Site icon المرصاد

فلسطین: استقامت، قربانی اور آزادی کی نوید

فلسطین کی سرزمین دہائیوں سے ظلم و ستم کی آماج گاہ بنا دی گئی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں غزہ پر ہونے والے وحشیانہ اسرائیلی حملوں نے سربریت کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
یہ صرف ایک خطے کی جنگ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانیت کے وقار اور عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔
غزہ کی گلیوں میں ہونے والی جس بمباری میں معصوم بچوں، بے گناہ عورتوں اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، دنیا کے سامنے ایک ایسا بدنما داغ ہے، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔

تاہم اس تمام تر ہولناکی کے باوجود فلسطینی عوام کے آہنی عزم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مادی طاقت کبھی بھی ایمانی قوت اور جذبہِ حریت کو شکست نہیں دے سکتی۔
اس تحریکِ آزادی میں حماس کی قیادت اور عسکری ونگ کا کردار تاریخِ مقاومت کا ایک روشن باب ہے۔ ‘عزالدین حداد’ جیسے کمانڈروں نے جس طرح نامساعد حالات میں دفاعی حکمتِ عملی تشکیل دی اور قابض فوج کے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس نظام کو چیلنج کیا، وہ فوجی ماہرین کے لیے بھی حیران کن ہے۔
حماس جیسی مزاحمتی تحریک نے شدید محاصرے اور مسلسل فضائی حملوں کی ‘نمرودی آگ’ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر چلتے ہوئے جس پامردی کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ عالم کا ایک سنہرا باب ہے۔

اس جدوجہد کے دوران ‘عزالدین حداد’ جیسے بہادر کمانڈروں کی شہادتیں امتِ مسلمہ کے لیے بظاہر ایک بڑا صدمہ ہیں، لیکن حقیقت میں یہ قربانیاں تحریکِ مقاومت کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہیں۔
لیکن یہ خون تحریک کو وہ توانائی فراہم کرتا ہے، جو کسی بھی مادی اسلحے سے زیادہ طاقت وَر ہے۔ شہداء کی قربانیاں فلسطینی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بنتی ہیں، جو ملبے تلے سے بھی ‘تکبیر’ اور ‘اَحد اَحد’ کی صدا بلند کر کے دنیا کو بتاتے ہیں کہ حق کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

یہ خون مظلوموں کے ارادوں کو مزید جِلا بخشتا اور آنے والی نسلوں کے لیے استقامت کا نشان بن جاتا ہے۔
غزہ کی موجودہ صورتِ حال عالمی طاقتوں کی بے حسی اور بین الاقوامی قوانین کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک طرف جدید ترین اسلحہ اور عالمی پشت پناہی ہے تو دوسری طرف وہ نہتے مجاہدین ہیں، جن کا کل سرمایہ ان کا ایمان، قبلۂ اوّل کا تحفظ اور اپنی مٹی سے وفاداری ہے۔

شدید ترین انسانی بحران اور خوراک، ادویات اور پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کی قلت اور اسرائیل کے غزہ کو خالی کر دینے کے مسلسل دباؤ کے باوجود فلسطینیوں نے اپنی زمین پر مر مٹنے کو ترجیح دی ہے۔
ان کا پیغام واضح ہے کہ "حق کی آواز کو بارود کی آگ میں نہیں جلایا جا سکتا۔”
فلسطینیوں کی یہ جدوجہد صرف زمین کے ایک جغرافیائی ٹکڑے کے لیے نہیں… بلکہ قبلہ اول، مسجدِ اقصیٰ کے دفاع اور اسلامی غیرت کے تحفظ کی جنگ ہے۔

یہ مقام پوری امتِ مسلمہ کے عقیدے کا مرکز ہے، اسی لیے غزہ کی پکار دراصل پورے عالمِ اسلام کے ضمیر پر دستک ہے۔

عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور بین الاقوامی اداروں کی بے بسی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انصاف کے ترازو طاقت وَر کے ہاتھ میں ہیں، تاہم فلسطینیوں نے اپنی ثابت قدمی سے واضح کیا ہے کہ اخلاقی برتری ہمیشہ مظلوم کے پاس ہوتی ہے۔
غزہ کے ملبے سے اٹھنے والی پکار دراصل پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک پیغامِ بیداری ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ عزت کی زندگی ہمیشہ قربانی کی طلب گار ہوتی ہے۔

فلسطین کے شہداء نے اپنے لہو سے یہ حقیقت لکھ دی ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، حق کا سورج طلوع ہو کر رہتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً مسلم امت اپنی خاموشی توڑے اور انسانی حقوق کے علم بردار محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔
فلسطینی عوام کی یہ عظیم قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی۔ کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم موت کو زندگی پر ترجیح دینے لگے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے غلام نہیں رکھ سکتی۔

جب مستقبل کا مورخ فلسطین کی تاریخ لکھے گا تو وہ ایک طرف جدید دور کے فرعونوں کی درندگی کا ذکر کرے گا اور دوسری طرف ان جری مقتدر شخصیات اور عوام کا ذکر کرے گا، جنہوں نے اپنے لہو سے آزادی کی شمع روشن رکھی۔
یہ محض ایک جنگ نہیں… بلکہ باطل کے خلاف حق کی وہ پکار ہے، جو تب تک خاموش نہیں ہوگی، جب تک فلسطین کے افق پر آزادی کا سورج طلوع نہیں ہو جاتا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطین کے شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کی قربانیاں قبول فرمائے، زخمیوں کو شفائے کاملہ کے ساتھ ساتھ ان کی غیبی مدد فرمائے اور اس مظلوم قوم کو وہ صبحِ آزادی نصیب کرے، جس کا خواب انہوں نے آٹھ دہائیوں سے اپنی آنکھوں میں سجا رکھا ہے۔

Exit mobile version