلے کو توڑنے میں ناکام رہے، جن کے لیے یہ سرزمین ان کے آباؤ اجداد کی میراث ہے۔

دنیا کے سیاسی مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ کس طرح ایک چھوٹا سا محصور نہتا خطہ (غزہ) دنیا کی ایک بڑی اور ظالم فوج کے غرور کو خاک میں ملا رہا ہے اور اس کے عسکری رعب کو پاش پاش کر چکا ہے۔ دراصل یہ انہی ماؤں کی تربیت کا نتیجہ ہے، جو اپنے شہید بیٹوں کے جنازوں پر ماتم کے بجائے حوصلے، فخر اور عزم کے اشعار پڑھتی ہیں اور دنیا کے ضمیر کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ آزادی کی قیمت خواہ کتنی ہی بھاری ہو، غلامی کی زندگی سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔

مجموعی طور پر فلسطینی عوام اور مزاحمت کی استقامت اسرائیل کی اس سفاک پالیسی کے مقابل ایک روشن مثال ہے، جو نسل کشی اور گھروں کی تباہی پر قائم ہے۔ یہ حق و باطل کی جنگ کی ایک واضح مثال ہے۔ زمینی حقائق کا تجزیہ بتاتا ہے کہ شہداء کا پاک خون مزاحمت کی صفوں کو مزید متحد کرتا ہے، کیونکہ غزہ کی ہر منہدم عمارت اور ہر مظلوم کی شہادت سے ظلم کے خلاف نئے مجاہد اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

فلسطین کی موجودہ مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ حقیقی فتح صرف ہتھیاروں کی طاقت سے نہیں، بلکہ ایمان کی مضبوطی اور حق کے راستے پر بے خوف استقامت سے حاصل ہوتی ہے، اور یہی عظیم قربانیاں بالآخر قابض رجیم کے سیاسی زوال اور فلسطین کی مکمل آزادی کی راہ ہموار کریں گی۔

Exit mobile version