عالمی سیاست میں بعض فیصلے محض سیاسی نہیں ہوتے بلکہ کسی ریاست کے مذہبی، فکری، اخلاقی اور تاریخی رخ کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت بھی انہی فیصلوں میں سے ایک ہے۔ یہ کوئی معمول کا سفارتی قدم نہیں، بلکہ ایسا انتخاب ہے جس میں پاکستانی فوج نے خود کو امت مسلمہ، قومی شعور اور تاریخی مؤقف کے برخلاف، امریکہ اور اسرائیل کے اسٹریٹجک مفادات کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان میں خارجہ پالیسی کئی دہائیوں سے عوامی اداروں کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے اور عملاً فوج کے اسٹریٹجک مفادات کی تابع بن گئی ہے۔ فلسطین کے معاملے میں بھی پاکستان کا سرکاری مؤقف ہمیشہ عوامی جذبات کا ترجمان نہیں رہا، بلکہ پاکستانی فوج نے اسے واشنگٹن کی خواہشات کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت اسی تسلسل کی تازہ کڑی ہے، جس میں فوج نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ اپنی بقا اور بیرونی سرپرست کی خوشنودی کے لیے عالمِ اسلام کے حساس ترین مسائل کو قربان کرنے سے گریز نہیں کرتی۔
ٹرمپ کی قیادت میں قائم یہ نام نہاد “امن بورڈ” درحقیقت امن کے لیے نہیں بلکہ فلسطینی مزاحمت کے خاتمے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس بورڈ کا بنیادی مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا، فلسطینی سیاسی ارادے کو توڑنا اور اسرائیلی سکیورٹی مفادات کو قانونی حیثیت دینا ہے۔ ایسے فریم ورک میں شمولیت عملاً اسرائیلی قبضے کی حمایت اور فلسطینی مزاحمت کے خلاف صف بندی کے مترادف ہے۔
یہاں سب سے زیادہ خطرناک پہلو پاکستانی فوج کا کردار ہے۔ وہ فوج جو خود کو “اسلامی ایٹمی طاقت” اور “حرمین شریفین کی محافظ” قرار دیتی ہے، عملی طور پر ان قوتوں کا پراکسی آلہ بن چکی ہے جو مسلمانوں کے قتلِ عام کی سب سے بڑی سرپرست ہیں۔ فوج کا یہ فیصلہ نہ صرف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہ عوامی ارادے سے بے نیاز ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ وہ اسلام کو صرف نعرے کی حد تک استعمال کرتی ہے، نہ کہ امت کے اتحاد یا بقا کے لیے۔
اگر کسی مسلمان یا اسلامی ریاست کا فریضہ اسلام کا نفاذ، مظلوم کی مدد، استعمار کی مخالفت اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے، تو ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ کی رکنیت اسلام کے ہر بنیادی اصول سے کھلی ٹکر ہے۔ یہاں پاکستانی فوج اسلام کا دفاع نہیں کر رہی بلکہ اسلام اور امت کو اجتماعی طور پر بے وقعت کر رہی ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جس نے پاکستان کو امت مسلمہ کی نگاہ میں اعتماد کی آخری سیڑھی سے بھی نیچے گرا دیا۔
فوج کے اس اقدام نے پاکستان کو ایک خودمختار ریاست کے بجائے ایک فرمانبردار غلام کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، کیونکہ یہ فیصلہ غزہ کے شہید بچوں، عورتوں اور بے بس عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ فوج کا کردار امن کے لیے ہوگا تو اسے چاہیے کہ ٹرمپ کی حالیہ تقاریر سنے، جن میں انہوں نے امن بورڈ میں شامل ممالک کے کردار کی وضاحت کی ہے۔ وہ تقاریر صاف بتاتی ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر نہ امن کا نمائندہ ہے اور نہ ثالث، بلکہ ظالم اور قابض قوت کے منصوبے اور بیانیے کا حصہ ہے۔
اس فیصلے کے بعد عوام میں یہ احساس مزید گہرا ہو گیا ہے کہ فوج قوم کی نمائندہ نہیں بلکہ قوم پر مسلط ایک طاقت ہے۔ یہ احساس کہ فوج امریکہ اور اسرائیل کے لیے فیصلے کرتی ہے مگر اپنے عوام کے عقیدے، غیرت اور جذبات کی کوئی پروا نہیں کرتی، پاکستان کے پہلے ہی بکھرے ہوئے قومی اتحاد کے لیے سب سے خطرناک زہر ہے۔
تاریخ اس فیصلے کو “امن کی کوشش” قرار نہیں دے گی بلکہ اسے ایک ایسی فوج کی سیاسی ذلت کی دستاویز سمجھے گی جس کی عملی وفاداری اسلامی نعروں کے پیچھے واشنگٹن اور تل ابیب سے جڑی ہوئی تھی۔ ممکن ہے آج فوج طاقت کے زور پر یہ فیصلہ عوام پر مسلط کر دے، مگر کل یہی فیصلہ وہ صفحہ بنے گا جس پر فوج کے خلاف عوامی احتساب کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ کو قبول کرنا پاکستان کے لیے محض ایک سیاسی غلطی نہیں بلکہ فوج کے فکری، اخلاقی اور اسلامی زوال کا باضابطہ اعلان ہے۔ یہ فیصلہ اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ پاکستانی فوج امت مسلمہ کا حصہ یا محافظ نہیں بلکہ اس کے خلاف قائم عالمی طاقت کے نظام کی ایک کڑی ہے۔ اس فیصلے کا واحد مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کے دلوں میں موجود ابہام ختم کر دیا اور واضح کر دیا کہ کون کس صف میں کھڑا ہے۔

