Site icon المرصاد

فوجی رجیم: دوغلی سیاست کی سب سے بڑی قربانی

علاقائی سیاست میں کچھ قوتیں اپنا مؤقف عقل، معیشت اور قومی استحکام کی بنیاد پر قائم کرتی ہیں، جبکہ بعض دیگر طاقتوں کی رقابت کے میدان میں کرائے کی بازیوں کا حصہ بن جاتی ہیں۔ پاکستانی فوجی رجیم نے دہائیوں سے خود کو اسٹریٹجک اہمیت کے ایک ناگزیر محور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر عالمی بحران کے موقع پر اس نے اپنی سرزمین کو دوسروں کی جنگوں کا میدان بنایا۔

امریکہ اور ایران جس بھی نتیجے تک پہنچیں، چاہے مذاکرات ہوں، سیاسی مفاہمت ہو یا مزاحمت کے میدان میں امریکہ کی پسپائی، دونوں صورتوں میں واشنگٹن اُن علاقائی کرداروں سے ضرور حساب لے گا جنہوں نے بحرانوں کو گہرا کرنے اور دوغلی پالیسیوں میں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم وہی ادارہ ہے جس نے ہمیشہ جنگوں سے فائدہ اٹھایا، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام لے کر، کبھی اسٹریٹجک اتحادی ہونے کا دعویٰ کر کے اور کبھی قربانیوں کی داستانیں دنیا کو سنا سنا کر، لیکن عالمی طاقتیں ضرورت ختم ہونے کے بعد اپنے کرائے کے کرداروں سے لازماً لیتی ہیں۔

پاکستانی فوجی رجیم نے برسوں سے اپنی بقا کو بحرانوں کے انتظام سے جوڑ رکھا ہے، جنگوں کو برقرار رکھنا، آگ کے شعلوں کے قریب رہنا اور عدمِ تحفظ کی فضا سے سیاسی و اقتصادی فوائد حاصل کرنا اس کی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ وہ کردار جو اپنی بقا کو دوسروں کے تنازعات سے باندھتے ہیں، بالآخر انہی تنازعات کی سب سے بڑی قربانی بن جاتے ہیں۔

آج پاکستانی فوجی رجیم اس حالت کو پہنچ چکی ہے جیسے ایک چھوٹی سی چیونٹی ہاتھیوں کی لڑائی کے بیچ خود کو ڈال دے۔ جب بڑی طاقتیں ٹکراتی ہیں تو کمزور اور محتاج کھلاڑی سب سے پہلے دباؤ کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسلام آباد شاید یہ سمجھتا تھا کہ وہ بیک وقت امریکہ، چین، خلیج اور خطے کے درمیان کئی کھیل کھیل سکتا ہے، مگر عالمی سیاست جذبات نہیں بلکہ مفادات کا میدان ہے۔ جب مفادات بدلتے ہیں تو کل کی دوستی بھی چند گھنٹوں میں دباؤ اور تحقیر میں بدل جاتی ہے۔

وہ مناظر جو پاکستانی حکام کے بیرونی دوروں کے دوران دنیا نے دیکھے، محض سکیورٹی طریقۂ کار نہیں تھے بلکہ ایک کمزور عالمی حیثیت کی عکاسی تھے۔ وہ رجیم جو برسوں خود کو ایٹمی طاقت، مضبوط فوج اور اہم جیوپولیٹیکل کھلاڑی کے طور پر پیش کرتی رہی، آج اس کے رہنما شک، عدم اعتماد اور تحقیر کے سائے میں گھوم رہے ہیں۔ یہ کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں کی متضاد اور دوغلی پالیسیوں کا حاصل ہے۔

پاکستانی فوجی رجیم نے ہمیشہ داخلی ناکامیوں کا بوجھ بیرونی حالات پر ڈالنے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ معیشت کی زبوں حالی، سیاسی عدم استحکام، انتہاپسندی کا پھیلاؤ اور عالمی اعتماد میں کمی انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ دنیا اب وہ پرانی دنیا نہیں رہی کہ ہر چیز کو “ضرورت” کے نام پر قبول کر لیا جائے، اب ممالک کو استحکام، دیانت داری اور واضح مؤقف کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔

اگر کل امریکہ ایران کے ساتھ مفاہمت کر لیتا ہے تو واشنگٹن خطے میں ایک نیا نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گا، اور اس نظام میں مشکوک اور دوغلے اتحادیوں کے لیے جگہ محدود ہوگی۔ اور اگر امریکہ مزاحمت کے باعث پسپائی پر مجبور ہوتا ہے تو بھی اپنی ناکامی اور غصہ اُن کرداروں پر نکالے گا جنہوں نے اس کی حکمتِ عملی میں غلط کردار ادا کیا۔ دونوں صورتوں میں پاکستانی فوجی رجیم ایک نئی اور سخت دباؤ کی لہر کا سامنا کر سکتی ہے۔

اس وقت پاکستان کے اندر معاشی بحران، سیاسی اختلافات اور سکیورٹی مسائل اس مستقبل کی نشانیاں ہیں جو مزید تلخ ہو سکتا ہے۔ ایک ایسی رجیم جو اپنی قوم کو علم، صنعت اور ترقی کے بجائے سکیورٹی کھیلوں کی فلسفہ دیتی ہے، آخرکار انہی کھیلوں کا شکار بن جاتی ہے۔

تاریخ طاقتوں کی جنگوں کے ملبے سے بھری پڑی ہے، مگر سب سے دردناک انجام اُن کرداروں کا ہوتا ہے جو اپنی شناخت دوسروں کی جنگوں کے سائے میں تلاش کرتے ہیں۔ اگر پاکستانی فوجی رجیم اب بھی علاقائی بحرانوں کے حل کے بجائے ان کے کاروبار میں مصروف رہی تو اس کا مستقبل مزید سخت، بوجھل اور تنہائی سے بھرپور ہوگا۔ قومیں بندوقوں کی گھن گرج سے نہیں بلکہ فکر، معیشت، علم اور اسلامی و قومی وقار کی طاقت سے زندہ رہتی ہیں۔ جو رجیم اپنی سیاست کو آگ کے شعلوں سے گرم رکھتی ہیں، ایک دن یہی شعلے ان کے دروازوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

Exit mobile version