Site icon المرصاد

فلسطین اور تلوار!

اسلام اور مسلمانوں کے قبلۂ اوّل کی آزادی آج عرب و عجم کی طاقت و قوت سے بالاتر ایک مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ کئی دہائیوں سے بیت المقدس کے اندر ایسا عزم، مزاحمت اور قوت ابھر کر سامنے آئی ہے کہ ماضی کی طرح یہود، صلیبی، نام نہاد مسلمان اور صہیونی سب اس کے مقابلے میں متحد ہو رہے ہیں۔ اسی قوت اور اقصیٰ کی آزادی کے نام کے سامنے ہمیشہ کی طرح کفر کی گھنٹیاں بج اٹھی ہیں اور یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ: یا انہیں (فلسطین) چنو یا ہمیں۔

اسی اعلان اور شور نے نام نہاد مسلمانوں کو اس قدر مرعوب کر دیا کہ انہوں نے غزہ کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف صرف خاموشی ہی اختیار نہیں کی، بلکہ پورے کفر و باطل کے وحشیانہ مظالم کا دفاع بھی کیا۔ غزہ میں بھوک اور پیاس آئی، مگر انہی مسلمانوں نے نہ پانی دیا اور نہ خوراک، بلکہ اُمت کے حق کے لیے آواز اٹھانے والوں اور مجاہدین کو “دہشت گرد” کے القابات سے نوازا۔

جب اُمت قابضین کی سفاکیوں سے مایوس ہو گئی تو ایک ایسی طویل جدوجہد اور مزاحمت کی بنیاد رکھی گئی جسے دبانے اور روکنے کے لیے پورا کفر میدان میں اتر آیا۔ غزہ کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیا گیا، مگر اُمت کے ان مخلص اور بہادر مجاہدین نے کبھی بھی اپنی ظاہری مشکلات کو جنگ اور مزاحمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا، بلکہ اپنی حیران کن استقامت سے کفار اور صہیونیوں کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ وہ انہی سے اپنے تحفظ کی ضمانت مانگیں۔

یہ فلسطینی مزاحمت اور جہاد کی قوت کا اظہار ہے، جس نے ماضی کی طرح اہلِ ایمان کی طاقت کو وقت کے غلاموں اور ایمان فروشوں کے سامنے نمایاں کر دیا۔ ہم زمانے کا وہ لشکر ہیں جس کی تلوار ایمان کی چمک سے کفر کے قلعوں اور حصاروں کو توڑ رہی ہے۔ آج اسی لیے پوری اُمت کی تلوار کا لقب فلسطین کو دیا جا رہا ہے، اور وہ بیت المقدس یعنی قبلۂ اوّل کے قرض کی ادائیگی میں تمام کفر کے مقابل کھڑا ہے۔

تاریخ کے تسلسل میں امت مسلمہ کبھی بھی خالد بن ولیدؓ اور صلاح الدین ایوبی جیسے جانبازوں سے خالی نہیں رہی۔ شہید یحییٰ سنوار سے لے کر عزالدین حداد تک، یہ ان قربانیوں کی یاد دہانی ہے جن پر نورالدین زنگی نے خود کو قربان کیا، مگر اُمت کی غیرت، ارادہ اور جذبے کو زندہ رکھا۔ آج حداد کی شہادت بھی تاریخ کے طویل سفر میں ہماری انہی قربانیوں کی ایک تکرار ہے۔ یہی تکرار ہمیں مضبوط بناتی ہے، اور قربانیوں کا یہی تسلسل ہمیں صہیونیوں، یہود اور صلیبیوں کے مقابل متحد اور بیدار رکھتا ہے۔

شہید عزالدین حداد کا اس صف سے رخصت ہونا ایک بڑا نقصان ہے، جس کے بعد ہم خود کو یتیمی کے احساس میں مبتلا پاتے ہیں، مگر ہم کبھی بھی صہیونیوں اور یہود کے سامنے اس وقت تک مٹ نہیں سکتے جب تک بیت المقدس باقی ہے۔ جب تک وہ موجود ہے، ہم بھی موجود رہیں گے۔ ہم اسی طرح شہادت، بہادری اور ایثار کی تاریخ دہراتے رہیں گے۔ یہ تکرار ہمیں تھکائے گی نہیں، بلکہ بہت سے کفار اور باطل کے پیروکاروں کو تلوار کی دھار پر لے آئے گی۔

یہی اُمت کے مجاہد لشکروں اور صفوں کا راز ہے کہ مجاہد اگرچہ کم تعداد میں شہید ہوتے ہیں، مگر کفار اور باطل کے پیروکار اس طرح مٹتے ہیں کہ میدانوں کی وسعت بھی ان کے لیے تنگ پڑ جاتی ہے۔ فلسطین کی جہادی مزاحمت کبھی کمزور یا ختم نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ وہ سرزمین ہے جہاں خالدؓ اور صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم کرداروں کے نقوش اور وارث موجود ہیں۔ جس زمین پر اُمت کے بہادروں کے قدم پڑ چکے ہوں، وہاں مسلمان قوم کا مٹ جانا ناممکن ہے۔ ہم بھی رہیں گے اور قبلۂ اوّل بھی باقی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ شہید عزالدین حداد کی شہادت قبول فرمائے۔ آمین

Exit mobile version