Site icon المرصاد

محمد گورن اور اس کے ساتھیوں کو بلوچستان میں یورپ اور علاقائی ممالک پر حملوں کے لیے بھرتی کیا گیا تھا۔

گرفتار ہونے والا ترک داعشی بلوچستان کے اُس مرکز میں تربیت حاصل کرچکا تھا جہاں یورپ اور خطے کے ممالک میں حملے کرنے کے لیے غیر ملکی افراد کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔

ترک میڈیا نے گزشتہ روز پیر کو رپورٹ جاری کی ہے کہ ترکی کی انٹیلی جنس نے محمد گورن نامی ایک ترک شہری کو افغانستان – پاکستان فرضی سرحدی پٹی کے قریب سے گرفتار کرکے ترکی منتقل کردیا ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد گورن کا عرفی نام ’’یحییٰ‘‘ تھا۔ اس نے پاکستان میں داعش کے مراکز میں تربیت حاصل کی تھی اور افغانستان، پاکستان، ترکی اور یورپ میں خودکش حملے کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ ترکی سے پاکستان تک بھرتی کیے گئے افراد کی منتقلی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا، پاکستان میں داعش کے تربیتی کیمپوں پر ہونے والے حملوں میں زندہ بچ گیا تھا اور بعد ازاں روپوش ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

المرصاد نے محمد گورن کے بارے میں اپنے ذرائع سے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جو اس سے قبل شائع نہیں ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق محمد گورن کو ’’ابو عمر ترکی‘‘ نامی شخص نے داعشی خوارج میں شامل کیا تھا۔ وہ ترکی سے پہلے ایران اور پھر وہاں سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان پہنچا، جہاں اس نے داعش کے تربیتی مراکز کا رخ کیا اور تقریباً چھ ماہ تک تربیت حاصل کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اُس تربیتی مرکز میں محمد گورن کے ساتھ ترک اور آذربائیجانی شہریوں کے علاوہ تاجکستانی، پاکستانی اور ایرانی باشندے بھی زیرِ تربیت تھے۔

المرصاد کے ذرائع کے مطابق جس مرکز میں یحییٰ نے تربیت حاصل کی، وہاں بنیادی طور پر غیر ملکی شہریوں کو اس مقصد کے لیے تیار کیا جاتا تھا کہ وہ یورپی ممالک، وسطی ایشیا اور ایران میں حملے سرانجام دیں۔ بعض افراد تربیت مکمل کرنے کے بعد اپنے اپنے ممالک واپس بھی لوٹ چکے ہیں۔

ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے اندر داعش کے مراکز میں تربیت یافتہ غیر ملکی عناصر اور وہ افراد جو تربیت کے بعد اپنے ممالک واپس جا چکے ہیں، ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہیں۔ جب تک پاکستان میں داعش کے یہ مراکز فعال رہیں گے، یہ خطرہ مزید پھیلتا چلا جائے گا۔

Exit mobile version