Site icon المرصاد

"غضب للحق” نامی فلم!

چند روز پہلے پاکستان کی فوجی رجیم نے افغانستان کے صوبوں پکتیکا اور ننگرہار میں بلاجواز فضائی بمباری کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے مسلح مخالفین کے سات مراکز تباہ کر دیے اور اسّی جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا، جبکہ یہ ایک جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ عام شہریوں اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

جب امارت اسلامیہ نے اپنے ملک اور عوام کے دفاع میں اپنے جائز حق کے تحت ڈیورنڈ کی فرضی لکیر کے ساتھ ساتھ پاکستانی فوجی رجیم کی چوکیوں، مورچوں اور مراکز پر انتقامی حملے شروع کیے اور اپنے عوام کا بدلہ لیا، تو اس بار کرائے کی فوج کے جرنیلوں نے “غضب للحق” کے نام سے آپریشن کا اعلان کر دیا۔

گزشتہ روز امارت اسلامیہ کے ترجمان کے دفتر اور وزارتِ قومی دفاع کی مشترکہ پریس کانفرنس میں امارت اسلامیہ کے نائب ترجمان مولوی حمداللہ فطرت نے کہا: آج چھٹا دن ہے کہ پاکستانی فوج کابل، لغمان، ننگرہار، کنڑ، خوست، پکتیکا اور قندھار صوبوں میں عام لوگوں کے گھروں، مساجد، مدارس، عوامی تنصیبات اور واپس آنے والے مہاجرین کی تین عارضی بستیوں یا کیمپوں (قندھار میں انزرگی کیمپ، طورخم میں عمری کیمپ اور کنڑ میں کیمپوں) کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان فضائی حملوں اور مارٹر گولہ باری کے نتیجے میں ننگرہار، کنڑ، پکتیکا، خوست، پکتیا اور قندھار میں اب تک ہمارے 110 عام ہم وطن شہید ہو چکے ہیں، جن میں 65 سے زائد خواتین اور بچے ہیں۔ اسی طرح 123 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کی بھاری اکثریت بھی خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔

ان حملوں میں عام شہریوں کو وسیع مالی نقصان بھی پہنچا ہے، 37 مکانات مکمل طور پر اور 316 مکانات جزوی طور پر تباہ ہوئے، 12 دکانیں اور 19 مساجد جزوی طور پر تباہ یا منہدم ہوئیں، جبکہ ایک کلینک اور ایک مدرسہ بھی تباہ کیا گیا۔ پاکستان کی وحشیانہ بمباری اور مارٹر حملوں کے باعث قریباً 8400 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ کیسی دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہے جس میں دہشت گرد تو فلمی ہیرو کی طرح زندہ بچ جاتے ہیں، مگر درجنوں شہری قربان ہو جاتے ہیں؟ کیا اب تک اس میں ٹی ٹی پی کا کوئی کمانڈر یا جنگجو مارا گیا؟ اگر غاصب فوج ان کے مارے جانے کے دعوے کرتی ہے تو ان کی تصاویر یا نام میڈیا پر جاری کرے۔ واضح ہے کہ نہ کسی جنگجو کو ہلاک کیا گیا اور نہ وہ افغانستان میں مقیم ہیں۔

نور ولی محسود زندہ اور سلامت ہے، وہ اب بھی قبائلی علاقوں سے بیانات جاری کرتا اور ویڈیوز نشر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پاکستان پر حملے مزید بڑھیں گے۔ اسی طرح داعش کے جنگجوؤں کو بھی دیکھ لیجیے، جو دونوں پاکستان کے اندر موجود ہیں، لیکن غیروں کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے سر پھرے جرنیل یہی ایک راگ الاپتے ہیں کہ داعش اور ٹی ٹی پی افغانستان میں ہیں اور وہیں سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

اگر ٹی ٹی پی یا داعش کے رہنما افغانستان میں ہیں تو موجودہ کارروائیوں میں نظر کیوں نہیں آتے؟ اگر نظر نہیں آتے تو پھر سرحدی صوبوں میں شہری علاقوں پر بمباری کیوں کی جا رہی ہے؟ یہ تو ایسا ہوا جیسے کہا جائے: سانپ نہیں ملا تو پڑوسی کا گھر جلا دوں تاکہ سانپ نکل آئے۔

اور اگر تم نے انہیں مار دیا ہے (جیسا کہ دعویٰ کرتے ہو) تو پھر ٹی ٹی پی کے حملے کم کیوں نہیں ہوتے؟ بلکہ روز بروز زیادہ خونریز اور شدید ہو رہے ہیں۔ واضح بات ہے کہ “غضب للحق” آپریشن ٹی ٹی پی یا کسی اور گروہ کو کچلنے کے لیے نہیں، بلکہ افغان سرزمین اور خودمختاری کو نشانہ بنانے کے لیے ہے، تاکہ افغانستان میں ایک مضبوط نوخیز اسلامی حکومت اپنی جڑیں مضبوط نہ کر سکے اور خطے میں دیگر آزادی پسندوں کے لیے نمونہ نہ بنے۔ یہاں وہ کہاوت خوب صادق آتی ہے: مارا بھی میں گیا اور الزام بھی مجھ پر ہی لگا۔

Exit mobile version