Site icon المرصاد

متکبر قوت کی شکست اور ایرانی قوم کے استقامت و مزاحمت کی فتح!

دورِ حاضر میں جب دنیا یک قطبی نظام کی اجارہ داری سے نکلنے کے مرحلے میں ہے، ہم ایسے سیاسی رجحانات کے چشم دید گواہ ہیں جنہوں نے مغرب، خصوصاً فرعون صفت امریکہ کی “تکبر اور بالادستی کی منطق” کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ منطق، جو صرف عسکری طاقت، اقتصادی پابندیوں اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت پر قائم ہے، آج خطے کی اقوام کی بے مثال مزاحمت کے باعث اپنی تاثیر کھو چکی ہے۔

اسی تناظر میں، امریکی صدر کی جانب سے ایران کے لیے جاری کاردہ آخری الٹی میٹم بھی اپنے اختتامی لمحات میں ایک شرمناک ناکامی کے ساتھ ختم ہوا۔ وہ دھمکیاں جنہوں نے خطے میں بڑی تبدیلی کی فضا پیدا کر دی تھی، ایک بار پھر سفارتی تغیرات کے بھنور میں ڈوب گئیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف فرعون صفت امریکہ کے متکبرانہ رنگ کو ماند کر دیا بلکہ عالمی سطح پر یہ سوال بھی دوبارہ اٹھا دیا کہ آیا سخت الٹی میٹم کی پالیسی اب بھی مؤثر ہے یا یہ محض ایک اور کھیل کا آغاز ہے جس کا انجام صرف زبانی تنازعات تک محدود رہتا ہے۔

ایرانی قوم کی گزشتہ چند دہائیوں کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ بیرونی دباؤ اور ظالمانہ پابندیوں کے مقابل ڈٹ جانا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ اگرچہ امریکہ نے مختلف بہانوں سے ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے اور اس کے عزم کو کمزور کرنے کی کوشش کی، مگر اس قوم نے اپنی سیاسی خودمختاری اور قومی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ “دباؤ کی منطق” ان لوگوں پر کارگر نہیں ہوتی جو جرات اور مزاحمت کی ثقافت رکھتے ہوں۔ امریکہ کی “سیاسی دباؤ کی منطق” اور متکبرانہ بے بنیاد دعوے ناکام ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ اپنی مرضی اور منطق دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، مگر ایرانی قوم نے دکھا دیا کہ دنیا کے فیصلے صرف وائٹ ہاؤس میں نہیں ہوتے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے، امارت اسلامیہ افغانستان نے ایک ذمہ دار اور خودمختار نظام کے طور پر ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کے مسائل کو مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے حل کیا جائے، نہ کہ بیرونی طاقتوں کے اکسانے پر۔ امارت اسلامیہ کا یہ مؤقف، جو ہمسایہ ممالک کے استحکام کی حمایت کرتا ہے اور مغربی قوتوں کی تفرقہ انگیز پالیسیوں کو رد کرتا ہے، ایک حقیقی اسلامی اور خودمختار پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم دوسری جانب، ایران اور افغانستان کے خودمختار مؤقف کے برعکس، بدقسمتی سے پاکستان کا فوجی اثر و رسوخ والی رجیم ایک ایسے بحران کا شکار ہے جس کی جڑیں “پراکسی سیاست” میں پیوست ہیں۔ اس کی نمایاں مثال پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے حالیہ اقدامات، بالخصوص وہ ٹویٹ ہے جو ابتدا میں غیر شعوری طور پر ایک مخصوص انداز میں جاری ہوئی اور بعد ازاں فوری طور پر بیرونی ہدایات کے مطابق اس میں تبدیلی کی گئی۔ اس ٹویٹ نے واضح کر دیا کہ مذکورہ ملک کا سیاسی مقدر اسلام آباد میں نہیں بلکہ دیگر ممالک کے دارالحکومتوں میں طے کیا جاتا ہے۔

اس قسم کی “دستور شدہ سیاست” دراصل ایک قوم کی خودمختاری کے سلب ہونے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے فوجی اثر و رسوخ والی رجیم کی جانب سے سیاسی تبدیلیوں کا انتظام اور بیرونی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے قومی مفادات کی قربانی وہ عوامل ہیں جنہیں آج خطے کی سطح پر تنقید کا سامنا ہے اور جو پراکسی سیاست کی ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔

Exit mobile version