غزہ کا آسمان ایک بار پھر صہیونی قابضین کے ظلم، بربریت اور بے رحمی کی آگ میں جل اٹھا ہے۔ 15 مئی 2026 کو صہیونی رجیم نے غزہ شہر کے گنجان آباد علاقے الرمال میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ اور ایک عام شہری گاڑی کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ اس مجرمانہ اور سفاک حملے میں کئی بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سب سے نمایاں، مؤثر اور اعلیٰ رتبہ شخصیت حماس کے عسکری ونگ (القسام بریگیڈ) کے اہم کمانڈروں میں سے ایک عزالدین حداد (ابو صہیب) رحمہ اللہ تھے۔
یہ حملہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ صہیونی رجیم صرف مسلح مزاحمت کے رہنماؤں ہی کو نہیں، بلکہ فلسطینی عوام کے حوصلے، عزم اور روح کو بھی نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیشہ اس حقیقت کی گواہ رہی ہے کہ مظلوموں کا خون آزادی کے لیے بہترین آبِ حیات ثابت ہوتا ہے۔
عزالدین حداد رحمہ اللہ کون تھے؟
عزالدین حداد فلسطینی مزاحمت کے ایک بہادر، تجربہ کار، ذہین اور اعلیٰ درجے کے مجاہد تھے۔ وہ کئی برسوں سے حماس کے عسکری ونگ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور شمالی غزہ کے محاذوں پر دفاعی اور اقدامی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور قیادت میں ان کا اہم اور مؤثر کردار تھا۔ وہ سرنگوں کے پیچیدہ نظام، زمینی جنگ، قابض فوج کی بکتر بند گاڑیوں کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی اور مجاہدین کے حوصلے بلند رکھنے کے حوالے سے ان کلیدی کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے مزاحمت کی قوت بڑھانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
مجاہدین اور مزاحمت کے حامی انہیں “غزہ کی روح”، “القسام بریگیڈ کا دل” اور “ناقابلِ شکست عزم کی علامت” سمجھتے تھے۔ عزالدین حداد نے اپنی پوری زندگی، جوانی، صلاحیت اور توانائی فلسطین اور القدس کی مکمل آزادی اور امت مسلمہ کی عزت و وقار کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ صرف ایک کمانڈر نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے ولولہ انگیز رہنما بھی تھے جو نوجوانوں کو جہاد، قربانی اور مزاحمت کا درس دیتے تھے۔
ان کی شہادت پورے مزاحمتی محاذ کے لیے ایک بڑا اور المناک نقصان ہے، لیکن اسی کے ساتھ یہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے نئے عزم، قربانی اور جدوجہد کا ایک عظیم چراغ اور تحریک بھی بن گئی ہے۔ ہر شہید مزاحمت کے درخت کو نئی زندگی بخشتا ہے اور ہزاروں تازہ دم، بہادر اور پُرعزم مجاہدین اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
صہیونی رجیم اس حملے کو اپنی “فتح” اور “اہم کارنامہ” قرار دے رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حملے اس طویل اور غیر انسانی محاصرے، غزہ کی فضا، پانی اور زمین پر کنٹرول، روزانہ کی بے رحمانہ قتل و غارت، گھروں کی تباہی اور فلسطینی سرزمین پر مسلسل قبضے کے خلاف فلسطینی مزاحمت کے جائز، مقدس اور انسانی ردِعمل کا جواب ہیں۔
7 اکتوبر 2023 کے طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد سے صہیونی رجیم نے غزہ میں انسانی تاریخ کے بدترین اور سفاک جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ہزاروں بچوں، خواتین، ڈاکٹروں، اساتذہ اور بزرگوں کو شہید کیا، ہسپتالوں، سکولوں، مساجد اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا، مگر غزہ کے عوام اور مجاہدین کی مزاحمتی عزم آج تک نہیں ٹوٹا۔
غزہ کے بہادر اور صابر عوام نے گزشتہ ڈھائی برسوں میں بے مثال صبر، استقامت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے۔ موت، خونریزی، مکمل تباہی، قحط، پانی و بجلی کی عدم دستیابی اور ہر قسم کے نفسیاتی و جسمانی دباؤ کے باوجود ان کی مزاحمتی روح روز بروز مزید مضبوط اور طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ آج غزہ کی مزاحمت پوری دنیا کے مظلوم، محروم اور محکوم عوام کے لیے امید، جرأت اور کامیابی کی ایک عظیم علامت بن چکی ہے۔
حماس ایک اسلامی، قومی، انقلابی اور عوامی مزاحمتی تحریک ہے جو فلسطین کی مکمل آزادی اور امت مسلمہ کے وقار کے لیے اٹھی۔ اس کا عسکری ونگ القسام بریگیڈ اس پوری تاریخی جدوجہد میں مرکزی اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ صرف مسلح جدوجہد، راکٹ حملوں، زمینی کارروائیوں اور سرنگوں کی جنگ تک محدود نہیں، بلکہ سماجی خدمات، امدادی سرگرمیوں، تعلیم، صحت اور عوامی زندگی کی معاونت میں بھی وسیع اور مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
القسام بریگیڈ کے مجاہدین کی بہادری، حکمتِ عملی، اخلاص اور قربانی کی داستانیں آج دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں اور آزادی پسندوں کے لیے امید اور تحریک کا روشن میندار بن چکی ہیں۔ سرنگوں سے لے کر ڈرونز تک، راکٹوں سے زمینی جنگوں تک، اور میڈیا کی جنگ سے عالمی حمایت تک، ان کی جدوجہد اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مضبوط ایمان، متحد ارادہ اور اخلاص ہر قسم کی ٹیکنالوجی اور عسکری برتری کے مقابل کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ مظلوموں کی مزاحمت بالآخر کامیاب ہوتی ہے۔ الجزائر، ویتنام، افغانستان، لبنان اور دیگر مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ قابض قوتیں خواہ کتنی ہی طاقتور، ظالم اور مسلح کیوں نہ ہوں، آخرکار شکست ان کا مقدر بنتی ہے اور تاریخ مظلوموں کے حق میں فتح لکھتی ہے۔
عزالدین حداد تقبلہ اللہ!
آپ کی شہادت قبول ہو۔ آپ کا پاک خون ان شاء اللہ آزادی کے درخت کے لیے بہترین آبپاشی ثابت ہوگا، اور یہ درخت بے شمار تازہ، مضبوط، کامیاب اور بارآور شاخیں پیدا کرے گا۔ امت مسلمہ انہی سے طوفانی مزاحمت کے قافلوں کی پیاس بجھائے گی، اور قدس شریف کی آزادی کی مشعل کبھی بجھنے نہیں پائے گی بلکہ مزید روشن اور بلند ہوتی جائے گی۔

